سی ڈی اے افسران ایسوسی ایشن کا ہنگامی اجلاس، غیر قانونی ایف آئی آرز پر شدید تشویش WhatsAppFacebookTwitter 0 25 March, 2025 سب نیوز

اسلام آباد(آئی پی ایس) سی ڈی اے افسران ایسوسی ایشن کی ایگزیکٹو باڈی کا ہنگامی اجلاس منعقد ہوا، جس کی صدارت جنرل سیکرٹری نعمت اللہ مسعود نے کی۔ اجلاس میں سی ڈی اے کے افسران اور ملازمین کے خلاف درج کی گئی غیر قانونی ایف آئی آرز پر شدید تشویش کا اظہار کیا گیا اور اس اقدام کو ادارے کی ساکھ، کارکردگی اور ملازمین کے حوصلے پر منفی اثر ڈالنے والا عمل قرار دیا گیا۔

اجلاس میں اس بات پر زور دیا گیا کہ سی ڈی اے ایک خودمختار ادارہ ہے، جس کے اپنے قواعد و ضوابط اور سزا و جزا کا منظم نظام موجود ہے۔ ایسے میں ادارے کے ملازمین کو بیرونی اداروں کے رحم و کرم پر چھوڑ دینا نہ صرف ناانصافی ہے بلکہ سی ڈی اے کے داخلی احتسابی عمل پر بھی سوالیہ نشان ہے۔ مزید برآں، اجلاس میں اس امر پر بھی گہری تشویش کا اظہار کیا گیا کہ جب سی ڈی اے کے پاس اپنا فعال سیکیورٹی ڈائریکٹوریٹ موجود ہے، تو دیگر اداروں کی مداخلت کا کوئی جواز نہیں بنتا۔ اس طرح کے اقدامات سے ادارے کے اندر عدم تحفظ اور بے چینی کی فضا پیدا ہو رہی ہے، جو ملازمین کی کارکردگی کو متاثر کر سکتی ہے۔

اجلاس میں متفقہ طور پر ایک قرارداد منظور کی گئی، جس میں چیئرمین سی ڈی اے سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ ادارے کے افسران اور ملازمین کی مکمل سرپرستی کریں، کیونکہ یہ افراد اسلام آباد کی خوبصورتی اور ترقی کے لیے دن رات انتھک محنت کر رہے ہیں۔ قرارداد میں اس بات پر بھی زور دیا گیا کہ آئندہ تمام انکوائریاں سی ڈی اے کے داخلی نظام کے مطابق کرائی جائیں اور کسی بھی غیر ضروری بیرونی مداخلت کو روکا جائے۔

اجلاس کے اختتام پر متفقہ طور پر مطالبہ کیا گیا کہ جتنے بھی سی ڈی اے ملازمین ایف آئی اے کی تحویل میں ہیں یا غیر منصفانہ مقدمات میں نامزد کیے گئے ہیں، انہیں فوری طور پر باعزت بری کیا جائے اور اس غیر منصفانہ طرز عمل کا سدباب کیا جائے۔ مزید برآں، ایسوسی ایشن نے واضح کیا کہ اگر ہمارے مطالبات پر مناسب عملدرآمد نہ کیا گیا تو ہم قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے آئندہ کے لائحہ عمل کا تعین کریں گے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Sub News

کلیدی لفظ: ایسوسی ایشن ایف ا ئی ا سی ڈی اے

پڑھیں:

حیسکو میں گھوسٹ، ریٹائرڈ ملازمین کی تنخواہ کے نام پر 1 ارب 6 کروڑ روپے کی خرد برد کا انکشاف

فائل فوٹو 

پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس میں حیدرآباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (حیسکو) میں گھوسٹ، ریٹائرڈ ملازمین کی تنخواہ کے نام پر 1 ارب 6 کروڑ روپے کی خرد برد کا انکشاف ہوا ہے۔

آڈٹ رپورٹ کے مطابق حیسکو کے ڈی ڈی او، ایکسیئن اور سی ایف او آفس کی ملی بھگت سے خرد برد کی گئی۔

سی ای او حیسکو کے مطابق اس کیس میں چار ملازمین کو برطرف کیا جا چکا ہے۔ تین اکاؤنٹس افسران، ایک فنانس افسر کو نوکری سے نکالا گیا۔

ایف آئی اے حکام کا کہنا ہے کہ اس کیس کے 5 مقدمات درج کیے گئے، 130 سے زائد افراد ملوث تھے، اب تک صرف 13 کروڑ روپے کی ریکوری ہوئی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • کوئٹہ، سرکاری دفاتر میں ایجنٹس کیخلاف ایف آئی اے کی کارروائی، 14 افراد گرفتار
  • سرکاری دفاتر میں حاضری اور وقت کی پابندی سے متعلق نئی ہدایات جاری
  • وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
  • سرکاری ملازمین پنشن میں اضافہ، خیبرپختونخوا حکومت کا بڑا ریلیف اعلان
  • مون سون کا طاقتورسپیل ، جھل تھل ایک ہوگیا،2 وکلاء کے چیمبر گرگئے
  • پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
  • پاکستانی پرچم بردار جہازوں کیخلاف کسی بھی قسم کی جارحانہ کارروائی کو قومی سلامتی کا خطرہ تصور کیا جائیگا: دفتر خارجہ
  • پیٹرول پمپس اونرز ایسوسی ایشن کاکل کی ہڑتال مؤخر کرنے کا اعلان
  • کوئٹہ: سرکاری دستاویزات میں شہریوں کو غیرقانونی سہولت دینے والے 14 ایجنٹ گرفتار
  • حیسکو میں گھوسٹ، ریٹائرڈ ملازمین کی تنخواہ کے نام پر 1 ارب 6 کروڑ روپے کی خرد برد کا انکشاف