مجھے لگتا ہے کہ روسی صدر پیوٹن کو میرا سوا کوئی اور نہیں روک سکتا، ٹرمپ
اشاعت کی تاریخ: 24th, March 2025 GMT
عالمی خبر رساں کے مطابق ٹرمپ نے اس بات پر بھی زور دیا کہ کیف اور ماسکو دونوں کے ساتھ مثبت تعلقات برقرار رکھنے کی ضرورت ہے انہوں نے کہا کہ میرے پیوٹن اور یوکرینی ہم منصب ولادیمیر زیلینسکی کے ساتھ اچھے تعلقات ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ وہ واحد شخص ہیں جو یوکرین جنگ ختم کرا سکتے ہیں اور مجھے یقین ہے کہ میں روسی صدر پیوٹن کو روک سکوں گا۔ غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق ایک انٹرویو میں ٹرمپ نے کہا کہ مجھے لگتا ہے کہ روسی صدر پیوٹن کو میرا سوا کوئی اور روک سکتا ہے اور مجھے یقین ہے کہ میں انہیں روک سکوں گا۔ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ہمارے درمیان بہت سمجھداری سے بات چیت ہوئی ہے اور میں صرف اتنا چاہتا ہوں کہ قتل کو روکا جائے۔
امریکا کی ثالثی میں روس اور یوکرینی وفد کے درمیان سعودی عرب میں متوقع بات چیت کے آغاز سے ایک روز قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے فروری 2022ء سے جاری جنگ کے خاتمے کے لیے اپنے عزم کا اعادہ کیا ہے۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ میرے صدر رہتے ہوئے پیوٹن نے کسی ملک پر حملہ نہیں کیا۔ ٹرمپ نے اس بات پر بھی زور دیا کہ کیف اور ماسکو دونوں کے ساتھ مثبت تعلقات برقرار رکھنے کی ضرورت ہے انہوں نے کہا کہ میرے پیوٹن اور یوکرینی ہم منصب ولادیمیر زیلینسکی کے ساتھ اچھے تعلقات ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
پڑھیں:
’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ ایران پر اب تک کے سب سے بڑے فوجی حملے کی منظوری دینے کے قریب ہیں۔
امریکی خبر رساں ادارے سے گفتگو میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ میں ایران پر ایک بہت بڑے حملے پر غور کر رہا ہوں جو پہلے ہونے والے تمام حملوں سے کہیں بڑا ہوگا۔
انھوں نے مزید کہا کہ اگرچہ ابھی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔ تمام عسکری آپشنز زیر غور ہیں۔ میں فیصلہ کرنے کے بہت قریب ہوں اور اس کی تمام تیاریاں بھی مکمل ہیں۔
امریکی صدر ٹرمپ نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ اگر وہ چاہیں تو اسرائیل دو منٹ میں اس کارروائی میں شامل ہو جائے گا تاہم ہمیں کسی کی ضرورت نہیں۔
قبل ازیں ایران کے حمایت یافتہ یمنی حوثیوں کے بحیرہ احمر میں دو سعودی آئل ٹینکروں پر حملے کے بعد امریکی صدر نے ایران اور حوثیوں دونوں کو بڑی فوجی سزا دینے کی دھمکی بھی دی تھی۔
صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر لکھا تھا کہ اگر حوثیوں نے دوبارہ ایسے حملے کیے تو امریکا انھیں ایران کی کارروائی تصور کرے گا کیونکہ حوثی اس کے حمایت یافتہ گروہ ہیں۔
دوسری جانب مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں برینٹ خام تیل کی قیمت ایک بار پھر 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہے۔
بحیرہ احمر اور باب المندب میں جہاز رانی کو لاحق خطرات نے عالمی توانائی منڈی میں تشویش بڑھا دی ہے۔
ادھر اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے نے کہا کہ صورتحال قابو سے باہر ہوتی جا رہی ہے۔ خطہ مسلسل وسیع ہوتے تصادم کی لپیٹ میں آ رہا ہے۔ ایک بحران دوسرے بحران کو جنم دے رہا ہے اور ہر نئی کشیدگی اگلی کشیدگی کا سبب بن رہی ہے۔