Express News:
2026-06-02@22:22:40 GMT

اسپیشل ایتھلیٹس نے سبز ہلالی پرچم سربلند کردیا

اشاعت کی تاریخ: 25th, March 2025 GMT

سوشل و میڈیا منیجر اسپیشل اولمپک پاکستان

پاکستان کا شمار دنیا کے ان چند ممالک میں ہوتا ہے جہاں کے کھلاڑی تو خداداد صلاحیتوں سے مالا مال ہوتے ہیں مگر کھیل کے بنیادی ڈھانچے کی عدم فراہمی یا ملکی حالات انھیں وہ مواقع فراہم نہیں کرتے جس سے وہ اپنے ٹیلنٹ کا بھرپور اظہار کرسکیں،البتہ بات اگر اسپیشل گیمز کے حوالے سے کی جائے تو اسپیشل اولمپک پاکستان کی چیئرپرسن رونق لاکھانی اور ان کی پوری ٹیم نے ذہنی و جسمانی معذوری کے شکار اسپیشل کھلاڑیوں کی صلاحیتوں کو تراشتے ہوئے انھیں تمام سہولیات فراہم کی ہیں،اس کی بدولت اسپیشل کھلاڑیوں نے شاندار کارکردگی سے دنیائے کھیل میں سبز ہلالی پرچم کوسربلند کیا ہے۔

اس کی تازہ مثال حال ہی میں اٹلی کے شہر ٹیورین میں کھیلے گئے 12 ویں اسپیشل اولمپک ورلڈ ونٹر گیمز ہیں، ان میں میں قومی کھلاڑیوں نے تاریخی فتوحات حاصل کیں، گیمز میں الپائن اسکیئنگ، کراس کنٹری اسکیئنگ، ڈانس اسپورٹ، فیگر اسکیٹنگ، فلوربال، شارٹ ٹریک اسپیڈ اسکیٹنگ، اسنوبورڈنگ اور اسنو شوئنگ کے مقابلے منعقد ہوئے۔

 پاکستانی دستے کے 10 ایتھلیٹس میں 5 مرد اور5 خواتین شامل تھیں، انھوں نے اسنو شوئنگ اور کراس کنٹری اسکئنگ کے مقابلوں میں حصہ لیا، پاکستان نے 6 گولڈ، 3 سلور اور 2 برونز سمیت مجموعی طور پر 11 میڈلز جیتے، منیب الرحمان نے مردوں کے کراس کنٹری ایونٹ میں 50 میٹر اور 100 میٹر ریس میں گولڈ میڈلز اپنے نام کیے۔

 روینہ قربان نے 5 میٹر ریس میں سلور میڈل جیتا، اسنو شوئنگ میں معظم اقبال نے 8 میٹر ریس میں گولڈ اور 4x100 ریلے ریس میں سلور میڈل جیتا، عبدالصبور نے 400 میٹر میں گولڈ، 4x100 ریلے میں سلور جبکہ 200 میٹر ریس میں برونز میڈل حاصل کیا،آفاق اخان نے 100 میٹر اسنو شوئنگ میں گولڈ اور 4x100 ریلے ریس میں سلور میڈل جیتا، مناہل عاصم نے خواتین کی 400 میٹر ریس میں گولڈ، 4x100 کی ریس میں سلور میڈل پایا، قبل ازیں اسپیشل اولمپک ورلڈ ونٹر گیمز میں شرکت کیلئے قومی دستے کا ٹیورین ایئرپورٹ پہنچنے پر اسپیشل اولمپک اٹلی کے عہدیداران نے گرمجوشی سے استقبال کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ اٹلی کھیلوں کے حوالے سے دنیا بھرمیں اپنا مقام رکھتا ہے، اسپیشل اولمپک ورلڈ ونٹر گیمز کی میزبانی ہمارے لیے اعزاز ہے، کھیل دلوں کو جوڑتے ہیں، اطالوی اور پاکستانی اپنے ملک اور کھیلوں سے پیار کرنے والی قومیں ہیں، ہمیں پاکستانی کھلاڑیوں سے مل کر بہت خوشی محسوس ہورہی ہے، ان میں جیت کا جذبہ اور بھرپور صلاحیتیں نظرآ رہی ہیں، خاص کر یہ خوش آئند امر ہے کہ پاکستان میں مینز کے ساتھ خواتین بھی کھیل کے میدان میں بھرپور صلاحیتوں کامظاہرہ کررہی ہیں۔

 دستے کے پْرتپاک استقبال پر اسپیشل اولمپک پاکستان کی چیئرپرسن رونق لاکھانی نے کہا کہ صرف میڈلز جیتنا ہی کھیل نہیں بلکہ کھیلوں کے ذریعے سوسائٹی اور کمیونٹی کو یکجا رکھنا اصل بات ہے، ہم یہاں کھیلوں کے ساتھ سب کے دل جیتنے آئے ہیں، اسپیشل اولمپک ورلڈ گیمز کا افتتاح رنگارنگ تقریب میں 8 مارچ کو ٹیورین کے اینالپی ایرینا میں ہوا، 12 ہزار کے قریب نشستوں کی گنجائش رکھنے والے ایرینا میں گیمز میں شریک کھلاڑیوں نے افتتاحی تقریب کی پریڈ میں حصہ لیا۔

 اسپیشل اولمپک انٹرنیشنل کے صدر ٹم شریور، اسپیشل اولمپک اٹلی کے صدر اینجیلو موراٹی، اسپیشل اولمپک پاکستان کی چیئرپرسن رونق لاکھانی، پاکستانی دستے کی ہیڈآف ڈیلیگیشن فرخندہ جبین نے بھی تقریب میں شرکت کی،اس موقع پر اسپیشل اولمپک کے پرچم کو لہراتے ہوئے ورلڈ گیمز کے باقاعدہ آغاز کااعلان کیا گیا، قومی اسکواڈ جب اسٹیڈیم پہنچا تو وہاں موجود ہزاروں شائقین نے فقیدالمثال استقبال کرتے ہوئے تالیاں بجا کر کھلاڑیوں کی حوصلہ افزائی کی، مرد کھلاڑی ثقافتی لباس شلوار قمیض اور واسکٹ جبکہ خواتین ایتھلیٹس روایتی شلوار قمیض میں ملبوس نظر آئیں، وہ تقریب میں خصوصی توجہ کا مرکز رہیں۔

 شریک تمام ممالک کے اسپیشل ایتھلیٹس افتتاحی تقریب کے حوالے سے بہت پْرجوش نظر آئے، انھوں نے ایک دوسرے کے ساتھ تصاویر اور سیلفیز بنائیں، اس موقع پر فنکاروں کی لائیوپرفارمنس اور لیزر لائٹ شو نے سماں باندھ دیا جسے دیکھ کر اسپیشل بچوں کی خوشی دیدنی تھی، کارٹوں کیریکٹرز انھیں خوش آمدید کہتے رہے، تقریب کے آخر میں آتش بازی نے اسٹیڈیم میں رنگ و نور کی بارش کردی، 15 مارچ کو 12 ویں اسپیشل اولمپک ورلڈ ونٹر گیمز کا اختتام ہو گیا، تقریب میں گیمز کی مشعل کو بجھایا گیا اور اسپیشل اولمپک کا پرچم اگلے گیمز کے میزبان ملک ریپبلک آف چلی کی سب سیکریٹری اسپورٹس ایمیلیا ری اوس کے حوالے کیا گیا، 8 روزتک جاری رہنے والے ورلڈ ونٹر گیمز میں 103 ممالک کے 1500 کے قریب کھلاڑیوں نے حصہ لیا۔

 اختتامی تقریب میں میوزیکل پروگرام سے ایتھلیٹس بہت لطف اندوز ہوئے، انھوں نے اسٹیڈیم میں جاری برف باری کے باوجود مختلف پرفارمنس پروالہانہ رقص کیا اور آپس میں جیکٹس، بیجز اور سووینیئرز کاتبادلہ کیا، تقریب میں پاکستانی دستے نے بھی بھرپور جوش و خروش کے ساتھ حصہ لیا، کھلاڑیوں نے اسپیشل اولمپک پاکستان کی چیئرپرسن رونق لاکھانی اور آفیشلز کے ہمراہ جیوے جیوے پاکستان و دیگر ملی نغمے گائے، آخر میں آتش بازی کا دلکش مظاہرہ کیا گیا۔

 بعد ازاں قومی ہیروز کی وطن واپسی پر کراچی ایئرپورٹ پر پاکستان اولمپک ایسوسی ایشن اور ایس او پی کے عہدیداران، ایتھلیٹس کے عزیزواقارب نے پْرتپاک استقبال کرتے ہوئے ہار پہنائے، اس موقع پر پاکستان کیلئے گولڈ میڈلز جیتنے والے معظم اقبال، آفاق خان، عبدالصبور اور مناہل عاصم کا کہنا تھا کہ ہم صرف پاکستان کیلئے جیت کا جذبہ لیے اٹلی گئے تھے، ہماری محنت، کوچز کی تربیت،ایس او پی کی سرپرستی اور پوری قوم کی دعاؤں سے کامیابی حاصل ہوئی، اسپیشل اولمپک پاکستان کی چیئرپرسن رونق لاکھانی نے کہا کہ میگا ایونٹ میں پاکستان کیلئے میڈلز جیتنا کسی بڑے اعزازسے کم نہیں، ونٹر گیمز کیلئے گذشتہ 5 برس سے ہماری بھرپور تیاریاں جاری تھیں، کھلاڑی سو فیصد کارکردگی کا مظاہرہ کر کے وکٹری اسٹینڈ تک پہنچے، اس کامیابی میں کوچز کا کردار سب سے اہم رہا۔

 ان کی انتھک محنت اور بہترین تربیت کی بدولت کھلاڑی اس مقام تک پہنچے، ورلڈ ونٹر گیمز میں دنیا کی بہترین ٹیموں نے حصہ لیا مگرہمارے ایتھلیٹس کا جوش وجذبہ قابل دید تھا، کھلاڑیوں نے پاکستان کے سفیر کی حیثیت سے نہ صرف اپنے کھیل بلکہ محبت و امن کے پیغام سے گیمز میں شریک تمام ممالک کے ایتھلیٹس کو بہت متاثر کیا، رونق لاکھانی نے ولڈ ونٹر گیمز میں پاکستانی ایتھلیٹس کی تاریخی کامیابی پرپوری قوم کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا کہ ٹیورین کے سرد ترین موسم میں جس ہمت اور قومی جذبے سے ہمارے کھلاڑیوں اور آفیشلز نے شاندار کارکردگی سے قومی پرچم سربلند کیا اس پر سب کو فخر ہے، ہمارا اگلا مشن 2027 میں چلی کے ورلڈ سمر گیمز ہیں، اس کیلئے جلد تیاریاں شروع کریں گے، مجھے امید ہے کہ ورلڈ سمر گیمز میں بھی ہمارے کھلاڑی جیت کے تسلسل کو جاری رکھیں گے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: ونٹر گیمز میں میٹر ریس میں میں پاکستان کھلاڑیوں نے کے حوالے میں گولڈ کے ساتھ حصہ لیا

پڑھیں:

عالمی کشیدگی کے بیچ پاکستان کی کامیاب ثالثی

بین الاقوامی سیاست کے افق پر بعض لمحات ایسے طلوع ہوتے ہیں جو محض روزمرہ سفارتی سرگرمیوں کا حصہ نہیں ہوتے بلکہ تاریخ کے دھارے میں ایک معنی خیز موڑ کی حیثیت اختیار کر لیتے ہیں۔ آج مشرقِ وسطیٰ ایک بار پھر اسی نوع کی بے یقینی، اضطراب اور کشمکش سے دوچار ہے۔

ایک طرف جنگ کے بادل ہیں جو لبنان، غزہ اور خطے کے دیگر حساس مقامات پر مسلسل گہرے ہوتے جا رہے ہیں، دوسری طرف سفارت کاری کی وہ نحیف مگر روشن کرن بھی موجود ہے جو انسانیت کو ایک بڑے تصادم سے بچانے کی جدوجہد کر رہی ہے۔ ایسے نازک ماحول میں پاکستان کے کردار کو عالمی سطح پر ملنے والی پذیرائی نہ صرف قومی سفارت کاری کی کامیابی کا اعتراف ہے بلکہ اس حقیقت کی علامت بھی ہے کہ بدلتے ہوئے عالمی منظرنامے میں پاکستان کو ایک ذمے دار، متوازن اور قابلِ اعتماد ریاست کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ کایا کالاس کی جانب سے پاکستان کی سفارتی کوششوں کو سراہنا بظاہر ایک بیان ہے، مگر اس کے مضمرات کہیں زیادہ گہرے ہیں۔ عالمی سیاست میں تعریف کے الفاظ اکثر مفادات کے پردے میں لپٹے ہوتے ہیں، لیکن جب کسی ملک کی ثالثی کی صلاحیت، اس کی قائدانہ بصیرت اور امن کے لیے اس کی سنجیدہ کوششوں کا اعتراف مختلف بین الاقوامی حلقوں سے ہونے لگے تو یہ محض سفارتی آداب نہیں رہتے بلکہ ایک نئی حقیقت کا اظہار بن جاتے ہیں۔ ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی گزشتہ نصف صدی سے عالمی سیاست کے حساس ترین موضوعات میں شمار ہوتی رہی ہے۔

ان دونوں ممالک کے درمیان محاذ آرائی صرف دو ریاستوں کا تنازع نہیں بلکہ اس کے اثرات توانائی کی عالمی منڈیوں، بین الاقوامی تجارت، علاقائی سلامتی اور عالمی اقتصادی استحکام تک پھیل جاتے ہیں۔ ایسی صورت میں اگر پاکستان نے متعدد مواقع پر دونوں فریقوں کو جنگ کے دہانے سے واپس لانے میں کردار ادا کیا ہے تو یہ ایک ایسی کامیابی ہے جسے محض رسمی تعریف کے پیمانے سے نہیں ناپا جا سکتا۔ یہ امر بھی قابلِ غور ہے کہ موجودہ عالمی نظام میں طاقت کی تعریف تبدیل ہو رہی ہے۔

ماضی میں عسکری قوت کو ریاستی برتری کی سب سے بڑی علامت سمجھا جاتا تھا، مگر آج دنیا بتدریج اس نتیجے پر پہنچ رہی ہے کہ مستقل اثر و رسوخ صرف وہی ریاست حاصل کر سکتی ہے جو تنازعات کے حل میں معاون ثابت ہو، جو پل تعمیر کرے، دیواریں نہیں؛ جو رابطے پیدا کرے، فاصلے نہیں۔ پاکستان کی حالیہ سفارتی سرگرمیاں اسی نئے تصور قوت کی عکاسی کرتی ہیں۔ ایران اور امریکا کے درمیان براہِ راست یا بالواسطہ روابط کی راہیں ہموار کرنا، مختلف سطحوں پر اعتماد سازی کے عمل کو زندہ رکھنا اور کشیدگی کو جنگ میں تبدیل ہونے سے روکنے کی کوشش کرنا درحقیقت ایک ایسی ذمے داری ہے جس کے نتائج پوری دنیا پر مرتب ہوتے ہیں۔ دوسری طرف لبنان کی صورتحال عالمی ضمیر کے لیے ایک کڑا امتحان بن چکی ہے۔

اسرائیلی حملوں، حزب اللہ کے ساتھ جاری محاذ آرائی اور علاقائی طاقتوں کی مداخلت نے اس ملک کو ایک مرتبہ پھر عدم استحکام کے بھنور میں دھکیل دیا ہے۔ لبنان ایک ایسا معاشرہ ہے جو پہلے ہی معاشی بحران، سیاسی تقسیم اور سماجی مشکلات کا شکار ہے۔ ایسے میں مسلسل عسکری کارروائیاں نہ صرف اس کے بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچا رہی ہیں بلکہ لاکھوں شہریوں کے مستقبل کو بھی تاریکی کی طرف دھکیل رہی ہیں۔

 امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو سے رابطہ اور بیروت میں ممکنہ کارروائی کو روکنے کی کوشش اس امر کی نشاندہی کرتی ہے کہ واشنگٹن بھی اس بحران کے ممکنہ نتائج سے پوری طرح آگاہ ہے۔ تاہم مسئلہ یہ ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں سفارتی بیانات اور زمینی حقائق کے درمیان ہمیشہ ایک وسیع فاصلہ موجود رہا ہے۔ ایک جانب جنگ بندی کے اعلانات ہوتے ہیں، دوسری جانب گولہ باری، فضائی حملے اور عسکری پیش قدمی جاری رہتی ہے۔ یہی تضاد عالمی سفارت کاری کی ساکھ کو مجروح کرتا ہے اور متحارب فریقوں کے درمیان عدم اعتماد کو مزید گہرا کر دیتا ہے۔

 نیتن یاہو کی جانب سے جنوبی لبنان میں کارروائیاں جاری رکھنے کے اعلانات دراصل اسی پیچیدہ حقیقت کی ترجمانی کرتے ہیں۔ اسرائیل اپنی سلامتی کے نام پر عسکری اقدامات کو ناگزیر قرار دیتا ہے، جب کہ لبنان اور خطے کی دیگر قوتیں انھیں جارحیت اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیتی ہیں۔ مسئلہ یہ ہے کہ جب ہر فریق اپنی کارروائی کو دفاع اور دوسرے کے عمل کو جارحیت قرار دینے لگے تو پھر امن کا راستہ مزید دشوار ہو جاتا ہے۔ یہی وہ مرحلہ ہے جہاں بین الاقوامی اداروں اور ثالث ریاستوں کا کردار فیصلہ کن اہمیت اختیار کر لیتا ہے۔

 لبنان میں ہونے والی ہلاکتوں اور زخمیوں کے اعداد و شمار محض شماریاتی معلومات نہیں بلکہ انسانی المیوں کی ایک طویل داستان ہیں۔ ہزاروں جانوں کا ضیاع اور لاکھوں انسانوں کی بے یقینی اس بات کا ثبوت ہے کہ جنگ کبھی بھی صرف فوجیوں کے درمیان نہیں ہوتی، اس کا سب سے بھاری بوجھ ہمیشہ عام شہریوں کے کندھوں پر آتا ہے۔ ایک ماں کی آغوش اجڑتی ہے، ایک بچے کا مستقبل تاریک ہوتا ہے، ایک خاندان اپنے سہارے سے محروم ہو جاتا ہے۔ افسوس یہ ہے کہ عالمی سیاست میں اکثر انسانی دکھ کو جغرافیائی مفادات کے شور میں نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔

 ایران کی جانب سے امریکا کے ساتھ جاری مذاکراتی عمل کو معطل کرنے کی اطلاعات اسی بگڑتی ہوئی صورتحال کا منطقی نتیجہ معلوم ہوتی ہیں، اگرچہ اس حوالے سے سرکاری سطح پر مکمل وضاحت سامنے نہیں آئی، تاہم ایرانی قیادت کے بیانات واضح کرتے ہیں کہ لبنان میں جاری کارروائیاں اعتماد کے ماحول کو شدید نقصان پہنچا رہی ہیں۔

سفارت کاری کا بنیادی اصول یہ ہے کہ مذاکرات طاقت کے استعمال کا متبادل ہوتے ہیں، لیکن جب میدانِ جنگ مسلسل گرم رہے تو مذاکراتی میز پر سنجیدہ پیش رفت تقریباً ناممکن ہو جاتی ہے۔ ایران کا یہ مؤقف کہ جنگ بندی کا اطلاق تمام محاذوں پر ہونا چاہیے، بین الاقوامی اصولوں کے تناظر میں خاصی اہمیت رکھتا ہے، اگر ایک معاہدہ صرف مخصوص علاقوں تک محدود رہے اور دوسرے مقامات پر عسکری کارروائیاں جاری رہیں تو اس کی حیثیت ایک عارضی سیاسی انتظام سے زیادہ نہیں رہتی۔ اس پورے بحران نے اقوام متحدہ کے کردار پر بھی کئی سوالات اٹھا دیے ہیں۔ سلامتی کونسل کے ہنگامی اجلاس، تشویش کے بیانات اور قراردادوں کے مسودے اپنی جگہ اہم ہیں، لیکن زمینی حقائق یہ ظاہر کرتے ہیں کہ عالمی ادارے اکثر طاقتور ریاستوں کے سیاسی مفادات کے سامنے بے بس دکھائی دیتے ہیں۔

بین الاقوامی قانون کی بالادستی کا تصور اسی وقت معتبر رہ سکتا ہے جب اس کا اطلاق سب پر یکساں ہو، اگر بعض ریاستوں کے لیے ایک معیار اور دوسروں کے لیے دوسرا معیار اختیار کیا جائے تو عالمی نظام کی اخلاقی بنیادیں کمزور پڑ جاتی ہیں۔ ایسے ماحول میں پاکستان کی جانب سے سلامتی کونسل میں اختیار کیا گیا مؤقف خاص اہمیت رکھتا ہے۔ لبنان کی صورتحال کو ایک انسانی بحران قرار دینا دراصل اس حقیقت کا اعتراف ہے کہ جنگوں کو محض عسکری زاویے سے نہیں دیکھا جا سکتا۔ انسانی جانوں کا تحفظ، بنیادی حقوق کی پاسداری اور شہری آبادی کا امن ہر قسم کی سیاسی مصلحت سے بالاتر ہونا چاہیے۔

پاکستان نے مسلسل یہ مؤقف اختیار کیا ہے کہ تنازعات کا حل طاقت کے استعمال کے بجائے مذاکرات، سفارت کاری اور بین الاقوامی قانون کے دائرے میں تلاش کیا جانا چاہیے۔ یہی مؤقف آج خطے کی ضرورت بھی ہے اور عالمی امن کا تقاضا بھی۔ اس پوری صورتحال کو اگر وسیع تر تناظر میں دیکھا جائے تو واضح ہوتا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ اس وقت ایک تاریخی دوراہے پر کھڑا ہے۔ ایک راستہ مسلسل عسکری تصادم، انتقامی کارروائیوں اور بڑھتی ہوئی نفرت کی طرف جاتا ہے۔ دوسرا راستہ مکالمے، مفاہمت اور سیاسی حل کی جانب لے جاتا ہے۔ بدقسمتی یہ ہے کہ جنگ کا راستہ ہمیشہ زیادہ شور پیدا کرتا ہے جب کہ امن کی کوششیں خاموشی سے آگے بڑھتی ہیں۔ میڈیا کی شہ سرخیوں میں بمباری کی آواز زیادہ سنائی دیتی ہے، مگر سفارت کاری کی خاموش محنت اکثر نظروں سے اوجھل رہتی ہے۔

تاریخ گواہ ہے کہ جنگیں بالآخر مذاکراتی میز پر ہی ختم ہوتی ہیں۔ کوئی بھی تنازع مستقل طور پر بارود کے ذریعے حل نہیں کیا جا سکا۔ انسانی تہذیب کی بقا، اقتصادی ترقی اور عالمی استحکام کا انحصار بالآخر مکالمے پر ہی ہوتا ہے۔ آج لبنان، ایران، امریکا اور اسرائیل کے گرد گھومتا بحران اسی ابدی حقیقت کی ایک نئی یاد دہانی ہے، اگر عالمی قیادت نے دانش کا راستہ اختیار کیا تو یہ خطہ ایک اور بڑے سانحے سے بچ سکتا ہے، لیکن اگر طاقت کے استعمال کو ہی واحد حل سمجھا گیا تو اس کے نتائج صرف مشرقِ وسطیٰ تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پوری دنیا کو عدم استحکام کی نئی لہر کا سامنا کرنا پڑے گا۔ایسے میں پاکستان کی آواز، جو جنگ کے شور میں امن، مفاہمت اور مذاکرات کی بات کر رہی ہے، محض ایک سفارتی مؤقف نہیں بلکہ ایک اخلاقی ضرورت اور بین الاقوامی ذمے داری کی علامت بن چکی ہے۔ یہی وہ راستہ ہے جو تباہی کے اندھیروں سے نکل کر امن، استحکام اور مشترکہ انسانی مستقبل کی طرف لے جا سکتا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • عالمی کشیدگی کے بیچ پاکستان کی کامیاب ثالثی
  • جنگ امن اور معیشت کی کہانی
  • دوسرا ون ڈے: آسٹریلیا نے پاکستان کو جیت کیلئے 232 رنز کا ہدف دے دیا
  • دوسرا ون ڈے: آسٹریلیا کا پاکستان کو جیت کیلئے 232 رنز کا ہدف
  • تیزگام ایکسپریس کی پاور وین میں آگ لگ گئی
  • ورلڈ کپ تیاریوں کے لیے سست وکٹوں پر تنقید مسترد، مائیک ہیسن کا دوٹوک مؤقف
  • امتحانی تنازعات پر کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی نے بڑا اعلان کردیا
  • اٹلی میں 4 پاکستانیوں کو وین میں بند کرکے جلاکر قتل کردیا گیا، پاکستانی ہی قاتل نکلے، 2 ملزم گرفتار
  • میئر ظہران ممدانی نے نیویارک میں بچوں کا بیڈ ٹائم کیوں معطل کردیا؟
  • مومنہ اقبال اور حمزہ حبیب کی دعائے خیر کی تقریب، دلکش تصاویر سوشل میڈیا پر وائرل