Express News:
2026-07-24@13:29:00 GMT

آنکھیں بند کرکے شاٹس کھیلنا بے خوف کرکٹ نہیں

اشاعت کی تاریخ: 25th, March 2025 GMT

سابق رکن پی سی بی گورننگ بورڈ

نیوزی لینڈ سے تیسرے ٹی 20 انٹرنیشنل میں جب پاکستانی ٹیم نے تیز ترین 200سے زائد رنز کا ہدف پا کر فتح حاصل کی تو شائقین کو ایسا لگنے لگا تھا کہ اب ہمارے مسائل ختم ہو گئے، یہ نوجوان کھلاڑی اگلے سال ٹیم کو ورلڈ چیمپئن بنوا دیں گے، ہمیں حسن نواز کی بیٹنگ میں برائن لارا کی جھلک دکھائی دینے لگی، محمد حارث شاہد آفریدی لگنے لگے جبکہ سلمان علی آغا کی صورت میں بہترین کپتان ملنے کی آس لگا لی گئی۔

 یہ ہمارا قصور نہیں دراصل شروع سے ہی ہم چھوٹی چھوٹی باتوں پر بہت خوش ہو جاتے ہیں اور پھر جب توقعات کا محل زمین بوس ہو پھر مایوسی کی گہرائی میں جانا پڑتا ہے، اب بھی ایسا ہی ہوا، چوتھے میچ میں ٹیم نے انتہائی غیرمعیاری کارکردگی دکھائی، 115 رنز سے تاریخ کی سب سے بڑی شکست کے ساتھ سیریز بھی گنوا دی، اب آخری ٹی ٹوئنٹی رسمی کارروائی ثابت ہوگا، آکلینڈ کا گراؤنڈ بہت چھوٹا اور پچ بھی بیٹنگ کیلئے انتہائی سازگار تھی، وہاں مس ہٹ پر بھی لمبا چھکا ہو رہا تھا، قسمت نے ساتھ دیا اور حارث، نواز و سلمان نے جارحانہ بیٹنگ کر کے ٹیم کو فتح دلا دی،البتہ مسئلہ یہ ہے کہ ہمارے اوپنرز بغیر دیکھے اونچے شاٹس کھیلنے کے عادی ہیں۔

 اس طرح بہت کم ہی کامیابی ملتی ہے، جدید دور میں حریف ٹیمیں بھی بہت جلدی خامیاں جانچ لیتی ہیں لہذا ایسے بیٹسمین زیادہ تر جلد آؤٹ ہو جاتے ہیں، حارث کی مثال سامنے ہے، 12 ٹی ٹوئنٹی میچز میں ان کا سب سے بڑا اسکور 41 ہے جو اسی سیریز کے تیسرے میچ میں بنایا، اسی طرح نواز یقینی طور پر باصلاحیت ہیں لیکن اس طرح سے کھیل کر وہ خود کو بڑا بیٹسمین نہیں بنا سکتے، سلمان علی آغا کو بھی بہتری کی ضرورت ہے، شاداب خان کی واپسی پر بہت تنقید ہوئی جو کہ اب درست ثابت ہو گئی ہے، سلیکٹرز نے نوجوان کھلاڑیوں پر مشتمل اسکواڈ تشکیل دیا، بابر اعظم اور محمد رضوان کو باہر کر دیا گیا لیکن اس ٹیم میں تجربے کی کمی محسوس ہوئی، کوئی ایساکھلاڑی نہیں تھا جو اننگز کو لے کر آگے بڑھے۔

 اسی لیے پہلے میچ میں 91پر آؤٹ ہو گئے اور چوتھے ٹی ٹوئنٹی میں بھی بمشکل سنچری مکمل ہوئی، توازن ضروری ہے، میں بھی نوجوان کھلاڑیوں کو مواقع دینے کا حامی ہوں لیکن نیوزی لینڈ کے مشکل دورے میں انھیں بھیجنا درست نہیں لگتا، یہ کنڈیشنز ان کے لیے نئی تھیں، بولرز کی فارم بھی مایوس کن ہے، حارث رؤف نے اچھی بولنگ کی لیکن شاہین شاہ آفریدی مایوس کر رہے ہیں، انھیں ماضی جیسی فارم واپس لانے کیلئے وسیم اکرم اور وقار یونس جیسے بولرز سے مدد لینی چاہیے، اس سال چیمپئنز ٹرافی اور اگلے برس ورلڈ کپ ہوگا، ہمیں یقینی طور پر ابھی سے اس کیلئے اچھی ٹیم تیار کرنا ہے لیکن جلد بازی سے بچتے ہوئے سوچ سمجھ کر فیصلے کرنے ہوں گے، ہمیں نوجوان کرکٹرز کے ساتھ بعض سینئرز کو بھی رکھ کر انھیں بھی جدید کرکٹ کھیلنے کی تلقین کرنا ہوگی، ساتھ نئے کھلاڑیوں کو سمجھائیں کہ آنکھیں بند کر بیٹ گھمانا جدید کرکٹ نہیں ہے، آپ نے نیوزی لینڈ کے بیٹسمینوں کو بھی دیکھا انھوں نے بھی چھکے لگائے لیکن آڑے ترچھے شاٹس نہیں کھیلے، یقینی طور پر ہمارے نوجوان کرکٹرز باصلاحیت ہیں، میں قطعی طور پر اس تاثر سے متفق نہیں کہ ملک میں ٹیلنٹ آنا بند ہو گیا ہے، ہمارے پاس اچھے کھلاڑی موجود ہیں۔

 ضرورت انھیں تلاش کر کے صلاحیتیں نکھارنے کی ہے، میں نے اخبار میں پڑھا تھا کہ پی سی بی نے شکستوں کے بعد تنقید سے ڈر کر تبدیلیاں نہ کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے، انہی کھلاڑیوں کو متواتر مواقع دیے جائیں گے، نوجوانوں کو اعتماد دینا اچھی بات ہے، اس سے وہ کھل کر صلاحیتوں کا اظہار کر سکتے ہیں لیکن کیا درست پلیئرز مواقع پا رہے ہیں یہ دیکھنا اہم ہے، ہم سب چاہتے ہیں کہ ہماری ٹیم فتوحات حاصل کرے لیکن اس کیلئے انتھک کوششیں ضروری ہیں، نیوزی لینڈ، آسٹریلیا، انگلینڈ اور جنوبی افریقہ کے جونیئر ٹورز رکھنے چاہیئں تاکہ اگر کسی نوجوان کھلاڑی کو سینئر ٹیم کے ساتھ وہاں جانا پڑے تو وہ کنڈیشنز سے آگاہ ہو، اس طرح وہ اچھا کھیل پیش کر سکے گا اور جدوجہد نہیں کرنا پڑے گی، ابھی جو نئے کھلاڑی نیوزی لینڈ گئے ان میں سے کسی کو بھی وہاں کھیلنے کا تجربہ نہ تھا اسی لیے مسائل ہوئے، آئندہ ایسا نہ ہو اس کے لیے ابھی سے منصوبہ بندی کرنی چاہیے۔

 ایکدم سے سینئرز کو باہر نہیں نکالا جا سکتا، بابر اعظم اور محمد رضوان کی پاکستان کرکٹ کیلئے بڑی خدمات ہیں، یہ دیکھیں کہ انھیں کہاں اور کس انداز سے استعمال کر سکتے ہیں، اگر جونیئر اور سینئرز کے امتزاج سے متوازن اسکواڈ تشکیل دیا جائے تو کوئی وجہ نہیں کہ پاکستانی ٹیم بھی تسلسل سے انٹرنیشنل کرکٹ میں اچھا کھیل پیش نہ کر سکے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: نوجوان کھلاڑی نیوزی لینڈ لیکن ا کو بھی

پڑھیں:

جوز بٹلر نے یونیورس باس کو بھی پیچھے چھوڑ دیا

انگلینڈ کے مایہ ناز وکٹ کیپر بلے باز جوز بٹلر نے ویسٹ انڈیز کے لیجنڈ کرس گیل کو پیچھے چھوڑ دیا۔

دی ہنڈریڈ میں مانچسٹر سپر جائنٹس اور لندن اسپرٹ کے درمیان لارڈز میں کھیلے گئے میچ کے دوران بٹلر نے صرف 16 رنز کی اننگز کھیلنے کے باوجود ٹی ٹوئنٹی کیریئر 14 ہزار 572 رنز کے ساتھ ٹی ٹوئنٹی کرکٹ کی تاریخ میں دوسرے سب سے زیادہ رنز بنانے والے بلے باز بن گئے۔

کرس گیل اب 14 ہزار 562 رنز کے ساتھ تیسرے نمبر پر چلے گئے ہیں۔

ٹی ٹوئنٹی کرکٹ میں سب سے زیادہ رنز بنانے کا عالمی ریکارڈ اب بھی ویسٹ انڈیز کے آل راؤنڈر کیرون پولارڈ کے پاس ہے جنہوں نے 14 ہزار 803 رنز بنا رکھے ہیں۔

        View this post on Instagram                      

بٹلر اب اس سنگ میل سے صرف 231 رنز دور ہیں اور رواں سیزن میں یہ اعزاز اپنے نام کر سکتے ہیں۔

واضح رہے کہ 35 سالہ بٹلر بین الاقوامی ٹی ٹوئنٹی کرکٹ میں بھی سب سے زیادہ رنز بنانے والوں کی فہرست میں تیسرے نمبر پر موجود ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • غیر ضروری وزارتیں ختم کرکے 5 ہزار ارب کی بچت ممکن ہے، سینیٹ کمیٹی
  • کراچی؛ موٹر سائیکل سوار نوجوان کی خاتون سے نازیبا حرکت، ویڈیو سامنے آگئی
  • غیر ضروری وزارتیں ختم کرکے سالانہ 5 ہزار ارب روپے کی بچت ممکن ہے، سینیٹ کمیٹی
  • جوز بٹلر نے یونیورس باس کو بھی پیچھے چھوڑ دیا
  • اسکردو: سیلفی بناتے کچورا جھیل میں گرے موبائل کو نکالتے ہوئے نوجوان گر کر جاں بحق
  • کراچی، نوجوان لڑکی کو گھر میں گھس کر اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا، والد کی مدعیت میں مقدمہ درج
  • کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
  • رحیم یارخان: لاپتا نوجوان کی لاش گرفتار ایس ایچ او کی نشاندہی پر برآمد
  • بلاول کے پنجاب کے شہروں کی صورتحال پر سوالات، مریم اورنگزیب نے ویڈیو جاری کرکے جواب دیدیا
  • جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے رکنِ پارلیمنٹ  کی نوجوان خاتون کے ساتھ نازیبا ویڈیو سامنے آگئی