وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے کہا ہے کہ صحافی حدود کراس کرلیتے ہیں۔ یہ جو ہمارے حالات ہیں، ان سے کوئی بھی مبرا نہیں ہے۔ صحافی برادری اس صورت حال سے الگ تھلگ نہیں ہے۔

پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر میڈیا سے گفتگو کے دوران جب ایک رپورٹر نے صحافی وحید مراد کے اٹھائے جانے کے تناظر میں خواجہ آصف سے پوچھا کہ پی ٹی آئی کے دور میں صحافیوں کو اٹھائے جانے پر ن لیگ اور پیپلز پارٹی کے رہنما صحافیوں کے کیمپوں جا کر ان سے اظہار یکجہتی کرتے ہیں اور آج آپ لوگ حکومت میں ہیں، صحافیوں کو اٹھایا جارہا ہے، اس پر کیا کہیں گے؟

پی ٹی آئی کے دور میں صحافیوں کو اٹھائے جانے پر ن لیگ اور پیپلز پارٹی صحافیوں کے کیمپوں جا کر اظہار یکجہتی کرتے ہیں اور آج آپ لوگ حکومت میں ہیں صحافیوں کو اٹھایا جارہا ہے کیا کہیں گے؟ حواجہ آصف سے میرا سوال اور جواب سنیں pic.

twitter.com/AxjCAkpb2p

— ibrar Wali (@ibrarWaliK) March 26, 2025

خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ کہیں سیاست دان حدود کراس کرلیتے ہیں اور کہیں صحافی۔ یہ جو ہمارے حالات ہیں، ان سے کوئی بھی مبرا نہیں ہے۔ صحافی برادری اس صورت حال سے الگ تھلگ نہیں ہے۔

یاد رہے کہ صحافی وحید مراد کو ان کے اہلخانہ کے مطابق، منگل اور بدھ کی درمیانی شب اسلام آباد کے سیکٹر جی ایٹ میں واقع ان کے گھر سے کالے کپڑوں میں ملبوس نقاب پوش افراد نے ’اغوا‘ کرلیا گیا تھا۔ 13 گھنٹے بعد انہیں ایف آئی اے کے حوالے کردیا گیا۔ بعد ازاں وحید مراد کو اسلام آباد کچہری میں جوڈیشل مجسٹریٹ عباس شاہ کی عدالت میں پیش کر دیا گیا۔ عدالت نے وحید مراد کا 2 روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کرتے ہوئے انہیں ایف آئی اے کے حوالے کردیا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

خواجہ آصف وحید مراد

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: خواجہ ا صف صحافیوں کو خواجہ ا صف نہیں ہے

پڑھیں:

سابق وفاقی وزیر سردار یار محمد رند کی سفری پابندی کیخلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ

اسلام آباد:

اسلام آباد ہائی کورٹ نے سابق وفاقی وزیر سردار یار محمد رند کی سفری پابندی کے خلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ کر لیا۔

جسٹس انعام امین منہاس نے درخواست پر سماعت کی، درخواست گزار کی جانب سے بیرسٹر ظفر اللہ جبکہ اسسٹنٹ اٹارنی جنرل، ایف آئی اے اور امیگریشن حکام بھی عدالت پیش ہوئے۔ عدالتی ہدایت پر بیرسٹر ظفر اللہ نے کوئٹہ پولیس کا خط پڑھا۔

جسٹس انعام امین منہاس نے استفسار کیا کہ متعلقہ پولیس کہہ رہی ہے بندہ نہیں چاہیے، ایف آئی اے کو بھی مطلوب نہیں، جن کو چاہیے تھا ان کو بھی اب نہیں چاہیے، پھر ابھی تک نام کیوں نہیں نکالا؟

ایف آئی اے حکام نے جواب دیا کہ ای سی ایل میں نام نہیں ہے، صرف پی این آئی لسٹ میں نام ہے جو 28 مارچ کو ڈالا گیا۔

عدالت نے استفسار کیا کہ اس لسٹ میں نام کتنے دن کے لیے ہوتا ہے اور کب مکمل ہوئی؟ ایف آئی اے حکام نے بتایا کہ ایک ماہ کے لیے ہوتا ہے اور پھر ایک ماہ کی توسیع لینا ہوتی ہے۔ عدالت نے استفسار کیا کہ زیادہ سے زیادہ 60 روز رکھ سکتے ہیں تو اب جولائی ہے، کتنے ماہ ہوگئے ہیں؟ ایف آئی اے حکام نے بتایا کہ 5 ماہ ہوگئے، ابھی تک ہمیں آفیشلی کوئی اطلاع موصول نہیں ہوئی۔

عدالت نے ایف آئی اے افسر سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ اتنے وقت کیسے آپ رکھ سکتے ہیں، کس قانون کے تحت ابھی تک رکھا ہوا ہے۔ جسٹس راجہ انعام امین نے ریمارکس دیے کہ ایسے کتنے ہی کیسز ہمارے پاس آرہے ہیں، کتنی بار لکھ بھی چکے ہیں، سپریم کورٹ کا فیصلہ بھی ہے۔

عدالت نے سردار یار محمد رند کی سفری پابندی لسٹ سے نام نکالنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کرلیا۔

متعلقہ مضامین

  • پولیس بہترین کارکردگی کے ذریعے اپنے تاثر کو بہتر بناسکتی ہے، وزیراعلیٰ سندھ
  • پی ڈی ایم اے کا دورہ : انتظامیہ ہنگامی حالات سے نمٹنے کیلئے پوری طرح تیار ہے، خواجہ سلمان رفیق
  • سندھ حکومت پولیس فورس کو جدید خطوط پر استوار کرنے کیلئے پرعزم ہے، وزیراعلیٰ سندھ
  • سابق وفاقی وزیر سردار یار محمد رند کی سفری پابندی کیخلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ
  • پاسدارانِ انقلاب کی دھمکی پر برطانیہ کا بھی سخت ردعمل آگیا
  • لاہور میں آج موسم ابرآلود، بارش کا کتنا امکان؟
  • بدقسمت خواجہ سرا۔۔۔؟
  • سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس،فلم "بلھا" پر پابندی یا نام تبدیلی کی سفارش، صحافیوں کے ہاؤسنگ کوٹے اور پیکا کیسز پر اہم فیصلے
  • وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
  • پاکستان کے دفاع، سیکیورٹی کے شعبے میں ٹیکنالوجی کا استعمال قابل فخر ہے، وزیراعظم