اسلام آباد:

صدر سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن میاں محمد رؤف عطا نے امیر جے یو آئی مولانا فضل الرحمان سے ملاقات کی جس میں انہوں نے اتفاق کیا کہ بلوچستان کی بگڑتی صورتحال پر وسیع البنیاد قومی اتفاق رائے پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔

سپریم کورٹ بار کے اعلامیے کے مطابق جے یو آئی (ف) بلوچستان کے صوبائی امیر، سینیٹر مولانا عبدالواسع اور صوبائی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف میر یونس عزیز زہری بھی ملاقات میں موجود تھے۔ ملاقات میں بلوچستان ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر، میر عطا اللہ لانگو بھی موجود تھے۔ یہ ملاقات سینیٹر مولانا عبدالواسع کی رہائش گاہ پر ہوئی۔

گفتگو کا محور صوبے میں بگڑتی ہوئی امن و امان کی صورتحال تھی۔ ملاقات میں گفتگو کا محور صوبے میں شدت پسند سرگرمیوں میں اضافہ، سڑکوں کی بندش جیسے مسائل سے معمولات زندگی کے متاثر ہونا تھا۔

صدر سپریم کورٹ بار نے مولانا فضل الرحمان سے  بطور قومی رہنما درخواست کی کہ وہ بلوچستان کے تمام سیاسی و قومی رہنماؤں کو ایک پلیٹ فارم پر متحد کرنے میں فعال کردار ادا کریں تاکہ صوبے کے مسائل کا دیرپا حل نکالا جا سکے اور عوام کے لیے امن و استحکام بحال ہو۔

مولانا فضل الرحمان نے بھی بلوچستان اور مجموعی طور پر ملک میں موجودہ امن و امان کی صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔ مولانا فضل الرحمان نے تنازعات کے حل کے لیے مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی اور بلوچستان میں امن، ترقی اور خوشحالی کے لیے اپنا کردار ادا کرنے کا عزم ظاہر کیا۔

امیر جے یو آئی ف نے پارٹی رہنماؤں، خصوصاً بلوچستان میں موجود قیادت کو ہدایت دی کہ وہ موجودہ صورتحال اور اس کے تجزیے پر مشتمل ایک تفصیلی رپورٹ پیش کریں، اس رپورٹ کی بنیاد پر ایک امن بحالی منصوبہ تشکیل دیا جائے گا، جس پر عید کی تعطیلات کے بعد عمل کیا جائے گا۔

دونوں فریقین نے اس بات پر اتفاق کیا کہ بلوچستان کے مسائل کا واحد قابل عمل حل جمہوری طرزِ عمل میں مضمر ہے، حالیہ بدامنی میں جان سے جانے والوں کے لیے دعا کی گئی اور اس بات پر اتفاق ہوا کہ بلوچستان میں مکمل استحکام تک ایسی مشاورتی ملاقاتوں کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: مولانا فضل الرحمان سپریم کورٹ کورٹ بار کے لیے

پڑھیں:

علی الزیدی کا ایران کا اہم دورہ، دوطرفہ تعلقات بڑھانے پر اتفاق

ایرانی صدر سے ملاقات میں عراقی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ عراق اور ایران کی سلامتی ایک دوسرے سے جڑی ہوئی ہے اور عراق اپنی سرزمین ایران کے خلاف کسی بھی کارروائی کے لیے استعمال نہیں ہونے دے گا۔ اسلام ٹائمز۔ امریکا کے دورے کے بعد عراقی وزیراعظم علی الزیدی نے ایران کا اہم دورہ کیا، جہاں انہوں نے ایرانی صدر مسعود پزشکیان اور اعلیٰ ایرانی قیادت سے ملاقاتیں کیں۔خبر ایجنسی کے مطابق ایرانی صدر مسعود پزشکیان اور عراقی وزیراعظم کے درمیان ہونے والے مذاکرات میں دوطرفہ تعلقات، اقتصادی تعاون، توانائی، تجارت اور علاقائی سلامتی سمیت مختلف امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ دونوں ممالک نے اقتصادی تعاون اور مشترکہ سرمایہ کاری کو فروغ دینے پر اتفاق کیا، جبکہ نقل و حمل اور شہری تعاون سے متعلق نئے معاہدے بھی طے پائے۔
عراقی وزیراعظم علی الزیدی نے اس موقع پر کہا کہ عراق اور ایران کی سلامتی ایک دوسرے سے جڑی ہوئی ہے اور عراق اپنی سرزمین ایران کے خلاف کسی بھی کارروائی کے لیے استعمال نہیں ہونے دے گا۔ ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا کہ ایران اور عراق کے درمیان تاریخی، مذہبی اور ثقافتی رشتے نہایت مضبوط ہیں، جبکہ خطے کا استحکام دونوں ممالک کی ترقی اور خوشحالی کے لیے ناگزیر ہے۔ خبر ایجنسی کے مطابق دورے کے اختتام پر منعقدہ دستخطی تقریب میں ایرانی اور عراقی وزراء نے مختلف تعاون کے معاہدوں کا تبادلہ بھی کیا۔

متعلقہ مضامین

  • شہدا ء کا مقام اور فضیلت
  • نرس نے نومولود بچی کے ہاتھ کا انگوٹھا کاٹ دیا، والد نے پولیس میں درخواست دے دی
  • چیف جسٹس سپریم کورٹ کا ضلع و سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت پر اظہار افسوس
  • پیپلز پارٹی کا فارم 47 پر حالیہ بیانیہ پی ٹی آئی بیانیے سے مطابقت رکھتا ہے، علی ظفر
  • آزاد کشمیر انتخابات: استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس میں انتخابی اتحاد، سیٹ ایڈجسٹمنٹ پر اتفاق
  • علی الزیدی کا ایران کا اہم دورہ، دوطرفہ تعلقات بڑھانے پر اتفاق
  • وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
  • لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی
  • یو اے ای ویزا آن ارائیول کی نئی شرائط اور فیس جاری
  • پی اے سی کی تمام ڈسکوز کے ملازمین کی تصدیق کی سفارش