نمبرز کے لئے طلبا کو بلیک میل کیا جاتا ہے ،چیئرمین پی اے سی
اشاعت کی تاریخ: 27th, March 2025 GMT
پرچہ جو بناتا ہے ، نمبر بھی وہی دیتا ہے جو بلیک میلنگ کا باعث بنتا ہے ،کوئی نظم ہونا چاہیے
قائداعظم یونیورسٹی میں بلڈنگ پلان کے بغیر عمارتوں کی تعمیر کا انکشاف ،پی اے سی اجلاس
قومی اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کا اجلاس چیئرمین جنید اکبر کی سربراہی میں ہوا، اجلاس میں ہائر ایجوکیشن کمیشن کے آڈٹ اعتراضات کا جائزہ لیا گیا۔جنید اکبر خان نے کہا کہ نمبرز کے لئے طلبا کو بلیک میل کیا جاتا ہے ، کل میٹنگ کے بعد مجھے ایک پروفیسر کی چٹ دکھائی گئی، اس کا کوئی نظم ہونا چاہیے کہ جو پرچہ بناتا ہے ، نمبر بھی وہی دیتا ہے جو بلیک میلنگ کا باعث بنتا ہے ۔ان کا کہنا تھا کہ مسلسل یونیورسٹیوں کی اس طرح کی شکایات آرہی ہیں، پیپرز کی مارکنگ کوئی اور کرے ، یہ واقعات کافی زیادہ ہو رہے ہیں۔ایگزیکٹو ڈائریکٹر ایچ ای سی نے کہا کہ حال ہی میں وائس چانسلرز کمیٹی میٹنگ ہوئی جس میں سمسٹر سسٹم کے امتحان اور نمبروں کے معاملے کا جائزہ لیا گیا، اس پر جو بھی پیش رفت ہوتی ہے تو کمیٹی کو آگاہ کردینگے ۔اجلاس کے دوران قائداعظم یونیورسٹی میں بلڈنگ پلان کی منظوری کے بغیر عمارتوں کی تعمیر کا انکشاف ہوا، آڈٹ بریفنگ میں بتایا گیا کہ قائد اعظم یونیورسٹی میں اکیڈیمک اور گرلز ہاسٹل کی 3 عمارتیں بنائی گئیں، یہ 3 عمارتیں سی ڈی اے کے بلڈنگ پلان کی منظوری کے بغیر بنائی گئیں۔رکن کمیٹی عمر ایوب نے کہا کہ سی ڈی اے تو این او سی کے بغیر بنی عمارت کو گرا دیتا ہے ، وائس چانسلر قائد اعظم یونیورسٹی نے کہا کہ یونیورسٹی میں ہمارے پاس 50 کے قریب عمارتیں ہیں، پہلے بھی عمارتوں کے بلڈنگ پلان کی سی ڈی اے سے منظوری نہیں لی گئی۔ان کا کہنا تھاکہ آڈٹ کی آبزرویشنز کے بعد ہم نے سی ڈی اے سے بلڈنگ ہلان کیلئے رابطہ کیا ہے ، سی ڈی اے کے ساتھ بلڈنگ پلان کے مسائل ایک ہفتے میں حل کر لیں گے ، گزارش ہے کہ سی ڈی اے کو قائداعظم یونیورسٹی کی ڈیمارکیشن کی بھی ہدایت کر دیں۔آڈٹ بریفنگ میں بتایا گیا کہ پی سی ون کی فزیبلٹی سٹڈی کے بغیر منظوری سے 4 ارب 20 کروڑ کا نقصان ہوا، یونیورسٹی انتظامیہ نے قواعد کی خلاف ورزی کرتے ہوئے 3 عمارتیں کرائے پر لیں، عمارتوں کے کرائے اور تنخواہیں پی ایس ڈی پی فنڈ سے ادا کی جاتی رہیں۔حنا ربانی کھر نے کہا کہ دس لوگوں کے ساتھ بھی بزنس چلائیں گے تو تنخواہیں تو دینی ہوتی ہیں، اگر تین تین ماہ تنخواہیں نہ مل رہی ہوں تو یونیورسٹی انتظامیہ کیا کرے گی۔ان کا کہنا تھا کہ یونیورسٹیاں ملک کیلئے ایک نرسری کا کردار ادا کرتیں ہیں، مانا کہ پی ایس ڈی پی فنڈز سے تنخواہیں ادا نہیں کی جانی چاہئیں، لیکن تنخواہوں کیلئے فنڈز جاری نہیں کیے جائیں گے تو تنخواہیں کیسے ملیں گی، تنخواہوں اور پینشن کے حوالے سے تو فنڈز پہلے جاری کیے جانے چاہئیں۔نمائندہ ہائر ایجوکیشن نے کہا کہ یونیورسٹی کیلئے 770 ملین کی آپریشنل کاسٹ شامل تھی۔قراقرم یونیورسٹی میں انجنیئرنگ سہولت کے قیام میں تاخیر سے متعلق آڈٹ اعتراض کے حوالے سے آڈیٹر جنرل پاکستان نے کہا کہ منصوبے میں تاخیر سے لاگت میں 2.
ذریعہ
ذریعہ: Juraat
کلیدی لفظ: یونیورسٹی میں ہونا چاہیے ایسے لوگوں جنید اکبر نے کہا کہ ایچ ای سی لوگوں کے سی ڈی اے کے بغیر
پڑھیں:
بارشوں کے پانی نے لاہور انتظامیہ کی پول کھول دی‘ اقبال ٹاﺅن اور جوہر ٹاﺅن میں مرکزی شاہراﺅں پر شگاف پڑگئے
لاہور(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔23 جولائی ۔2026 ) صوبائی دارالحکومت لاہور میں علامہ اقبال ٹاﺅن مین بلیوارڈکی سروس روڈپربھیکے وال کے نزدیک 10فٹ گہرا شگاف پڑگیا ہے‘اسی طرح جوہر ٹاﺅن مصروف ترین شاہراہ خیابان فردوسی پر ایک اورگڑھا پڑ گیاہے گزشتہ تین روز کے دوران مذکورہ سڑک پریہ دوسرا گڑھا پڑا. بارش کے بعد مرکزی شاہراہ پر گڑھنے پڑنے سے حادثات کا خدشہ بڑھ گیا حکام کے مطابق سڑک کی مرمت کا کام شروع ہوگیا گڑھا پڑنے سے ٹریفک کی روانی جزوی طور پر متا ثر ہوئی دوسری جانب اقبال ٹاﺅن میں بھیکے والے موڑ جانب فاروق ہسپتال سروس روڈ پر 10 فٹ گہرا شگاف پڑ گیا.(جاری ہے)
سڑک کے درمیان پڑنے والے گہرے شگاف کے باعث ٹریفک کی روانی متاثر ہو رہی ہے شگاف پڑنے سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا، متعلقہ افسران اور واسا کی ٹیمیں موجود ہیں ٹریفک پولیس کا کہنا ہے کہ متعلقہ محکموں نے سروس روڈ پر شگاف پر کرنے کیلئے کام شروع کردیا. واضح رہے کہ 17جولائی کو ہونے والی بارش سے فیروزپور روڈ پرنشتر کالونی کے قریب سروس روڈ کا ایک حصہ بیٹھ گیا تھا جس کے نتیجے میں وہاں کھڑی تین موٹر سائیکلیں گڑھے میں جا گریں تھیں. شہریوں کا کہنا ہے کہ پورے شہر کے اندر یہی حال ہے بارشوں میںمتوسط آبادیوںکے اندر سڑکوں کے بیٹھ جانے کے واقعات زیادہ ہوتے ہیں مگر انہیں کوریج نہیں ملتی‘نجی یونیورسٹی کے لیکچرار معاذالاسلام سول انجینئرنگ پڑھاتے ہیں ان کا کہنا ہے کہ بدقسمتی سے پاکستان میں سب سے زیادہ بدعنوانی اس شعبے میں ہے ناقص میٹریل اور زمین کی کمپریشن عالمی لیول کی نہیں کی جاتی . ان کا کہنا ہے کہ ٹھیکے دار اب کئی دن مٹی کو کمپریس کرنے میں نہیں لگا اور نہ ہی میٹریل ڈالنے کے بعد ٹھیک طریقے سے اسے کمپریس کیا جاتا ہے ‘مٹی نرم ہونے سے اگر پانی راستہ بنالے تو چند ہفتوں میں ہی اس ایریا کے نیچے زمین کھوکھلی ہوجاتی ہے اور بارشوں کے دوران شگاف پڑنے لگتے ہیں. انہوں نے بتایا کہ لاہور فیصل آباد موٹر وے کو جب تجرباتی طور پرچھوٹی گاڑیوں کے لیے کھولا گیا تھا تو لاہور سے فیصل آباد کے سفر کے دوران انہوں نے نوٹ کیا تھا کہ کئی سو ارب کی لاگت سے بنی اس سڑک میں لیول کا بھی خیال نہیں رکھا تھا اور یہ موٹروے مکمل طور پر ناہموار تھا جس پر انہوں نے کچھ دیگر انجینئرز کے ساتھ مل کر ایک تجزیاتی رپورٹ این ایچ اے اور پنجاب حکومت کو ارسال کی تھی تاہم آج تک ہمیں اس پر کوئی جواب نہیں ملا.