اسلام آباد (ویب ڈیسک) وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور کا کہنا ہے کہ قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس صرف ایک پریزنٹیشن تھی، میں یہ پریزنٹیشن پہلے لے چکا تھا اور وہاں ہر چیز میرے لئے اپڈیٹڈ تھی، کیونکہ ہم یہ میٹنگ کرتے رہتے ہیں اور ہمیں ان سارے معاملات کا پتا ہے۔ لیکن وہاں جو دوسرے لوگوں نے بات کی اس سے ایک بات وضاحت کے ساتھ سامنے آئی مینڈیٹ چوری ہوا ہے۔

نجی ٹی وی آج نیوز کے پروگرام میں خصوصی گفتگو کرتے ہوئے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے کہا کہ اجلاس میں میں نے مولانا فضل الرحمان سے دو سوالوں کے جواب مانگے جو انہوں نے نہیں دئے۔انہوں نے کہا کہ میں نے مولانا فضل الرحمان سے پوچھا کہ آپ کے دو بیان آئے، ایک تو یہ کہ آپ کہتے تھے عمران خان کی حکومت آپ نے گرائی پھر کہا ہمیں بلایا گیا اور یہ کام کیا گیا، اس میں سے کونسا بیان درست ہے؟ دوسرا یہ کہ آپ اور دیگر کہتے ہیں مینڈیٹ چوری ہوا تو کھل کر یہ وضاحت کردیں کہ مینڈیٹ کس نے چوری کیا؟ اس کا جواب مجھے نہیں ملا۔

کیا قرآن مجید میں اسباق پر تاریخ ڈالی یا غلطی کے نشان لگائے جا سکتے ہیں؟

ان کا کہنا تھا کہ ایسے چیلنجز سے نمٹنے کیلئے جب عوام کا اعتماد ساتھ نہ ہو تو ان سے نمٹنا بہت زیادہ مشکل ہوجاتا ہے۔ لیکن اس بات پر سب ایک پیج پر ہیں کہ دہشتگردی کا مقابلہ ہم نے کرنا ہے اس کا خاتمہ کرنا ہے۔

علی امین گنڈاپور نے کہا کہ وہاں پر ہماری یہ بات بھی ہوئی کہ سیاسی استحکام اس ملک میں تب تک نہیں آسکتا جب تک عمران خان جیل میں ہیں۔

انہوں نے کہا کہ میں نے مشورہ دیا ہے کہ عید کے بعد ہمیں ایک چھوٹی میٹنگ کرنی چاہئیے اور اس میں ہر ایک کو اس کی ذمہ داری کا تعین کرنا چاہئیے، تاکہ ہمیں پتا ہو کہ ہمارے پاس کیا ہے اور کن وسائل کے ہوتے ہوئے ہم نے کام کرنا ہے۔

راشن بانٹنا خاموشی سے کئے جانے والا کام ہے، عزت نفس کو ٹھیس نہ پہنچائیں:میئر کراچی کا گورنرکو مشورہ

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے کہا کہ اس سے پہلے بھی ہم نے آپریشنز کئے ہیں، لیکن اس سے ہمیں فوائد کے بجائے الٹا نقصان ہوا ہے، عوام کے اندر اعتماد کی کمی ہوئی کیونکہ جو وعدے کئے گئے وہ پورے نہیں کئے گئے، بہت سے سویلینز جو دہشتگرد نہیں تھے وہ اس کا نشانہ بنے۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ اگر آپ افغانستان سے تعلقات اچھے نہیں رکھیں گے تو اس خطے میں امن و امان آپ قائم نہیں کرسکتے، یہ ایک فیکٹ ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ بڑے آپریشن کے بجائے اپنے بارڈر کی حفاظت کریں، ہم نے فینسنگ کی اربوں روپے لگا دئے، کہاں ہے فینس (باڑ) کہیں بھی نہیں ہے۔ جگہ جگہ سے فینسگ توڑ دی گئی ہے، وہاں سے راستے بنے ہوئے ہیں وہاں سے لوگ بھی آرہے ہیں، اسمگلنگ بھی ہو رہی ہے، دہشتگرد بھی آرہے ہیں اسلحہ بھی آرہا ہے۔

رمضان میں شوگر کے مریض میٹھا کیسے کھائیں؟

علی امین گنڈاپور نے کہا کہ ’عوام کے اعتماد کے بغیر آپ یہ جنگ نہیں جیت سکتے، میں ان کو یہی پیٹ رہا ہوں پہلے دن سے‘۔ عوام ہر جگہ پر ہے، عوام کے بنا کوئی اپنی کوئی پناہ گاہ نہیں بنا سکتا، کوئی ہیڈکوارٹر نہیں بنا سکتا، روڈ پر آکر کارروائی نہیں کرسکتا۔

ان کا کہنا تھا کہ ’ہماری غلط پالیسی ہے گُڈ طالبان اور بیڈ طالبان، آپ کی حکومتوں کی پالیسی پر لوگوں کو کوئی اعتماد نہیں ہے، اب تو پولیس بھی اعتبار نہیں کرتی‘۔

میانمارمیں زلزلے کے زور دار جھٹکے، شدت 7.

7 ریکارڈ

انہوں نے مزید کہا کہ ’گُڈ طالبان گھوم رہے ہیں، بھتے بھی یہ لے رہے ہیں، حملے بھی کر رہے ہیں، روڈ پر ناکے لگا کر چوری چکاری بھی کر رہے ہیں، لوگوں کی زمینوں کے مسئلے بھی یہ حل کر رہے ہیں، ٹھیکیداروں سے کمیشن بھی یہ لے رہے ہیں، اغوا برائے تاوان میں بھی ملوث ہیں، یہ پیسے لے کر لوگوں کو مارنے میں بھی ملوث ہیں‘۔

ان کا کہنا تھا کہ اس سے لوگوں کے اعتماد میں کمی آئی ہے کہ ان کے پیچھے کون ہیں، تو اگر میں خود نہیں کر رہا لیکن کسی کو بیک کر رہا ہوں تو اعتماد تو میرے پر سے ختم ہوگا۔

27 رمضان المبارک کی شب مسجد الحرام میں 34 لاکھ سے زائد افراد کا اجتماع

انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا کی پولیس موجود ہے اور لڑ رہی ہے، جو ثبوت ہے کہ حکومت کی عملداری موجود ہے، میری پالیسی سے اتنا اعتماد پیدا ہوگیا ہے کہ کرک پر حملہ ہوا تو عوام نکلی کہ دہشتگردوں کو نہیں چھوڑیں گے پولیس کے ساتھ کھڑی ہوگئی۔

ان کا کہنا تھا کہ میں صوبے میں پچھلے دس سال کی حکموت کا ذمہ دار نہیں، میں اپنے ایک سال کا ذمہ دار ہوں، سی ٹی ڈی کی حالت میں اس ایک سال کے دوران زمین آسمان کا فرق نہ ہو تو میں ذمہ دار ہوں۔ میرے صوبے پر 762 ارب روپے قرضہ چڑھا دیا وہ بھی میں اتار رہا ہوں۔

سابق سیکرٹری خارجہ نجم الدین شیخ انتقال کر گئے 

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ میرا پروونشل ایکشن پلان مکمل ہوگیا ہے اور ان کو اس کی سمجھ آئی ہے، اس پر ہم میٹنگ کر رہے ہیں، ہمیں ان کی جو مدد چاہئیے وہ انشاء اللہ کریں گے۔

علی امین گنڈاپور نے کہا کہ میرے اوپر تنقید کرنے والا گورنر گھوم رہا ہے، کہتا ہے ’صوبے میں لا اینڈ آرڈر نہیں ہے، علی امین کچھ نہیں کر رہا، تیری بلوچستان میں حکومت ہے، اب وہاں تیرا منہ کالا ہوا ہے، اب جا بتا کہ تو کیوں کنٹرول نہیں کر پا رہا، تیری پارٹی کی حکومت ہے وہاں پر، اب اس پر بات بھی نہیں کرے گا‘۔

انہوں نے مزید کہا کہ عظمیٰ بخاری کہتی ہے علی امین سے لا اینڈ آرڈر کنٹرول نہیں ہورہا، تم سے تو کچے کے ڈاکو کنٹرول نہیں ہو رہے، جن سے میں لڑ رہا ہوں انہوں نے سپر پاور کو شکست دی ہوئی ہے، دونوں میں فرق ہے۔

علی امین نے بات جا رہی رکھتے ہوئے کہا کہ تم اپنی پنجاب کی پولیس یہاں لے آؤ اور میری خیبرپختونخوا کی پولیس وہاں آںے دو، اگر پانچ دن میں کچے کا ایک ڈاکو بھی نظر آگیا۔۔۔ تمہاری پولیس کی یہ حالت ہے کہ 26 ہزار پولیس ناکے پر لگاتے ہو اور میں غیر مسلح ہوکر نہتا جہاں تک کہا وہاں تک پہنچا۔ اسلام آباد پولیس بھی دیکھی ہوئی ہے، میری گاڑی کو وہاں بریک نہیں لگی، یہ لوگ دور سے شیل مار کر بھاگ جاتے تھے کہ کہیں پکڑے نہ جائیں۔

علی امین گنڈاپور نے کہا کہ ’آپ کے پروگرام کے حوالے سے میں سب کو بتاتا ہوں کہ ابھی یہ اسٹیٹس ہے، عمران خان نے کہا ہے کہ پاکستان کیلئے میں سب کو معاف بھی کرتا ہوں اور پاکستان کیلئے میں بات کرنے کو بھی تیار ہوں، اور کوئی ایسی چیز جو پاکستان کو کمزور کرتی ہے میں اس کے حق میں نہیں ہوں‘۔

علی امین گنڈاپور نے مزید کہا کہ ’ادھر سے، اسٹبلشمنٹ کہیں، سسٹم کہیں یا جو نام بھی آپ دیں، ان سے میری بات چیت ہوئی تو انہوں نے بھی ان ساری باتوں پر اتفاق کیا، اب بات صاف ہے، اب جو پیچھے ہٹے گا میں اس کو ایکسپوز کروں گا کہ تم پاکستان والے نہیں ہو تم اپنی ذات والے ہو، پھر پاکستان کا نام مت لو، اپنی ذات کا نام لو، اپنی ذاتی انا کا، ذاتی انٹرسٹ کا، اپنے ذاتی فائدے کا ذاتی تعلقات کا نام تو لو پاکستان کا نام مت لینا‘۔

انہوں نے کہا کہ ’اب لاجواب ہوگئے ہیں، نظام بھی لاجواب ہے، ہم بھی لاجواب ہیں، اب ایسا کام ہوگا جو لوگوں کو بہت جلد لاجواب کرے گا‘۔ انہوں نے مزید کہا کہ ’ہم انشاء اللہ بہت قریب ہیں‘۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ہمیں اتحاد کی ضرورت اس لئے پڑی کہ ہمیں مائنس کرنے کا ایجنڈا پورے پاکستان میں اٹھایا ہوا ہے، ہمیں اتحاد کی ضرورت نہیں ہے۔

سوشل میڈیا پر پھیلی خبروں کی تردید کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ مجھے مولانا فضل الرحمان سے کوئی سیاسی خطرہ نہیں ہے، جب عمران خان کے مسئلے کے حل کی بات ہو رہی ہو تو میں ان چیزوں کو بہت چھوٹا سمجھتا ہوں۔

انہوں نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان اور آصف علی زرداری بہت سمجھدار سیاستدان ہیں، ’سیاست میں زرداری صاحب کا ”ون سائز فٹ آل“ کا رول ہے‘، اور مولانا صاحب بھی ہر جگہ فٹ ہوسکتے ہیں۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ میرا مولانا فضل الرحمان کے ساتھ کوئ مسئلہ نہیں ہے، کوئی سیاسی اختلاف والی بات نہیں ہے، ان کی ایک شرط ہے کہ علی امین سے معاملات حل کرلو، میں بالکل تیار ہوں۔

علی امین گنڈا پور نے آخر میں کہا کہ سب سے خطرناک چیز ہے لوہا جو ہرچیز کو کاٹ دیتا ہے، لوہے سے خطرناک ہے آگ جو لوہے کو پگھلا دیتی ہے، آگ سے خطرناک ہے پانی جو آگ کو بجھا دیتا ہے، پانی سے خطرناک ہے انسان جو پانی بھی پی جاتا ہے، انسان سے خطرناک ہے موت جو انسان کو ختم کر دیتی ہے، موت سے خطرناک ہے صدقہ جو موت کو ٹال دیتا ہے اور صدقے سے خطرناک ہے ہمارا مولوی جو صدقہ بھی کھا جاتا ہے۔

مزید :

ذریعہ

ذریعہ: Daily Pakistan

کلیدی لفظ: علی امین گنڈاپور نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے کہا کہ نے مزید کہا کہ سے خطرناک ہے کر رہے ہیں رہا ہوں نہیں کر کے جواب نہیں ہو نہیں ہے ہوا ہے ہے اور بھی یہ کا نام

پڑھیں:

سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ جوہری معاہدے کے لیے اسرائیل سے تعلقات کی بحالی سے مشروط کردیا۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہام معاہدوں  میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک ’’تاریخی جست‘‘ ثابت ہوگی۔

نیتن یاہو نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ سعودی عرب کی ابراہام معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام اور تعاون کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔

خیال رہے کہ اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے سول جوہری پروگرام کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کرنے کے بعد سامنے آیا ہے۔

کچھ دیر قبل ہی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودیہ ابراہام معاہدوں میں شامل نہیں ہوجاتا۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی پوسٹ میں یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

یاد ہے کہ ایک روز قبل جب جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب کے اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے نہیں جوڑا تھا تاہم بعد میں انھوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے منسلک ہیں۔

ادھر سعودی حکومت نے تاحال صدر ٹرمپ کے تازہ بیان پر کوئی باضابطہ ردعمل نہیں دیا تاہم ریاض متعدد مواقع پر واضح کرچکا ہے کہ وہ اس وقت تک اسرائیل کو تسلیم نہیں کرے گا جب تک فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے قابلِ عمل اور واضح راستہ موجود نہ ہو۔

سعودی عرب کا مؤقف رہا ہے کہ 1967 کی سرحدوں کی بنیاد پر آزاد فلسطینی ریاست کا قیام، مشرقی یروشلم کو اس کا دارالحکومت بنانا اور فلسطینی عوام کے جائز حقوق کا تحفظ اسرائیل سے تعلقات کی بحالی کے لیے بنیادی شرائط ہیں۔

ابراہام معاہدے کیا ہیں؟

ابراہام معاہدے 2020 میں امریکی ثالثی کے تحت طے پائے تھے جن کے نتیجے میں متحدہ عرب امارات، بحرین، سوڈان اور مراکش نے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کیے۔ بعد ازاں قازقستان نے بھی معاہدے کی حمایت کا اعلان کیا تاہم سعودی عرب اب تک اس کا حصہ نہیں بنا۔

ان معاہدوں کا مقصد اسرائیل کے عرب و مسلم ممالک کے ساتھ سفارتی، اقتصادی اور سکیورٹی تعاون کو فروغ دینا تھا لیکن غزہ جنگ اور فلسطینی مسئلے کے باعث سعودی عرب نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کا عمل روک رکھا ہے۔

 

متعلقہ مضامین

  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • کراچی: زیادتی کی شکار غیرملکی خاتون نے ملزم کو معاف کردیا
  • کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
  • بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
  • گل فیروزہ، سدرہ امین اور نشرہ سندھو کی شاندار کارکردگی، پاکستان نے سری لنکا کیخلاف پہلا پہلے ون ڈے جیت لیا
  • حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
  • پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات کا اسکولوں میں خود پڑھانے کا اعلان
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف