وفاقی وزرا کی ایوان سے غیرحاضری، ڈپٹی اسپیکر نے وزیراعظم اور وزیر پارلیمانی امور کو شکایت کردی
اشاعت کی تاریخ: 24th, March 2025 GMT
ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی سید غلام مصطفیٰ شاہ نے وزیراعظم شہباز شریف اور وفاقی وزیر پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری کو وفاقی وزرا کی ایوان سے غیرحاضری کی شکایت کردی۔
ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی نے وزیراعظم شہباز شریف اور وفاقی وزیر پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری کو خط لکھ کر وفاقی وزرا کے رویے کی شکایت کی ہے۔
یہ بھی پڑھیں وفاقی وزرا اور وزرائے مملکت کی تنخواہوں میں غیرمعمولی اضافہ، کابینہ نے سمری کی منظوری دیدی
خط میں کہا گیا ہے کہ ایوان سے وقفہ سوالات کے دوران وزرا کی غیر حاضری کا تشویش ناک مسئلہ آپ کے سامنے رکھنا چاہتا ہوں۔
انہوں نے خط میں 20 مارچ کو وزارت توانائی اور مواصلات کے وزرا اور پارلیمانی سیکرٹریز کے غائب رہنے کا حوالہ دیا۔
خط میں کہا گیا ہے کہ وفاقی وزرا اور پارلیمانی سیکرٹریز کا ایوان سے غائب رہنا پارلیمانی روایات کی کھلی خلاف ورزی ہے۔
ڈپٹی اسپیکر نے لکھا کہ وزرا کی غیر حاضری سے اہم نوعیت کے عوامی مسائل پر بات نہ ہو سکی، وزرا کی غیر موجودگی کا معاملہ فوری حل طلب ہے۔
خط میں کہا گیا کہ قومی وسائل کے استعمال کے باوجود وزرا کی عدم دلچسپی سے ایوان کی کارروائی کا مقصد پورا نہیں ہو سکتا۔
یہ بھی پڑھیں وفاقی وزرا کا وزیراعلیٰ بلوچستان کے ہمراہ اجلاس، کیا فیصلے ہوئے؟
ڈپٹی اسپیکر سید غلام مصطفیٰ شاہ نے خط میں وزیراعظم شہباز شریف سے مسلئے کے فوری حل کا مطالبہ کیا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews ڈپٹی اسپیکر سید غلام مصطفیٰ شاہ شکایت کردی طارق فضل چوہدری غیرحاضری قومی اسمبلی وزیر پارلیمانی امور وفاقی وزرا وی نیوز.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ڈپٹی اسپیکر سید غلام مصطفی شاہ شکایت کردی طارق فضل چوہدری قومی اسمبلی وزیر پارلیمانی امور وفاقی وزرا وی نیوز وزیر پارلیمانی امور ڈپٹی اسپیکر وفاقی وزرا ایوان سے وزرا کی
پڑھیں:
سابق وفاقی وزیر سردار یار محمد رند کی سفری پابندی کیخلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ
اسلام آباد:اسلام آباد ہائی کورٹ نے سابق وفاقی وزیر سردار یار محمد رند کی سفری پابندی کے خلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ کر لیا۔
جسٹس انعام امین منہاس نے درخواست پر سماعت کی، درخواست گزار کی جانب سے بیرسٹر ظفر اللہ جبکہ اسسٹنٹ اٹارنی جنرل، ایف آئی اے اور امیگریشن حکام بھی عدالت پیش ہوئے۔ عدالتی ہدایت پر بیرسٹر ظفر اللہ نے کوئٹہ پولیس کا خط پڑھا۔
جسٹس انعام امین منہاس نے استفسار کیا کہ متعلقہ پولیس کہہ رہی ہے بندہ نہیں چاہیے، ایف آئی اے کو بھی مطلوب نہیں، جن کو چاہیے تھا ان کو بھی اب نہیں چاہیے، پھر ابھی تک نام کیوں نہیں نکالا؟
ایف آئی اے حکام نے جواب دیا کہ ای سی ایل میں نام نہیں ہے، صرف پی این آئی لسٹ میں نام ہے جو 28 مارچ کو ڈالا گیا۔
عدالت نے استفسار کیا کہ اس لسٹ میں نام کتنے دن کے لیے ہوتا ہے اور کب مکمل ہوئی؟ ایف آئی اے حکام نے بتایا کہ ایک ماہ کے لیے ہوتا ہے اور پھر ایک ماہ کی توسیع لینا ہوتی ہے۔ عدالت نے استفسار کیا کہ زیادہ سے زیادہ 60 روز رکھ سکتے ہیں تو اب جولائی ہے، کتنے ماہ ہوگئے ہیں؟ ایف آئی اے حکام نے بتایا کہ 5 ماہ ہوگئے، ابھی تک ہمیں آفیشلی کوئی اطلاع موصول نہیں ہوئی۔
عدالت نے ایف آئی اے افسر سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ اتنے وقت کیسے آپ رکھ سکتے ہیں، کس قانون کے تحت ابھی تک رکھا ہوا ہے۔ جسٹس راجہ انعام امین نے ریمارکس دیے کہ ایسے کتنے ہی کیسز ہمارے پاس آرہے ہیں، کتنی بار لکھ بھی چکے ہیں، سپریم کورٹ کا فیصلہ بھی ہے۔
عدالت نے سردار یار محمد رند کی سفری پابندی لسٹ سے نام نکالنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کرلیا۔