شعیب ملک کی اپنی خوبصورت اہلیہ کو سالگرہ کی مبارکباد
اشاعت کی تاریخ: 26th, March 2025 GMT
قومی کرکٹر شعیب ملک نے اپنی اہلیہ اداکارہ ثناء جاوید کی خوبصورتی کی تعریف کرتے ہوئے انہیں سالگرہ کی مبارک باد دی ہے۔
نجی ٹی وی کے بلاک بسٹر پروجیکٹس ’خانی‘ اور ’خدا اور محبت 3‘ کی اداکارہ ثناء جاوید نے گزشتہ روز اپنی 32 ویں سالگرہ منائی۔
اس موقع پر شعیب ملک نے اپنے انسٹاگرام اکاؤنٹ پر ثناء جاوید کے ہمراہ ایک بلیک اینڈ وائٹ تصویر شیئر کی۔
View this post on InstagramA post shared by Shoaib Malik (@realshoaibmalik)
اس پوسٹ کے کیپشن میں کرکٹر نے لکھا ہے کہ ’سالگرہ مبارک ہو خوبصورت‘۔
شعیب ملک نے اس پوسٹ میں ثناء جاوید کا ساتھ پر شکریہ ادا کرنے کے علاوہ ان کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار بھی کیا ہے۔
یاد رہے کہ آج کل سابق کرکٹر شعیب ملک اور اداکارہ ثناء جاوید کے والدین بننے سے متعلق خبریں بھی زیرِ گردش ہیں۔
شعیب ملک اور معروف اداکارہ ثناء جاوید کے ہاں پہلے بچے کی متوقع پیدائش سے متعلق خبریں سوشل میڈیا پر پھیلی ہوئی ہیں۔
ناصرف پاکستانی بلکہ بھارتی میڈیا پلیٹ فارمز پر بھی یہ خبریں شدت اختیار کر رہی ہیں کہ شعیب ملک جو پہلے سے ایک بیٹے اذہان مرزا ملک کے والد ہیں، دوسری مرتبہ والد بننے والے ہیں۔
Post Views: 1.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: شعیب ملک
پڑھیں:
موضوع: کربلا میں خواتین کا کردار اور ھم
دین و دنیا پروگرام اسلام ٹائمز کی ویب سائٹ پر ہر جمعہ نشر کیا جاتا ہے، اس پروگرام میں مختلف دینی و مذہبی موضوعات کو خصوصاً امام و رہبر کی نگاہ سے، مختلف ماہرین کے ساتھ گفتگو کی صورت میں پیش کیا جاتا ہے۔ ناظرین کی قیمتی آراء اور مفید مشوروں کا انتظار رہتا ہے۔ متعلقہ فائیلیں پروگرام: دین و دنیا
موضوع: کربلا میں خواتین کا کردار اور ھم
مہمان: عالمہ رافعہ منیر
میزبان : مولانا سید تقی زیدی
پیش کار و مدیر: سید انجم رضا
پیشکش: آئی ٹائمز ٹی وی اسلام ٹائمز اردو
خلاصہ گفتگو:
کربلا میں عشق کے دو بلند ترین مینار ہیں: ایک سرورِ شہداء امام حسین علیہ السلام کی قربانی کا جلوہ، اور دوسرا اس آفتابِ عصمت کی تابناکی، جس کا نام حضرت زینب سلام اللہ علیہا ہے۔ یہیں پر خواتین کا کردار تاریخ کی سب سے درخشاں داستان بن کر ابھرتا ہے۔ بی بی زینبؑ نے نہ صرف اپنی آنکھوں سے بھائی کے لہو کا منظر دیکھا، بلکہ اپنی گفتار اور استقامت سے عاشورہ کی نہضت کو ابدی زندگی عطا کی، یزید کی باطل حکومت کو جوابِ شافی دیا اور اسے اخلاقی شکست کا مزہ چکھایا۔ کربلائی خواتین نے اپنے شوہروں، بھائیوں اور بچوں کو حوصلہ دیا کہ وہ اپنے امام کی راہ میں سبقت کریں؛ چنانچہ چھوٹے سے چھوٹے طفلِ شیرخوار نے بھی لبِ تشنہ سے قربانی کا یہ پیغام جگا دیا کہ عشقِ حسینی میں کسی کو کسی کی پروا نہیں، بس جلوۂ حق ہے اور اس کی خاطر ہر چیز فدا۔
یہ انفرادی جہاد ہی نہیں، بلکہ خواتین کا اجتماعی کردار بھی معاشرے کی تشکیل میں ناقابلِ فراموش حیثیت رکھتا ہے۔ شہیدِ امت، رہبر معظم انقلاب نے بارہا اس حقیقت کو اجاگر کیا ہے کہ معاشرہ خواتین کے کردار کے بغیر اپنی پختگی اور تکمیل نہیں پا سکتا۔ لہٰذا خواتین کو اپنے ہر شعبۂ زندگی، خاص طور پر علم و تعلیم کے میدان میں کمال حاصل کرنا چاہیے، کیونکہ بعض ذمہ داریاں ایسی ہیں جنہیں مرد انجام نہیں دے سکتے، مگر ایک باہوش، باصلاحیت اور تربیت یافتہ عورت انہیں بہترین انداز میں سرانجام دے سکتی ہے۔ یہی وہ راہ ہے جو کربلا کی درسگاہ سے نکلتی ہے اور ہر دور کی خواتین کو اپنی داخلی قوت کو پہچاننے اور اپنے معاشرتی فرائض کو پورا کرنے کا پیغام دیتی ہے۔