پاکستان میں ارتھ آور، پارلیمنٹ سمیت اہم سرکاری عمارتوں کی لائٹیں بند کردی گئیں
اشاعت کی تاریخ: 22nd, March 2025 GMT
پاکستان میں ارتھ آور، پارلیمنٹ سمیت اہم سرکاری عمارتوں کی لائٹیں بند کردی گئیں WhatsAppFacebookTwitter 0 22 March, 2025 سب نیوز
اسلام آباد (سب نیوز)زمین سے محبت کے اظہار کیلئے پاکستان میں ارتھ آور کا آغاز ہوگیا۔ارتھ آور کے موقع پر پارلیمنٹ سمیت اہم سرکاری عمارتوں کی لائٹیں بند کردی گئیں۔ ایوان صدر، پارلیمنٹ ہاوس سمیت تمام اہم سرکاری عمارتوں کی غیرضروری لائٹس بند ہیں۔ارتھ آور پر لائٹس ایک گھنٹے کیلئے بند کی گئی ہیں۔
خیال رہے کہ ارتھ آور 2007 میں متعارف کروایا گیا تھا جس کے بعد اسے ہر سال مارچ کے آخر میں ایک مخصوص دن پر منایا جاتا ہے جس کا مقصدکرہ ارض کو ماحولیاتی آلودگی سے بچانے کے حوالے سے شعور اجاگر کرنا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: اہم سرکاری عمارتوں کی ارتھ آور
پڑھیں:
مسجد اقصیٰ کی حرمت پر کوئی سمجھوتہ نہیں، پاکستان سمیت 8 ممالک کے وزرائے خارجہ کا دوٹوک اعلان
پاکستان سمیت آٹھ مسلم ممالک کے وزرائے خارجہ نے مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں اور انتہا پسند عناصر کی حالیہ کارروائیوں کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ ایسے اقدامات نہ صرف مذہبی تقدس کی پامالی ہیں بلکہ پورے خطے میں کشیدگی کو خطرناک حد تک بڑھا رہے ہیں۔
مشترکہ اعلامیے پر پاکستان، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر، مصر، اردن، ترکیہ اور انڈونیشیا کے وزرائے خارجہ نے اتفاق کیا۔ اعلامیے میں کہا گیا کہ مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی اشتعال انگیز کارروائیاں اور اسرائیلی انتہا پسند وزرا و گروہوں کی سرگرمیاں ناقابلِ قبول ہیں اور ان سے خطے میں امن و استحکام کو شدید خطرات لاحق ہو رہے ہیں۔
وزرائے خارجہ نے اس بات پر زور دیا کہ مسجد اقصیٰ کی تاریخی، قانونی اور مذہبی حیثیت کا ہر صورت احترام کیا جانا چاہیے اور اس میں کسی بھی قسم کی یکطرفہ تبدیلی ناقابلِ قبول ہے۔
مشترکہ اعلامیے میں مسجد اقصیٰ کے انتظامی اور مذہبی امور پر اردن کے محکمہ اوقاف کے خصوصی اختیار کا اعادہ کرتے ہوئے عالمی برادری سے مطالبہ کیا گیا کہ اس حیثیت کو برقرار رکھنے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔
اعلامیے میں اسرائیل سے مطالبہ کیا گیا کہ مسلمانوں کو مسجدِ اقصیٰ میں عبادت سے روکنے کا سلسلہ فوری طور پر بند کیا جائے، مذہبی آزادی کا احترام کیا جائے اور ایسے تمام اقدامات سے گریز کیا جائے جو مزید کشیدگی اور تصادم کا سبب بن سکتے ہیں۔