راولپنڈی ایکسپریس شعیب اختر کا چیمپئینز ٹرافی کے دوران مقامی ٹی وی چینل پر ہاردک پانڈیا اور عبدالرزاق سے متعلق دیا گیا بیان سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر وائرل ہوگیا۔

چیمپئینز ٹرافی کے دوران نجی ٹی وی چینل پر گفتگو کرتے ہوئے سابق فاسٹ بولر شعیب اختر نے ہاردک پانڈیا کی تعریف کی اور کہا کہ میچ کے اختتامی اوورز میں آکر لمبی لمبی ہٹنگ کرنا پاکستان کیلئے نئی بات نہیں ہے۔

انہوں نے بالنگ کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہاردک پانڈیا کوئی میلکم مارشل، بریٹ لی یا جواگال سری ناتھ نہیں جنہیں دیکھا جائے لیکن اسکی ذہنیت میں یہ بات ڈال دی گئی ہے کہ مضبوط ہٹر ہے، اسے مواقع دیے جاتے ہیں اور وہ پرفارم کرتا ہے۔

مزید پڑھیں: 300 ہونے پر بھاؤ بڑھتا ہی ہے! اوو بھائی بس کردو، شعیب کا سہواگ پر وار

شعیب اختر نے کہا کہ پانڈیا کی جانب سے ہارڈ ہٹنگ پاکستان کیلئے نئی نہیں کیونکہ عبدالرزاق جیسے آل راؤنڈر کیلئے عام بات تھی لیکن پاکستان کرکٹ نے اُسے کبھی عزت نہیں دی۔

اس موقع پر محمد حفیظ نے بھی شعیب اختر بات پر اتفاق کرتے ہوئے کہا کہ رزاق بھائی، پانڈیا سے بہت بہتر آل راؤنڈر تھے لیکن بدقسمتی سے، سسٹم نے اس کے ساتھ اچھا سلوک نہیں کیا اور انہیں اپنی صلاحیت دکھانے کا صحیح موقع فراہم نہیں کیا۔

مزید پڑھیں: عبدالرزاق کی اسٹرائیک فورس کام دکھانے لگی

راولپنڈی ایکسپریس نے 2010 میں دبئی میں جنوبی افریقا کے خلاف عبدالرزاق کے 72 گیندوں پر ناقابل شکست 109 رنز کی شاندار اننگز کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ  رزاق نے مختلف پوزیشنوں پر بیٹنگ کی لیکن انہیں وہ پہچان نہیں ملی جس کے وہ حقدار تھے، سوائے جنوبی افریقہ کے خلاف اس ناقابل فراموش میچ کے! ان کی ہٹنگ اتنی زوردار تھی کہ میں نے سوچا کہ اگر بال لگی تو مجھے چیر دے گی۔

مزید پڑھیں: پاکستان کا ٹی ٹوئنٹی میں 200 سے زیادہ رنز کا ہدف حاصل کرکے منفرد ریکارڈ

انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کرکٹ نے کبھی عبدالرزاق اور اظہر محمود کو وہ عزت نہیں دی، جس کے وہ حقدار تھے۔

حفیظ نے بھی 2010 کے میچ کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ ڈریسنگ روم میں سب ہمت ہار چکے تھے میچ کا نتیجہ معلوم تھا لیکن زراق بھائی نے اکیلے وہ میچ جتوادیا تھا، وہ واقعی نہ ناقابل فراموش اننگز تھی۔

 

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: کرتے ہوئے کہا کہ ہاردک پانڈیا

پڑھیں:

مینگو شیک کے لیے کون سا آم بہترین ہے؟ ذائقے اور کریمی ٹیکسچر کو بدل دینے والے راز

گرمیوں کی آمد کے ساتھ ہی آموں کی خوشبو اور مٹھاس ہر طرف پھیل جاتی ہے، اور بازاروں، ریڑھیوں اور گھروں میں مختلف اقسام کے آم اپنی رنگینی بکھیرنے لگتے ہیں۔

پاکستان میں آم کی کئی مشہور اقسام پائی جاتی ہیں جن میں دسہری، کیسر، چونسہ اور سندھ کے بعض علاقوں میں محدود پیمانے پر کاشت ہونے والا الفانسو آم شامل ہے، جسے عام طور پر ’الفنس‘ کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔

آم کو صرف ایک پھل نہیں بلکہ گرمیوں کی پہچان سمجھا جاتا ہے، اسی لیے اس موسم میں اس سے آئس کریم، میٹھے پکوان، آم رس، سلاد اور مختلف مشروبات تیار کیے جاتے ہیں۔ تاہم ٹھنڈا اور گاڑھا مینگو شیک آج بھی سب سے زیادہ پسند کیے جانے والے مشروبات میں شمار ہوتا ہے، اور اکثر یہ سوال سامنے آتا ہے کہ آخر مینگو شیک کے لیے بہترین آم کون سا ہے؟

ماہرین اور شوقین افراد کے مطابق الفانسو آم مینگو شیک کے لیے بہترین انتخاب سمجھا جاتا ہے۔ اس کی گودے دار ساخت قدرتی طور پر کریمی ہوتی ہے، اس میں ریشہ نہ ہونے کے برابر ہوتا ہے اور اس کی مٹھاس دودھ کے ساتھ بخوبی گھل جاتی ہے، جس سے شیک ہموار اور ملائم بنتا ہے۔ بعض آم بلینڈ کرنے کے بعد ریشے دار محسوس ہوتے ہیں، لیکن الفانسو شیک کو ایک یکساں اور کریمی ساخت دیتا ہے۔

الفانسو آم کی ایک اور نمایاں خصوصیت اس کی خوشبو ہے، جو سادہ دودھ کے شیک کو بھی ایک خاص ذائقہ اور مہک عطا کرتی ہے۔ چونکہ یہ قدرتی طور پر بہت میٹھا ہوتا ہے، اس لیے اکثر افراد اس میں اضافی چینی ڈالنے کی ضرورت محسوس نہیں کرتے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ہر آم مینگو شیک کے لیے یکساں طور پر موزوں نہیں ہوتا۔ ایک اچھے شیک کے لیے ایسے آم کا انتخاب بہتر ہے جس میں ریشہ کم ہو، گودا قدرتی طور پر میٹھا اور خوشبودار ہو، ساخت گاڑھی اور کریمی ہو، جبکہ گٹھلی چھوٹی اور گودا زیادہ ہو۔

الفانسو کے علاوہ کیسر آم بھی ایک اچھا انتخاب سمجھا جاتا ہے، جو اپنے شوخ نارنجی گودے اور بھرپور مٹھاس کے باعث گاڑھا اور لذیذ شیک تیار کرتا ہے۔ اسی طرح دسہری آم اپنی خوشبو اور رس دار خصوصیات کی وجہ سے ہلکے اور تازگی بخش شیک کے لیے موزوں مانا جاتا ہے۔

ماہرین یہ بھی خبردار کرتے ہیں کہ بہت زیادہ پکے ہوئے آم استعمال نہ کیے جائیں، کیونکہ اگرچہ وہ زیادہ میٹھے ہوتے ہیں لیکن بعض اوقات ان میں خمیر جیسی بو پیدا ہو سکتی ہے جو شیک کے ذائقے کو متاثر کرتی ہے۔

گھر میں بہترین مینگو شیک بنانے کے لیے چند آسان طریقے بھی مددگار ثابت ہوتے ہیں۔ آموں کو استعمال سے پہلے ٹھنڈا کر لیا جائے تو برف کی ضرورت کم ہو جاتی ہے، جبکہ مکمل چکنائی والے ٹھنڈے دودھ سے شیک زیادہ کریمی بنتا ہے۔ آم کے ٹکڑوں کو فریز کر کے استعمال کرنے سے شیک مزید گاڑھا ہو جاتا ہے، اور ذائقے میں بہتری کے لیے ہلکی سی الائچی یا زعفران بھی شامل کیا جا سکتا ہے۔

ماہرین کے مطابق ضرورت سے زیادہ بلینڈنگ سے شیک پتلا بھی ہو سکتا ہے، اس لیے اسے مناسب وقت تک ہی بلینڈ کرنا بہتر سمجھا جاتا ہے۔ مجموعی طور پر کہا جا سکتا ہے کہ گرمیوں میں بہترین مینگو شیک کا راز صرف ترکیب میں نہیں بلکہ صحیح آم کے انتخاب میں بھی چھپا ہوتا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • دوسرا ون ڈے:آسٹریلیا کیخلاف پاکستانی ٹیم 190رنز پر آل آئوٹ
  • ایکس نے ’ری ایکٹ ود ویڈیو‘ فیچر متعارف کرا دیا، یہ کام کیسے کرتا ہے؟
  • لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش
  • ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا، کپیسٹی چارجز کے سبب بجلی کی قیمتیں زیادہ ہیں، قائمہ کمیٹی تجارت
  • دوسرا ون ڈے: آسٹریلیا کا پاکستان کو جیت کیلئے 232 رنز کا ہدف
  • فیکٹ چیک: تھائی لینڈ کی ویڈیو پاکستانی فوجی افسر سے منسوب کرنے کی بھارتی کوشش ناکام
  • مینگو شیک کے لیے کون سا آم بہترین ہے؟ ذائقے اور کریمی ٹیکسچر کو بدل دینے والے راز
  • لاہور میں وین ڈرائیور سے بدتمیزی ٹریفک وارڈن کو مہنگی پڑ گئی
  • ایران، امریکا مذاکرات: یورپی یونین بھی پاکستان کے کردار کی معترف لیکن مسئلے کا حل تاحال تاخیر کا شکار کیوں؟
  • مومنہ اقبال اور حمزہ حبیب کی دعائے خیر کی تقریب، دلکش تصاویر سوشل میڈیا پر وائرل