گوگل میپس کا استعمال روزانہ کروڑوں افراد کرتے ہیں اور اس نیوی گیشن سروس میں کافی کچھ ڈھونڈتے بھی ہیں۔

اگر آپ پرہجوم شہر میں گاڑی میں سفر کر رہے ہیں یا کسی جگہ کو ڈھونڈ رہے ہیں تو گوگل میپس سے کافی مدد ملتی ہے۔

مگر اس سروس میں ایسے فیچرز بھی موجود ہیں جو بہترین ہوتے ہیں مگر ان کے بارے میں اکثر افراد کو علم نہیں ہوتا۔

ان میں سے ایک فیچر گوگل اسٹریٹ ویو میں چھپا تاریخی مقامات کی تصاویر کا ہے۔

گوگل میپس استعمال کرنیوالوں کیلئے اچھی خبر، نیا فیچر تجربہ مزید بہتر بنائے گا
گوگل میپس میں مختلف برسوں میں مقامات میں آنے والی تبدیلوں کو دیکھنا بہت آسان ہوتا ہے، اب آپ اسے ڈیسک ٹاپ کمپیوٹر میں استعمال کریں یا موبائل پر۔

آپ گوگل اسٹریٹ ویو میں جاکر دیکھ سکتے ہیں کہ کچھ مقامات 2007 میں کیسے نظر آتے تھے اور اب وہ کس حد تک بدل چکے ہیں۔

اگر آپ ڈیسک ٹاپ کمپیوٹر پر گوگل میپس کو استعمال کر رہے ہیں تو میپ پر کسی بھی اس جگہ پر کلک کریں جہاں اسٹریٹ ویو دستیاب ہو۔

اس کے بعد اسٹریٹ ویو پینل پر کلک کریں جو نیچے موجود ہوگا۔

اسی طرح آپ کسی مخصوص جگہ جیسے پارک یا ہوٹل کو سلیکٹ کریں گے تو ان کے بارے میں تفصیلات انفو پینل میں نمودار ہو جائی گی۔

اس کے بعد آپ اسٹریٹ پینل یا اسٹریٹ اینڈ 360 پر کلک کریں جس کے بعد فوٹو گیلری نظر آنے لگے گی۔

اگر اس مقام کی پرانی تصاویر دستیاب ہوں گی تو آپ کو سی مور ڈیٹس لنک اوپر بائیں جانب نظر آئے گا اور اس پر کلک کرکے آپ تمام دستیاب تاریخوں کو دیکھ سکتے ہیں۔

اگر آپ گوگل میپس کو اینڈرائیڈ فون یا آئی فون میں استعمال کر رہے ہیں تو اسٹریٹ ویو کو استعمال کرنے کے 2 آپشن دستیاب ہوں گے۔

آپ میپ میں کسی مقام کو دبا کر رکھیں، اگر اسٹریٹ ویو تصایر دستیاب ہوں گی تو نیچے بائیں کونے میں تصاویر نمودار ہو جائیں گی۔

اسی طرح آپ کسی لیبل پلیس نام کو دبا کر رکھیں اور پھر فوٹوز اور پھر اسٹریٹ ویو اینڈ 360 کا انتخاب کریں۔

اگر وہاں پرانی تاریخوں کا ڈیٹا دستیاب ہوگا تو سی مور ڈیٹس کا آپشن آپ نیچے اسکرین پر دیکھ سکیں گے جس پر کلک کرکے آپ پرانی تاریخوں میں جاسکتے ہیں۔

آپ گوگل ارتھ کو استعمال کرکے تاریخی سیٹلائیٹ تصاویر کو بھی دیکھ سکتے ہیں۔

ڈیسک ٹاپ کمپیوٹر میں آپ ٹول بار پر Activate historical imagery بٹن پر کلک کریں جبکہ موبائل ایپس میں historical imagery آپشن کا انتخاب کریں۔

سیٹلائیٹ تصاویر میں آپ دنیا کے کچھ حصوں کی 1970 کی دہائی کی تصاویر کو بھی دیکھ سکتے ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Ausaf

کلیدی لفظ: دیکھ سکتے ہیں پر کلک کریں استعمال کر گوگل میپس رہے ہیں

پڑھیں:

سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے

اسلام آباد: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں اور کالمز پر کارروائی کے اختیار کا معاملہ زیر بحث آیا، جہاں سینئر صحافی طارق محمود سمیر نے اپنا مؤقف پیش کرتے ہوئے اہم قانونی نکات اٹھائے۔

اجلاس کے دوران طارق محمود سمیر نے کہا کہ لاہور سے شائع ہونے والے روزنامہ نئی بات میں بیوروکریسی سے متعلق شائع ہونے والے ایک کالم کی بنیاد پر کالم نگار توفیق بٹ اور اخبار کے ایڈیٹر کو نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی) کی جانب سے جاری کیا گیا نوٹس واپس لیا جانا چاہیے۔انہوں نے قائمہ کمیٹی کو تجویز دی کہ اس معاملے کو متعلقہ فورم یعنی پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے، کیونکہ قانون کے مطابق پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور تنازعات کا جائزہ لینے کا اختیار صرف پریس کونسل کے پاس ہے۔سینیٹ کی قائمہ کمیٹی نے سینئر صحافی طارق محمود سمیر کی اس تجویز سے متفقہ طور پر اتفاق کرتے ہوئے ہدایت جاری کی کہ مذکورہ معاملہ پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے تاکہ قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔

کمیٹی نے اس موقع پر واضح کیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق کسی بھی قسم کے معاملات یا شکایات نہ تو پیمرا کے دائرہ اختیار میں آتی ہیں اور نہ ہی این سی سی آئی ایسے معاملات میں براہ راست نوٹس لینے کا مجاز ہے۔ کمیٹی کے مطابق اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں، مضامین اور کالمز سے متعلق شکایات صرف پریس کونسل آف پاکستان کے سامنے ہی پیش کی جا سکتی ہیں۔اجلاس میں یہ بھی یاد دلایا گیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق قانون سازی کے دوران وفاقی حکومت نے قومی اسمبلی میں واضح یقین دہانی کرائی تھی کہ اخبارات اور پرنٹ میڈیا کے معاملات کا واحد مجاز ادارہ پریس کونسل آف پاکستان ہوگا، اور اسی فورم پر شکایات درج کرائی جا سکیں گی۔

قائمہ کمیٹی نے اس مؤقف کو دہراتے ہوئے متعلقہ اداروں پر زور دیا کہ آئندہ بھی پرنٹ میڈیا سے متعلق تمام معاملات قانون کے مطابق صرف پریس کونسل آف پاکستان کے ذریعے ہی نمٹائے جائیں تاکہ آئینی اور قانونی دائرہ اختیار برقرار رہے۔

متعلقہ مضامین

  • ایران میں تعمیر نو کی رفتار پر اسرائیل حیران ہے، وال اسٹریٹ جرنل
  • کراچی کے 2 اسٹریٹ کرمنلز مردان میں پولیس مقابلے میں ہلاک
  • پی ٹی اے کی موبائل سمز سے متعلق اہم وارننگ
  • ایف بی آر کا انکم ٹیکس ریٹرنز جمع کرانے سے متعلق اہم اعلان
  • گوگل کا نیا سیکیورٹی فیچر، کیا اب پاس ورڈ کی ضرورت ہی نہیں رہے گی؟
  • نیب مقدمات کی سماعت کا اختیار وفاقی آئینی عدالت کو منتقل، سپریم کورٹ نے محفوظ فیصلہ سنا دیا
  • ’میری قبر پہلے ہی تیار ہے‘، موت کی تیاریوں سے متعلق عطا اللہ خان عیسیٰ خیلوی کا حیران کن بیان
  • سپریم کورٹ  نے نیب ترمیم کے بعد عدالتی دائرہ اختیار سے متعلق کیس کا فیصلہ سنا دیا
  • سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
  • یورپی یونین کا گوگل پر 89 کروڑ یورو جرمانہ، سرچ انجن پر اجارہ داری کے غلط استعمال کا الزام