کراچی:

مصطفی عامر قتل کیس کے مرکزی ملزم ارمغان کے والد نے پولیس پر تشدد کا الزام عائد کردیا جب کہ اپنے ہی وکیل نے اسے ذہنی مریض بھی قرار دے دیا۔

جوڈیشل مجسٹریٹ جنوبی نے مصطفیٰ عامر قتل کیس کے مرکزی ملزم ارمغان کے والد کامران قریشی کو 2 روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کر دیا۔

سینٹرل جیل جوڈیشل کمپلیکس میں جوڈیشل مجسٹریٹ جنوبی نمبر 9 کی عدالت کے روبرو غیر قانونی اسلحہ اور منشیات برآمدگی کیس کی سماعت ہوئی، جس میں پولیس نے ملزم کامران اصغر قریشی کو عدالت میں پیش کیا۔

عدالت نے ملزم سے استفسار کیا کہ پولیس نے آپ پر تشدد کیا ہے؟ جس پر ملزم نے بتایا کہ میرے جسم کے نازک حصوں پر تشدد کیا گیا ہے، لیکن میں یہاں پینٹ نہیں اتاروں گا۔

جج نے عدالتی عملے کو ہدایت کی کہ ملزم کو چیمبر میں لے جاکر معائنہ کیا جائے، جس پر عدالتی عملے نے کہا کہ ملزم کے جسم پر ذرا بھی چوٹ کا کوئی نشان نہیں، جب کہ سرکاری وکیل شکیل عباسی نے کہا کہ ملزم سے اسلحہ کی سپلائی اور منشیات کی سپلائی سے متعلق معلومات کرنی ہیں، جو انویسٹی گیشن پولیس کا حق ہے۔ ملزم انتہائی شاطر ہے، تفتیش میں تعاون نہیں کررہا۔

سرکاری وکیل نے عدالت کو بتایا کہ ملزم نے پراسیکیوشن، ججز اور میڈیا والوں کو بھی دھمکیاں دیں۔ ملزم نے مصطفیٰ عامر کے قتل کے بعد اپنے بیٹے کو روپوش ہونے کا کہا تھا۔ ملزم سوشل میڈیا پر دھمکیاں دیتا ہے، یہ سب چیزیں ریکارڈ پر ہیں۔

وکیل صفائی خرم عباس اعوان ایڈووکیٹ نے مؤقف دیا کہ ملزم کو 18 مارچ کو گھر کے باہر سے گرفتار کیا گیا تھا۔ ملزم کا بیٹا گرفتار ہے، ملزم اپنے بیٹے کا دفاع کررہا تھا۔ کیس کا کوئی پرائیویٹ گواہ نہیں ہے۔ اس موقع پر پراسیکیوشن نے کیس پراپرٹی عدالت میں پیش کردی۔

ملزم کامران قریشی نے عدالت میں بیان دیا کہ جو مقدمہ درج کیا گیا ہے، اس کی ایف آئی آر نہ مجھے پڑھائی گئی نہ دکھائی گئی ہے۔ مجھے 18 مارچ کو گرفتار کیا گیا۔ میں نے 15 پر بھی کال کی تھی۔ میرے گھر کا دروازہ توڑا گیا ہے، میرا ملازم بھی موجود تھا مگر اب پتا نہیں وہ کہاں ہے۔

دورانِ سماعت وکیل صفائی نے مؤقف اپنایا کہ ہزار دفعہ ایجنسیاں ملزم کے گھر جاچکی ہیں، کچھ نہیں ملا۔

عدالت نے ریمارکس دیے کہ ملزم کو ایف آر کی کاپی دی جائے اور طبی معائنہ کرایا جائے۔ عدالت نے ملزم کو 2 روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کردیا اور ملزم کو اپنے وکیل سے ملاقات کی بھی اجازت دی۔

ملزم کے وکیل خرم عباس ایڈووکیٹ نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ میرے موکل کو جان بوجھ کر پھنسایا جارہا ہے جس کا ثبوت پراسیکیوشن عدالت میں دے چکی ہے۔ اگر درست انویسٹی گیشن کی جائے اور سی ڈی آر رپورٹ سامنے لائی جائے تو پتا چل جائے گا کہ گرفتاری کہاں سے ہوئی۔ ملزم دماغی مریض ہے لیکن اس کا یہ ہر گز مطلب نہیں آپ اسے 10 مقدمات میں فٹ کریں۔

Tagsپاکستان.

ذریعہ

ذریعہ: Al Qamar Online

کلیدی لفظ: پاکستان عدالت میں کیا گیا کہ ملزم ملزم کو

پڑھیں:

کراچی: کیماڑی میں 6 سالہ بچی کے اغوا اور قتل میں ملوث مرکزی ملزم مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاک

کراچی کے ساحلی علاقے کیماڑی میں پولیس نے ایک 6 سالہ بچی کے اغوا اور سفاکانہ قتل میں ملوث مرکزی ملزم کو مبینہ پولیس مقابلے کے دوران ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

پولیس ترجمان کے مطابق یہ پیش رفت جیرکسن  تھانے کی حدود میں پیش آئی، جہاں مبینہ ملزم کی موجودگی کی اطلاع پر پولیس پارٹی نے مبارک مسجد کے قریب چھاپہ مارا۔ پولیس کو دیکھتے ہی ملزم نے اہلکاروں پر براہِ راست فائرنگ شروع کر دی، جس پر پولیس نے بھی جوابی فائرنگ کی۔ اس تبادلے میں ملزم گولی لگنے سے شدید زخمی ہوا اور بعد میں دم توڑ گیا۔

یہ بھی پڑھیں: کمسن بچی کے قتل کیس میں مجرم کی اپیل مسترد، سزائے موت برقرار

تفتیشی حکام کا کہنا ہے کہ ملزم تک رسائی مختلف علاقوں کی سی سی ٹی وی فوٹیج کی تفصیلی جانچ پڑتال اور دیگر تکنیکی و جغرافیائی شواہد کی مدد سے ممکن ہوئی۔ اس سے قبل، معصوم بچی کی لاش منوہرہ کے قریب جھاڑیوں سے برآمد ہوئی تھی۔

 پولیس سرجن ڈاکٹر سمیہ سید نے میڈیکو لیگل کا جائزہ لینے کے بعد تصدیق کی کہ بچی کو بدترین جنسی تشدد اور جسمانی تشدد کا نشانہ بنایا گیا ہے، جبکہ اس کے پورے جسم پر تشدد کے واضح نشانات موجود ہیں۔ بچی کی موت کی حتمی وجہ کا تعین فارنسک لیبارٹری کو بھیجے گئے نمونوں کی رپورٹ آنے کے بعد کیا جائے گا۔

یہ بھی پڑھیں: پشاور: 8 سالہ بچی مبینہ زیادتی کے بعد قتل، لاش ہمسائے کے صندوق سے برآمد

پولیس کے مطابق جیرکسن تھانے میں پہلے ہی بچی کے اغوا اور قتل کے حوالے سے پاکستان پینل کوڈ کی دفعات 364-A اور 302 کے تحت مقدمہ (FIR No. 265/2026) درج تھا۔ اب پولیس مقابلے کا ایک الگ کیس بھی اسی تھانے میں درج کیا جا رہا ہے اور کرائم سین کو سیل کر کے تمام سائنسی و فارنسک ثبوت تحویل میں لے لیے گئے ہیں۔

اس واقعے سے چند ہی دن قبل بھی کراچی میں 6 سالہ بچے کے اغوا، زیادتی اور قتل کے الزام میں ایک 20 سالہ نوجوان کو گرفتار کیا گیا تھا، جس کی لاش بوری میں بند کر کے ویران پلاٹ پر پھینکی گئی تھی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

we news پولیس مقابلہ زیادتی قتل کراچی کمسن بچی ملزم ہلاک

متعلقہ مضامین

  • کراچی، شہر کے مختلف علاقوں میں پولیس مقابلے، 5 ڈاکو زخمی حالت میں گرفتار
  • کراچی، نوجوان لڑکی کو گھر میں گھس کر اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا، والد کی مدعیت میں مقدمہ درج
  • نرس نے نومولود بچی کے ہاتھ کا انگوٹھا کاٹ دیا، والد نے پولیس میں درخواست دے دی
  • کراچی: زیادتی کی شکار غیرملکی خاتون نے ملزم کو معاف کردیا
  • راولپنڈی میں 14 سالہ فیکٹری ملازم کے ساتھ ’استاد‘ کی بدفعلی، لڑکا اسپتال میں داخل
  • کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم
  • کراچی: کیماڑی میں 6 سالہ بچی کے اغوا اور قتل میں ملوث مرکزی ملزم مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاک
  • عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
  • خیبرپختونخوا؛ کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم
  • کراچی، 7 سالہ بچی کے اغوا اور قتل میں ملوث ملزم مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاک