آخری ٹی ٹوئنٹی: نیوزی لینڈ کا جارحانہ کھیل، 10ویں اوور میں ہدف حاصل کرکے پاکستان کو شکست دیدی
اشاعت کی تاریخ: 26th, March 2025 GMT
ٹی ٹوئنٹی سیریز کے آخری میچ کی پہلی اننگز میں نیوزی لینڈ کی ٹیم ایک بار پھر پاکستان پر حاوی رہی۔
کیویز نے پاکستان کے خلاف ٹاس جیت کر فیلڈنگ کا فیصلہ کیا تھا، قومی ٹیم نے پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے 9 وکٹوں کے نقصان پر مقررہ 20 اوورز میں 128 رنز اسکور کیے۔
ویلنگٹن ریجنل اسٹیڈیم میں کھیلے جارہے اس میچ میں پاکستانی اوپنرز ناکام ہوگئے اور دونوں 23 رنز کے مجموعی اسکور پر پویلین لوٹ گئے۔
حسن نواز کو صفر پر جب کہ محمد حارث کو 11 رنز پر پویلین واپس جانا پڑا۔ اس کے بعد عمیر بن یوسف اور عثمان خان دونوں 7,7 رنز بناکر آؤٹ ہوئے۔ عبدالصمد 4، شاداب 28، جہانداد 1، سلمان علی آغا 51 جب کہ صفیان مقیم اور محمد علی صفر ہی بناسکے۔ حارث رؤف 6 رنز بنا کر ناٹ آؤٹ رہے۔
نیوزی لینڈ کی جانب سے جیمز نیشم (جمی نیشم) نے پانچ وکٹیں حاصل کیں، اس کے علاوہ جیکب ڈفی 2 ، بین سیرز اور ایش سوڈھی ایک ایک وکٹ لینے میں کامیاب رہے۔
ٹیم سے فاسٹ بولر شاہین شاہ آفریدی کو ڈراپ کیا گیا ہے، پاکستان ٹیم میں عمیر بن یوسف،عثمان خان،جہانداد خان،سفیان مقیم،محمد علی کی شمولیت ہوئی ہے۔
اس کے علاوہ قومی ٹیم میں کپتان سلمان علی آغا سمیت حسن نواز، شاداب خان اور حارث رؤف بھی شامل ہیں۔
Post Views: 1.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
غیر ضروری وزارتیں ختم کرکے 5 ہزار ارب کی بچت ممکن ہے، سینیٹ کمیٹی
غیر ضروری وزارتیں ختم کرکے 5 ہزار ارب کی بچت ممکن ہے، سینیٹ کمیٹی WhatsAppFacebookX 0 24 July, 2026 سب نیوز
اسلام آباد(آئی پی ایس )سینیٹ کمیٹی کے اجلاس میں ارکان نے کہا ہے کہ غیر ضروری وزارتوں کو ختم کرکے سالانہ 5 ہزار ارب روپے تک کی بچت کرنا ممکن ہے۔سینیٹر ضمیر حسین کی زیر صدارت سینیٹ کی فنکشنل کمیٹی برائے ڈیولوشن کا اجلاس منعقد ہوا جس میں اٹھارہویں آئینی ترمیم کے بعد اختیارات کی منتقلی اور اس پر عملدرآمد کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔اجلاس کے دوران وفاقی حکومت کی تنظیمِ نو، وزارتوں کی تعداد کم کرنے اور آئینی تقاضوں کے مطابق وفاقی حکومت کے دائر کار کو محدود رکھنے سے متعلق مختلف تجاویز پر بھی تفصیلی بحث کی گئی۔
کمیٹی ارکان نے کہا کہ غیر ضروری وزارتیں ختم کر کے سالانہ 4 سے 5 ہزار ارب روپے کی بچت ممکن ہے ۔ وفاقی حکومت کو آئین کے مطابق محدود دائر کار میں کام کرنا چاہیے۔ کمیٹی نے مشترکہ مفادات کونسل کے آئینی کردار اور اختیارات پر مکمل عملدرآمد یقینی بنانے کا مطالبہ بھی کیا۔اجلاس کے دوران سینیٹر جان محمد بلیدی نے کہا کہ مشترکہ مفادات کونسل کے اجلاس نہ ہونے سے آئینی تقاضے متاثر ہو رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ملک کو مالی بحران سے نکالنے کے لیے حکومتی اخراجات میں نمایاں کمی ضروری ہے،
آئی ایم ایف پر انحصار کم کرنے کے لیے وفاقی اخراجات اور وزارتوں کا ازسرِنو جائزہ لیا جائے، جبکہ این ایف سی اور مشترکہ مفادات کونسل سمیت آئینی اداروں کو فعال بنایا جائے۔کمیٹی میں اس بات پر اتفاق رائے پایا گیا کہ آئینی ادارے فعال ہوں گے تو وفاق اور صوبوں کے کئی مسائل حل ہو سکیں گے۔سینیٹر ضمیر حسین نے کہا کہ سندھ سے روزانہ 3 ارب 70 کروڑ روپے کا تیل نکلتا ہے لیکن صوبے کو کچھ نہیں دیا جاتا، جبکہ خیبرپختونخوا سے 42 فیصد تیل نکلتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ جن صوبوں سے تیل اور گیس نکل رہی ہے انہیں 16 سال سے ایک ٹکہ بھی نہیں دیا گیا، کمپنیاں اور کارپوریشنز منافع کما رہی ہیں جبکہ عوام بھوک سے مر رہے ہیں۔انہوں نے سوال اٹھایا کہ وفاقی حکومت صوبوں کو تیل اور گیس کے پیسے کیوں نہیں دے رہی۔ صوبوں کو ان کا حصہ نہ دینا بری حکمرانی ہے۔ حکومت نہ اٹھارہویں آئینی ترمیم پر عملدرآمد کر رہی ہے اور نہ ہی صوبوں کو سپورٹ کر رہی ہے۔
اجلاس میں آئین کے آرٹیکل 38(جی) پر عملدرآمد سے متعلق تقرریوں کے طریقہ کار پر کمیٹی کو رپورٹ پیش کی گئی جبکہ وزارتِ پیٹرولیم نے آئین کے آرٹیکل 172(3) پر عملدرآمد کے حوالے سے بریفنگ دی۔ کنویئر کمیٹی نے زور دیا کہ ہر ادارہ اپنی آئینی ذمہ داری ادا کرے اور آئین پر مکمل عملدرآمد یقینی بنایا جائے۔کنویئر کمیٹی نے کہا کہ تیل و گیس پیدا کرنے والے صوبوں کو ان کا آئینی حق نہ دینا سنگین خلاف ورزی ہے ۔ خیبرپختونخوا و سندھ کو تیل و گیس سے حاصل ہونے والے فوائد سے محروم رکھا جا رہا ہے۔
بعد ازاں کمیٹی نے تیل و گیس پیدا کرنے والے علاقوں کی متعلقہ اداروں میں نمائندگی نہ ہونے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے تیل و گیس سے حاصل آمدن کی مکمل تفصیلات کمیٹی کو فراہم کرنے کی ہدایت کی۔کمیٹی نے اس بات پر بھی زور دیا کہ صوبوں کے آئینی حقوق کے تحفظ کے بغیر وفاق مضبوط نہیں ہو سکتا، آئین پر عمل نہ ہونے سے سیاسی اور انتظامی مسائل جنم لیتے ہیں۔ سرکاری اداروں میں غیر ضروری اخراجات کم کر کے قومی وسائل بچائے جا سکتے ہیں، اس لیے ڈپلیکیٹ محکموں اور غیر ضروری اخراجات کا بھی جامع جائزہ لیا جانا چاہیے۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookX پچھلی خبرجارحیت کے باوجود مذاکرات کا دروازہ اب بھی کھلا ہے، ایران جارحیت کے باوجود مذاکرات کا دروازہ اب بھی کھلا ہے، ایران اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کی ڈپٹی سیکرٹری وزارتِ خزانہ عائشہ جاوید کو بین الاقوامی اعزاز پر مبارکباد پاکستان اور آذربائیجان نے دیرینہ دوستی مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کردیا کیوبا کے سفارتخانے میں فوٹو نمائش کے ذریعے فیڈل کاسترو کی صد سالہ تقریبات کا انعقاد چینی وزیر خارجہ سے ملاقات، علاقائی امن کے لیے پاکستان کی سفارتی کوششوں کو سراہنے پر اسحاق ڈار کا اظہارِ تشکر برطانوی ہائی کمیشن میں گلاسگو 2026 دولتِ مشترکہ کھیلوں کے آغاز کی تقریبCopyright © 2026, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم