ملک میں کُل ووٹرز کتنے؟ الیکشن کمیشن نے بتا دیا
اشاعت کی تاریخ: 27th, March 2025 GMT
---فائل فوٹو
ملک بھر میں رجسٹرڈ ووٹرز کی تعداد 13 کروڑ 34 لاکھ 17 ہزار 500 ہو گئی۔
الیکشن کمیشن نے ملک میں ووٹرز کی تعداد کا ڈیٹا جاری کر دیا جس میں مرد ووٹرز کی تعداد 7 کروڑ 16 لاکھ 54 ہزار 92 اور خواتین ووٹرز کی تعداد 6 کروڑ 17 لاکھ 63 ہزار 413 ہو گئی۔
ڈیٹا کے مطابق ملک میں مرد ووٹرز کی شرح 53.
اسلام آباد میں ووٹرز کی تعداد 11 لاکھ 83 ہزار 661 ہے جس میں مرد ووٹرز کی تعداد 6 لاکھ 19 ہزار 573 اور خواتین ووٹرز کی تعداد 5 لاکھ 64 ہزار 88 ہے جبکہ مرد ووٹرز کا تناسب 52.34 فیصد اور خواتین کا تناسب 47.66 فیصد ہے۔
الیکشن کمیشن آف پاکستان (ای سی پی) نے ملک بھر میں ووٹرز کی تعداد کے حوالے سے اعداد و شمار پیش کردیے۔
بلوچستان میں ووٹرز کی تعداد 55 لاکھ 66 ہزار 441 ہے جن میں مرد ووٹرز کی تعداد 31 لاکھ 17 ہزار 944 اور خواتین ووٹرز کی تعداد 24 لاکھ 48 ہزار 497 ہے، صوبے میں مرد ووٹرز کا تناسب 56.01 فیصد اور خواتین کا تناسب 43.99 فیصد ہے۔
خیبر پختون خوا میں ووٹرز کی تعداد 2 کروڑ 26 لاکھ 75 ہزار 553 ہے، جن میں مرد ووٹرز کی تعداد 1 کروڑ 23 لاکھ 30 ہزار 460 اور خواتین ووٹرز کی تعداد 1 کروڑ 3 لاکھ 45 ہزار 93 ہے، جبکہ صوبے میں مرد ووٹرز کا تناسب 54.38 فیصد اور خواتین کا تناسب 45.62 فیصد ہے۔
پنجاب میں ووٹرز کی تعداد 7 کروڑ 60 لاکھ 10 ہزار 349 ہے جن میں مرد ووٹرز کی تعداد 4 کروڑ 4 لاکھ 67 ہزار 887 اور خواتین ووٹرز کی تعداد 3 کروڑ 55 لاکھ 42 ہزار 462 ہے، جبکہ صوبے میں مرد ووٹرز کا تناسب 53.24 فیصد اور خواتین کا تناسب 46.76 فیصد ہے۔
سندھ میں ووٹرز کی تعداد 2 کروڑ 79 لاکھ 81 ہزار 501 ہے جن میں مرد ووٹرز کی تعداد 1 کروڑ 51 لاکھ 18 ہزار 228 اور خواتین ووٹرز کی تعداد 1 کروڑ 28 لاکھ 63 ہزار 273 ہے، جبکہ صوبے میں مرد ووٹرز کا تناسب 54.03 فیصد اور خواتین کا تناسب 45.97 فیصد ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: صوبے میں مرد ووٹرز کا تناسب اور خواتین ووٹرز کی تعداد جن میں مرد ووٹرز کی تعداد فیصد اور خواتین کا تناسب ووٹرز کی تعداد 1 کروڑ میں ووٹرز کی تعداد فیصد ہے
پڑھیں:
حکومت کاچینی شہریوں کیلئے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)حکومتِ پاکستان نے چینی شہریوں کی سیکیورٹی کو مزید مؤثر بنانے کے لیے تقریباً 9 کروڑ 50 لاکھ روپے مالیت کی نئی بلٹ پروف ٹویوٹا لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ کر لیا۔
نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق سرکاری دستاویزات کے مطابق 95.049 ملین روپے مالیت کی یہ گاڑی چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) سیکرٹریٹ کے استعمال کیلئےحاصل کی جائے گی تاکہ چینی وفود، ماہرین اور دیگر اہم شخصیات کو محفوظ سفری سہولت فراہم کی جا سکے۔
وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال کا کہنا ہے کہ چینی شہریوں کا تحفظ حکومتِ پاکستان کی اولین ترجیح ہے، اسی مقصد کے تحت نئی بلٹ پروف گاڑی خریدی جا رہی ہے۔
سٹاک مارکیٹ میں مندی، انڈیکس ایک لاکھ 70 ہزار پوائنٹس کی حد کھو بیٹھا
دستاویزات کے مطابق یہ گاڑی پہلے سے موجود بلٹ پروف گاڑیوں اور کم از کم دو ہیلی کاپٹروں کے علاوہ ہوگی، جنہیں مختلف سرکاری ادارے چینی شہریوں کی سکیورٹی کے لیے استعمال کر رہے ہیں یا جن کی خریداری کا عمل جاری ہے۔
سی پیک سیکرٹریٹ نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ کابینہ ڈویژن کے محدود گاڑیوں کے بیڑے کے باعث بروقت بلٹ پروف گاڑیاں دستیاب نہیں ہوتیں، جس سے اہم سرکاری ملاقاتوں، غیر ملکی وفود کے دوروں اور اجلاسوں میں تاخیر یا بعض اوقات منسوخی کی صورتحال پیدا ہو جاتی ہے۔
دستاویزات میں کہا گیا ہے کہ نجی مارکیٹ سے بلٹ پروف گاڑیاں کرائے پر حاصل کرنا نہ صرف غیر یقینی بلکہ انتہائی مہنگا بھی ثابت ہوتا ہے، جس سے قومی خزانے پر اضافی مالی بوجھ پڑتا ہے۔
ٹرمپ کو بغیر سوچے سمجھے جارحیت کی قیمت چکانا پڑے گی: عباس عراقچی
حکومت نے پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی (PPRA) رول 42(c)(vii) کے تحت براہِ راست معاہدے کے ذریعے گاڑی خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔
حکومت کو تین ٹویوٹا ڈیلرز کی جانب سے قیمتیں موصول ہوئیں، جن میں ٹویوٹا سینٹرل موٹرز نے 95.049 ملین روپے، ٹویوٹا پورٹ قاسم نے 95.25 ملین روپے اور ٹویوٹا سوسائٹی نے 95.45 ملین روپے کی پیشکش کی، حکومت نے سب سے کم بولی دینے والی ٹویوٹا سینٹرل موٹرز کی پیشکش منظور کر لی۔
دستاویزات کے مطابق سی پیک سیکرٹریٹ کے پاس گاڑی کی خریداری کے لیے مطلوبہ فنڈز دستیاب نہیں تھے، جس کے بعد وزارتِ منصوبہ بندی نے مختلف منصوبوں سے 5 کروڑ 83 لاکھ روپے منتقل کرنے کا فیصلہ کیا، تاہم مالی سال کے اختتام تک ضروری منظوری نہ ملنے کے باعث خریداری کا آرڈر جاری نہیں ہو سکا۔
پیٹرول اور ڈیزل کے بعد مٹی کے تیل کی نئی قیمت کا اعلان
وزارت نے فنڈز کی فراہمی کے لیے مختلف منصوبوں سے رقم مختص کی، جن میں سینٹر فار ایکسی لینس برائے سی پیک سے ایک کروڑ 88 لاکھ روپے، وفاقی ایس ڈی جیز پروگرام سے 91 لاکھ روپے، مانیٹرنگ اینڈ ایویلیوایشن منصوبے سے ایک کروڑ 10 لاکھ روپے اور پالیسی ریسرچ گرانٹس پروگرام سے ایک کروڑ 60 لاکھ روپے شامل ہیں، ان فنڈز میں 62 لاکھ روپے وہ بھی شامل تھے جو کنٹریکٹ ملازمین کی ادائیگی کے لیے مختص کیے گئے تھے۔