ویوو نے Boao Forum 2025 میں روبوٹکس لیب کا اعلان کرتے ہوئے اپنا پہلا مکسڈ رئیلٹی ہیڈسیٹ پیش کردیا
اشاعت کی تاریخ: 26th, March 2025 GMT
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 26 مارچ2025ء) آج Boao، Hainan میں Boao Forum for Asia Annual Conference 2025 کا آغاز ہوا۔ ویوو نے مسلسل چوتھے سال ایونٹ کے اسٹریٹیجک پارٹنر اور Boao Forum for Asia کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کے نئے رکن کے طور پر اپنی جدید ترین ٹیکنالوجیز پیش کی ہیں۔ ان ٹیکنالوجیز میں Blue Technology Matrix ( BlueImage, BlueLM, BlueOS, BlueChip, BlueVolt), vivo Vision (vivo MR headset) اور 6G میں پیش رفت کے ساتھ اور دیگر ٹیکنالوجیز شامل ہیں۔
اس کے علاوہ، ویوو کے آنے والے فلیگ شپ امیجنگ سمارٹ فون ویوو X200 Ultra کو "Official Smartphone of Boao Forum for Asia" کا اعزاز دیا گیا ہے۔25 مارچ کی سہ پہر Boao Forum میں منعقدہ "vivo Release Moment" سیشن کے دوران، ویوو کے ایگزیکٹو نائب صدر، چیف آپریٹنگ آفیسر اور vivo Central Research Institute کے صدر ہو بائی شان نے "Humanity in the Future of Technology by vivo" کے عنوان سے خطاب دیا۔
(جاری ہے)
اپنی تقریر میں، ہو بائی شان نے کہا کہ موبائل فون انڈسٹری چین کی ٹیکنالوجیکل جدت کا عکاس ہے اور ویوو کی ترقی اس شعبے کی پیش رفت کو ظاہر کرتی ہے۔
انہوں نے کمپنی کی تین دہائیوں پر محیط بنیادی کاروباری حکمت عملیوں پر روشنی ڈالی، جن میں تین اہم پہلو شامل ہیں: طویل مدتی وژن، انسانیت پر مبنی سوچ، اور تعاون و مشترکہ کامیابی پر توجہ۔ آج تک ویوو مسلسل چار سال سے چین کی مارکیٹ میں سب سے بڑا مقامی سمارٹ فون برانڈ ہے اور 60 سے زائد ممالک اور خطوں میں 500 ملین سے زیادہ صارفین کو خدمات فراہم کر رہا ہے۔Boao Forum میں پہلی بار پیش کیا گیا ویوو وژن مکسڈ ریئلٹی ٹیکنالوجی کے سفر میں ایک سنگ میل ثابت ہوا ہے۔ اسی تسلسل میں، ویوو X200 Ultra، جو اگلے ماہ لانچ ہونے والا ہے، امیجنگ میں جدید ترین ویوو ٹیکنالوجی کو شامل کرے گا۔
مستقبل میں، ویوو روبوٹکس کو عام زندگی میں شامل کرنے اور عالمی سطح پر صنعت کے شراکت داروں کے ساتھ مل کر گھریلو روبوٹس متعارف کرانے کے لیے پُرعزم ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے موبائل فون انڈسٹری ہو بائی شان
پڑھیں:
وسیم اکرم، مصباح اور فخر عالم نے اپنی حج کی پوسٹس پر ہونے والی تنقید کا جواب دے دیا
پاکستانی کرکٹ کے لیجنڈ وسیم اکرم، سابق کپتان مصباح الحق، میزبان و اداکار فخر عالم، سابق کرکٹر سعید انور اور دیگر معروف شخصیات نے اس سال مشترکہ طور پر فریضۂ حج ادا کیا۔ تاہم دورانِ حج سوشل میڈیا پر ان کی بعض ویڈیوز اور تصاویر وائرل ہونے کے بعد انہیں تنقید کا سامنا بھی کرنا پڑا۔
وسیم اکرم کی رمی الجمرات کے دوران شیئر کی گئی ایک ویڈیو، جس میں انہوں نے اپنے مخصوص سوئنگ اسٹائل میں شیطان کو کنکریاں مارنے کا انداز اپنایا، خاصی وائرل ہوئی۔ بعد ازاں ایک اور ویڈیو میں وہ مصباح الحق کے لیے کیلے اٹھائے ہوئے دکھائی دیے، جس پر بھی صارفین نے مختلف تبصرے کیے۔
دوسری جانب فخرِ عالم نے اپنے حج سفر کی متعدد جھلکیاں سوشل میڈیا پر شیئر کیں جن میں اداکار بلال عباس خان اور کامیڈین تابش ہاشمی سمیت دیگر شخصیات بھی نظر آئیں۔ ان سرگرمیوں کے باعث بعض سوشل میڈیا صارفین نے اس سفر کو ’’حج کے بجائے پکنک‘‘ قرار دیا۔
@timesofkarachiWhy didn’t Wasim Akram, Fakhar-e-Alam, and Misbah-ul-Haq shave their heads as part of the Hajj ritual? #TOKReports #Hajj #WasimAkram #FakhareAlam #MisbahulHaq
♬ original sound - Times of Karachiحالیہ گفتگو میں وسیم اکرم، فخرِ عالم اور مصباح الحق نے ان تنقیدی تبصروں کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ بہت سے لوگوں نے سوال اٹھایا کہ انہوں نے حج کے بعد سر منڈوانے کے بجائے صرف بال کیوں کٹوائے۔ ان کے مطابق حج پر روانگی سے قبل انہوں نے علماء کرام سے رہنمائی حاصل کی تھی جنہوں نے دو شرعی آپشنز بتائے تھے، یا تو مکمل سر منڈوایا جائے یا پھر قصر کروائی جائے، جس میں بالوں کا ایک حصہ کٹوایا جاتا ہے۔ انہوں نے دوسرا طریقہ اختیار کیا جو شرعی طور پر جائز ہے۔
انہوں نے ’’حج یا پکنک‘‘ سے متعلق تنقید پر بھی ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ حج ایک عظیم عبادت ہے، لیکن اس دوران انسان چوبیس گھنٹے صرف ایک ہی عمل میں مصروف نہیں رہتا۔ عبادت کے ساتھ دوستوں سے ملاقات، گفتگو، دعائیں، مسکراہٹیں اور خوشی کے لمحات بھی اس سفر کا حصہ ہوتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ تنقید کرنے سے پہلے لوگوں کو ان معاملات کی مکمل معلومات حاصل کرنی چاہئیں۔
وسیم اکرم اور ان کے ساتھیوں نے بتایا کہ انہوں نے نوجوان نسل کے لیے بھی مختلف ویڈیوز بنائیں تاکہ حج کی ادائیگی سے متعلق رہنمائی فراہم کی جا سکے اور نوجوانوں میں اس مقدس سفر کا شوق پیدا ہو۔ ان کے مطابق ان ویڈیوز کا مقصد صرف معلومات دینا اور لوگوں کو حج کے لیے آمادہ کرنا تھا۔
مدینہ منورہ سے گفتگو کرتے ہوئے فخر عالم نے کہا کہ حج مکمل کرنے کے بعد سب سے زیادہ یہی سوال پوچھا جا رہا ہے کہ آخر انہیں حج پر جانے کی ترغیب کیسے ملی۔ اس سوال کے جواب میں وسیم اکرم نے کہا کہ انہوں نے پہلے سے کوئی خاص منصوبہ بندی نہیں کی تھی، بلکہ وہ ہمیشہ یہی سوچتے تھے کہ جب دل سے تیاری محسوس ہوگی تو حج کریں گے۔ ان کے بقول جب انہیں معلوم ہوا کہ فخر عالم اور مصباح الحق بھی حج پر جا رہے ہیں تو انہوں نے بھی اس قافلے میں شامل ہونے کا فیصلہ کر لیا۔
View this post on Instagramوسیم اکرم نے مزید کہا کہ وہ جلد 60 برس کے ہونے والے ہیں اور انہیں محسوس ہوا کہ اب اس مقدس فریضے کی ادائیگی کا بہترین وقت آ گیا ہے۔ انہوں نے حج کے سفر کو جسمانی طور پر مشکل لیکن یادگار اور قابلِ برداشت قرار دیا۔
مصباح الحق نے بھی اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حج کا یہ سفر ان کی زندگی کے خاص ترین تجربات میں سے ایک ہے۔ ان کے مطابق دوستوں کے ساتھ اس روحانی سفر کو طے کرنے سے اس کی خوبصورتی اور یادیں مزید بڑھ گئیں، اور یہ تجربہ ہمیشہ ان کے دل میں محفوظ رہے گا۔