سعودی عرب سے پاکستان کو بڑی مدد: آئی ایم ایف قسط ملنے کی راہ ہموار
اشاعت کی تاریخ: 22nd, March 2025 GMT
سعودی عرب سے پاکستان کو ایک ارب 20 کروڑ ڈالر کا پیٹرول مؤخر ادائیگوں پر ملنا شروع ہو گیا جس سے آئی ایم ایف کی اگلی قسط ملنے کی راہ ہموار ہو گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: وزیراعظم شہباز شریف اور سعودی ولی عہد کی ملاقات، پاکستان سعودی عرب شراکت داری کو نئی بلندیوں تک پہنچانے کے عزم کا اعادہ
سینیئر صحافی مہتاب حیدر نے وی نیوز کے ساتھ ایک انٹرویو میں بتایا کہ مارچ کے مہینے سے ہی سعودی عرب کی جانب سے پاکستان کو 100 ملین ڈالر ماہانہ کی آئل فیسیلیٹی ملنا شروع ہو گئی ہے جو اگلے سال فروری تک ہر ماہ دستیاب ہو گی جس کی کل مالیت ایک ارب 20 کروڑ ڈالر ہے۔
مہتاب حیدر کا کہنا تھا کہ سعودی سہولت سے آئی ایم ایف کی اگلی قسط جلد ملنے کی راہ ہموار ہو گئی ہے کیونکہ عالمی مالیاتی ادارے نے پاکستان سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ دوست ممالک سے ڈالرز کی سہولت حاصل کرے۔
انہوں نے کہا کہ سعودی عرب سے ریکوڈک کے لیے سرمایہ کاری اگلے بجٹ سے پاکستان کو ملنے کا امکان ہے جس سے ملک میں سرمایہ کاری کا ماحول سازگار ہو گا۔
مزید پڑھیے: سعودیہ کا پاکستان کو مؤخر ادائیگی پر 10 کروڑ ڈالر کی ماہانہ پیٹرولیم مصنوعات فراہمی جاری رکھنے کا فیصلہ
ان کا کہنا تھا کہ اس طرح کی سرمایہ کاری سے پاکستان کو متعدد فوائد حاصل ہوں گے اور مزید سرمایہ کاری ملک میں لانے کی راہ ہموار ہو گی۔
چینی کی قیمت مزید بڑھنے کا امکان؟مہتاب حیدر کا کہنا تھا کہ حکومتی ایجنسیوں اور اداروں کے پاس ثبوت موجود ہیں کہ پاکستان میں شوگر انڈسٹری چینی کی قیمت کو 220 روپے فی کلو تک لے جانا چاہتی تھی اس وجہ سے مداخلت کرکے چینی کی قیمت 165 روپے فی کلو طے کی گئی۔
تاہم ان کا کہنا تھا کہ موجودہ حکومت کی جانب سے گزشتہ سال چینی کی ایکسپورٹ کی اجازت دینے سے ملک میں چینی کی قیمت 135 روپے سے بڑھ کر 180 روپے فی کلو تک ہو گئی تھی۔
مہتاب حیدر کا کہنا تھا کہ ملکی معیشت بہت بہتر تو نہیں ہوئی لیکن پہلے سے بہتر ہو چکی ہے جس کے واضح اشارے ملک کے زرمبادلہ کے ذخائر اور مہنگائی کی شرح میں کمی سے ملتے ہیں اور اسٹاک مارکیٹ بھی بہتر ہو رہی ہے۔
تاہم ان کا کہنا تھا کہ ابھی بھی شرح نمو نہیں بڑھی جس کی وجہ سے بہتری کے اثرات عوام تک نہیں پہنچ رہے۔
مزید پڑھیں: بجلی اور پیٹرول کی قیمت میں حیرت انگیز کمی، شہباز شریف کے لیے خوشخبری
مہتاب حیدر نے بتایا کہ پراپرٹی سیکٹر کے حوالے سے ٹیکس کی کمی کا پیکج آئی ایم ایف کی منظوری کے بعد اگلے بجٹ میں پیش ہونے کا امکان ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
آئی ایم ایف پیٹرول سعودی عرب مؤخر ادائیگی پر پیٹرول.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ا ئی ایم ایف پیٹرول کا کہنا تھا کہ سے پاکستان کو کی راہ ہموار چینی کی قیمت سرمایہ کاری آئی ایم ایف مہتاب حیدر ہو گئی
پڑھیں:
چینی چڑیا گھر میں جانور گرمی کی شدید لہر سے کیسے محفوظ رہتے ہیں؟
چین کے جنوب مغربی شہر چونگ چنگ میں شدید گرمی کے پیش نظر چونگ چنگ چڑیا گھر نے جانوروں کو محفوظ اور آرام دہ رکھنے کے لیے خصوصی انتظامات کیے ہیں۔ پانڈا، ہاتھی، دریائی گھوڑوں اور دیگر جانوروں کو ٹھنڈے پانی، پھلوں اور جدید کولنگ سسٹمز کے ذریعے گرمی سے بچانے کی کوششیں جاری ہیں۔
سرکاری خبر رساں ادارے شِنہوا کے مطابق چونگ چنگ چڑیا گھر میں دیوقامت پانڈا، ہاتھی، دریائی گھوڑے اور دیگر جانوروں کو شدید گرمی سے بچانے کے لیے ٹھنڈے پانی کے تالاب، مصنوعی بارش (مسٹنگ سسٹم)، سایہ دار مقامات اور خصوصی خوراک کا انتظام کیا گیا ہے۔
چڑیا گھر میں موجود دیوقامت پانڈا دن کے گرم اوقات میں پانی کے تالابوں میں وقت گزار رہے ہیں، جبکہ ان کے باڑوں میں مسلسل پانی کی باریک پھوار چلائی جا رہی ہے تاکہ درجہ حرارت کم رکھا جا سکے۔
اسی طرح دریائی گھوڑوں اور ہاتھیوں کو جسمانی درجہ حرارت متوازن رکھنے کے لیے تربوز اور دیگر پانی سے بھرپور پھل کھلائے جا رہے ہیں، جبکہ ان کے لیے نہانے اور پانی میں رہنے کے اضافی انتظامات بھی کیے گئے ہیں۔
ماہرین کے مطابق پانڈا نسبتاً ٹھنڈے موسم کے جانور ہیں اور شدید گرمی ان کی صحت، خوراک اور روزمرہ سرگرمیوں پر منفی اثر ڈال سکتی ہے۔ اسی وجہ سے چین کے مختلف چڑیا گھروں میں موسمِ گرما کے دوران کولنگ سسٹمز، برف کے بلاکس، ایئر کنڈیشنڈ انڈور حصوں اور پانی سے بھرپور غذا کا استعمال معمول کا حصہ بن چکا ہے۔
چونگ چنگ چین کے گرم ترین شہروں میں شمار ہوتا ہے، جہاں موسمِ گرما میں درجہ حرارت اکثر 40 ڈگری سینٹی گریڈ کے قریب یا اس سے بھی زیادہ پہنچ جاتا ہے۔ حالیہ برسوں میں شدید گرمی کی لہروں کے باعث مقامی انتظامیہ نے نہ صرف شہریوں بلکہ جنگلی اور قید جانوروں کے تحفظ کے لیے بھی خصوصی منصوبے نافذ کیے ہیں۔
چڑیا گھر کی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ موسمِ گرما کے دوران جانوروں کی صحت کی مسلسل نگرانی کی جا رہی ہے اور ضرورت کے مطابق ان کے ماحول، خوراک اور طبی نگہداشت میں تبدیلیاں کی جاتی ہیں تاکہ شدید گرمی کے باوجود انہیں کسی قسم کی تکلیف یا صحت کے خطرات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں