آرمی چیف کی والدہ انتقال کر گئیں، جنرل عاصم نے نماز جنازہ خود پڑھائی: صدر، وزیراعظم، نوازشریف دیگر کی شرکت
اشاعت کی تاریخ: 26th, March 2025 GMT
راولپنڈی؍ اسلام آباد؍ شیخوپورہ (اپنے سٹاف رپورٹر سے+ نمائندہ خصوصی+ خبر نگار ) چیف آف آرمی سٹاف جنرل سید عاصم منیر کی والدہ ماجدہ انتقال کرگئیں۔ مرحومہ کی نماز جنازہ ریس کورس آرمی قبرستان راولپنڈی میں ادا کی گئی۔ چیف آف آرمی سٹاف جنرل سید عاصم منیر نے اپنی والدہ ماجدہ کی نماز جنازہ خود پڑھائی۔ نماز جنازہ میں صدر آصف زرداری، وزیر اعظم محمد شہباز شریف، نواز شریف، چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی جنرل ساحر شمشاد مرزا، پاک فضائیہ اور پاک نیوی کے سربراہان، وزیر دفاع خواجہ محمد آصف، سابق آرمی چیف اشفاق پرویز کیانی، سابق آرمی چیف قمر جاوید باجوہ، سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق، چیئرمین سینٹ سید یوسف رضا گیلانی، وزیر اعظم آزاد کشمیر چوہدری انوارالحق، انوارالحق کاکڑ، محسن نقوی، مراد علی شاہ، سرفراز بگٹی، کامران ٹیسوری، رانا ثناء اللہ، وفاقی وزراء محمد حنیف عباسی، ڈاکٹر طارق فضل چوہدری، انجینئر امیر مقام سمیت بڑی تعداد میں سفارتکاروں، دینی، سیاسی و سماجی شخصیات، اعلی عسکری و سرکاری حکام نے شرکت کی۔ نماز جنازہ کے بعد آرمی چیف کی والدہ مرحومہ کو اشکبار آنکھوں کے ساتھ آرمی ریس کورس قبرستان میں سپرد خاک کردیا گیا۔ قبل ازیں صدر مملکت آصف زرداری، وزیر اعظم شہباز شریف اور دیگر اعلیٰ حکومتی شخصیات نے چیف آف آرمی سٹاف جنرل سید عاصم منیر کی والدہ کے انتقال پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا۔ صدر زرداری نے کہا کہ میں ان کے غم میں برابر کا شریک ہوں۔ وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ جنرل سید عاصم منیر کے سوگوار خاندان کے دکھ میں ہم برابر کے شریک ہیں اور مرحومہ کے لیے بلندی درجات کی دعا کی۔ وزیر دفاع خواجہ آصف، وزیر اطلاعات عطاء تارڑ نے تعزیت کرتے ہوئے مرحومہ کی بخشش اور بلندی درجات کیلئے دعا کی ہے۔ سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے کہا کہ والدین قدرت کا انمول تحفہ ہیں، ان کا بچھڑنا ایک ناقابل تلافی نقصان اور بڑا صدمہ ہے۔ غم اور دکھ کی اس گھڑی میں سید عاصم منیر اور ان کے اہلخانہ کے ساتھ ہیں۔ وزیر داخلہ محسن نقوی نے جنرل سید عاصم منیر اور ان کے خاندان کے ساتھ دلی ہمدردی کا اظہار کیا اور مرحومہ کی بلندی درجات کی دعا کی۔ وفاقی وزیر برائے امور کشمیر، گلگت بلتستان و سیفران انجینئر امیر مقام نے کہا کہ والدہ کی وفات ایک ناقابل تلافی نقصان ہے۔ گورنر سندھ کامران خان ٹیسوری نے کہا کہ اللہ تعالیٰ مرحومہ کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے۔ بلاول بھٹو نے کہا ہے کہ ماں کا سایہ اٹھ جانا زندگی کا سب سے بڑا صدمہ ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ آرمی چیف اور ان کے اہلخانہ کو صدمہ برداشت کرنے کی توفیق دے۔ سینٹ میں مسلم لیگ (ن) کے پارلیمانی لیڈر عرفان صدیقی، وزیر مملکت داخلہ طلال چودھری، وفاقی وزیر قیصر احمد شیخ، وزیر مملکت عبدالرحمان کانجو، چیئرمین پرائم منسٹر یوتھ پروگرام رانا مشہود، وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ، وزیر مملکت ریلوے بلال اظہر گیلانی، وزیر ریلوے محمد حنیف عباسی، وفاقی وزیر آئی ٹی و ٹیلی کام شزا فاطمہ خواجہ، وزیر تعلیم خالد مقبول صدیقی، وزیر تجارت جام کمال، وزیر غذائی تحفظ رانا تنویر، رانا ثناء اللہ، چیئرمین سینٹ یوسف رضا گیلانی، وزیر امور کشمیر انجینئر امیر مقام، وزیر صحت مصطفیٰ کمال، وزیر مملکت مختار بھرتھ، وفاقی وزیر پاور ڈویژن اویس لغاری، وزیر پارلیمانی امور طارق فضل چودھری، وفاقی وزیر خالد مگسی نے بھی آرمی چیف سے اظہار تعزیت کیا ہے۔ فضل الرحمن، عبدالغفور حیدری، ڈپٹی چیئرمین سینٹ نے بھی جنرل عاصم منیر کی والدہ کے انتقال پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا ہے۔ پیپلز پارٹی وسطی پنجاب کے صدر راجہ پرویز اشرف نے کہا ہے کہ جنرل سید عاصم منیر کی والدہ کے انتقال پر ان کے دکھ میں شریک ہیں۔ شیخوپورہ نمائندہ خصوصی کے مطابق چیئرمین تحریک انصاف نظریاتی اختر اقبال ڈار نے کہا کہ اللہ تعالیٰ مرحومہ کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام دے اور ان کی اگلی منزلیں آسان کرے، لواحقین کو صبر جمیل عطا کرے۔ ماں باپ راضی ہوں تو رب راضی، رب راضی تو جگ راضی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: عاصم منیر کی والدہ وفاقی وزیر وزیر مملکت نے کہا کہ ا رمی چیف اور ان
پڑھیں:
موسلادھار بارش سے اربن فلڈنگ، سڑکیں دریا بن گئیں، گھروں میں پانی داخل
لاہور میں رات گئے شروع ہونے والی موسلادھار بارش کے بعد اربن فلڈنگ کی صورتحال پیدا ہوگئی، جس کے باعث متعدد رہائشی علاقوں اور اہم شاہراہوں پر کئی کئی فٹ پانی جمع ہوگیا جبکہ نشیبی علاقوں میں گھروں میں پانی داخل ہونے، ٹریفک جام اور سیوریج نظام مفلوج ہونے سے شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔شہر میں رات گئے شروع ہونے والی بارش وقفے وقفے سے جاری ہے، جس کے باعث شہر کے مختلف علاقوں میں اربن فلڈنگ کی صورتحال پیدا ہوگئی ہے۔ کینٹ، ڈیفنس اور والٹن سمیت متعدد علاقوں میں سڑکیں تالاب کا منظر پیش کرنے لگیں جبکہ کئی مقامات پر گھروں میں بھی پانی داخل ہوگیا۔لاہور کینٹ میں موسلادھار بارش کے باعث سیوریج سسٹم جواب دے گیا، جس سے علی ویو گارڈنز، علی پارک، نادرا آباد اور دیگر علاقوں میں کئی کئی فٹ پانی جمع ہوگیا۔ مقامی افراد کے مطابق بیشتر علاقے ندی نالوں کا منظر پیش کر رہے ہیں۔دوسری جانب ڈیفنس فیز تھری کے اے، بی اور سی بلاکس میں بھی بارش کا پانی گھروں میں داخل ہوگیا جبکہ والٹن روڈ اور کیولری گراؤنڈ میں سڑکیں مکمل طور پر زیر آب آگئیں۔ کیولری گراؤنڈ کی مرکزی شاہراہ بھی پانی میں ڈوب گئی، جس کے باعث آمدورفت شدید متاثر رہی۔بارش کے بعد مین ڈیفنس روڈ پر بھی پانی جمع ہونے سے سڑک دریا کا منظر پیش کرنے لگی جبکہ ڈیفنس انڈر پاس بھی پانی سے بھر گیا۔ شہر کے مختلف حصوں میں پانی کھڑا ہونے کے باعث ٹریفک کی روانی شدید متاثر ہوئی، گاڑیوں کی طویل قطاریں لگ گئیں اور شہریوں کو گھنٹوں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔مسلسل بارش کے باعث لاہور کی بیشتر شاہراہیں جل تھل ہوگئیں جبکہ روزمرہ زندگی بری طرح متاثر رہی۔ شہریوں نے متعلقہ اداروں سے نکاسی آب کے مؤثر انتظامات اور فوری ریلیف فراہم کرنے کا مطالبہ کیا۔محکمہ موسمیات کے مطابق آج دن پر وقفے وقفے سے بارش کا سلسلہ جاری رہے گا، مون سون کی بارشوں کے باعث لاہور میں حبس اور گرمی کی شدت میں کمی آگئی ہے۔لاہور میں کم سے کم درجہ حرارت 27 ڈگری سینٹی گریڈ جبکہ زیادہ سے زیادہ 29 ڈگری سینٹی گریڈ تک جانے کا امکان ہے۔لاہور میں سب سے زیادہ بارش ایئرپورٹ پر 262 ملی میٹر ریکارڈ کی گئی ہے جبکہ مناواں میں 200، تاجپور میں 151، کاہنہ میں 142، شادی پورہ میں 129 اور مغل پورہ میں 127 اور اپر مال پر 111 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی۔جوہر ٹاؤن میں 80، چوک ناخدا میں 60، نشتر ٹاؤن میں 54، اقبال ٹاؤن میں 51، گلبرگ میں 49، ڈیفنس روڈ 45، سمن آباد میں 29، جیل روڈ اور پانی والا تالاب 26، لکشمی چوک اور فرخ آباد میں 24، سگیاں میں 21 اور گلشن راوی میں 17 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی۔ایم ڈی واسا لاہور غفران احمد نکاسی آب آپریشن کی مسلسل مانیٹرنگ کر رہے ہیں۔علامہ اقبال انٹرنیشنل ایئرپورٹ اور اس کے آس پاس کے علاقوں میں شدید بارش کا سلسلہ جاری ہے جس کے سبب اندرون اور بیرون ملک جانے اور آنے والی پروازیں متاثر ہوگئیں۔لاہور سے کراچی، دبئی، جدہ، ابو ظہبی، استنبول جانے اور آنے والی 6 پروازیں تاخیر کا شکار ہوئیں۔ شدید بارش سے پروازوں کی آمد و رفت میں تاخیر ہوئی۔ایئرپورٹ حکام نے مسافروں کو اپنی پروازوں کے بارے میں معلومات لیکر آنے کی ہدایت کی ہے۔