وی  نیوز کے پروگرام ’وی ایکسکلیوسیو‘ میں آزاد کشمیر سے تعلق رکھنے والے سیاست دان مشتاق منہاس نے صحافت سے سیاست تک سفر کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ کشمیریوں کو گھٹی میں سیاست شامل ہے۔ کشمیر میں تقریباً ہر شخص سیاسی لحاظ سے متحرک ہے۔

مشتاق منہاس نے کہا کہ وہ زمانہ طالب علمی سے سیاست میں ایکٹیو رہے ہیں، وہ ایف سی کالج میں الیکٹڈ وائس پریزیڈنٹ رہے، پھر صحافت میں آکر بھی وہ ٹریڈ یونین اور پریس کلب کی سیاست میں شامل رہے۔ مشتاق منہاس نے کہا وہ اب تک 20 سے زائد مختلف الیکشنز لڑتے چکے ہیں۔

مشتاق منہاس نے میڈیا کے حوالے سے کہا کہ بدقسمتی سے ہمارے ہاں صحافت میں کچھ لوگوں کو اوپر سے لانچ کیا گیا۔ میڈیا میں ایک شخصیت کو صادق و امین کی پروموشن پر لگا دیا گیا۔ اسی صورت حال میں ہم جیسے لوگوں نے مزاحمت کی۔

مشتاق مہناس نے کہا کہ میثاق جمہوریت کے بعد پروجیکٹ عمران خان شروع ہوا، اس پروجیکٹ کے لیے میڈیا کا بے دریغ استعمال کیا گیا۔ اینکرز کو لاکھوں کروڑوں روپے دیے گئے اور دن رات عمران خان کو نجات دہندہ ثابت کرانے کے لیے کیمپینز چلتی رہیں۔

الیکشنز سے پہلے ہی لوگوں کو رزلٹ کا علم تھا، اور یوں پہلے صوبائی حکومت اور پھر وفاقی حکومت عمران خان کو پلیٹ میں دی گئی۔

 مشتاق منہاس نے کلثوم نواز کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ میں سمجھتا ہوں نواز شریف کی سب سے بڑی مشیر کلثوم نواز تھیں۔ وہ مشکل وقت میں تمام لیڈر شپ کے لیے حوصلہ تھیں اور سب سے رابطے میں رہیں۔ مگر آخری وقت میں حکومتِ وقت نے شریف خاندان کے لیے افسوسناک حد تک مشکلات پیدا کر دی  تھیں۔

مشتاق منہاس نے 2024 کے الیکشن کے حوالے سے کہا ہم الیکشن رزلٹ اپنے ہاں مانیٹر کر رہے تھے، ہمارے پاس خوش آئند رزلٹ آتے رہے، لیکن ٹی وی پر رزلٹ افسوسناک تھا۔

انہوں نے کہا کہ نواز شریف صوبائی حکومت سے مطمئن تھے، مگر نواز شریف وفاق میں حکومت لینے کے حق میں نہیں تھے۔ مگر اسٹیبلشمنٹ کی جانب سے پریشر تھا۔ ن لیگ نے مجبوری کے عالم میں وفاقی حکومت لی۔

مشتاق منہاس نے کہا کہ نوازشریف کو ’ووٹ کو عزت دو‘ والے نعرے کی بھی سزا دی گئی۔ مشتاق منہاس نے کہا کہ اگر ن لیگ کو سادہ اکثریت مل جاتی تو وہ ضرور وزیراعظم بنتے۔ اب ن لیگ حکومت کو پیپلز پارٹی کی رحم وکرم پر چھوڑ دیا گیا ہے اور پیپلز پارٹی انتہا کی بارگیننگ کرنے والی جماعت ہے۔

مشتاق منہاس نے کشمیر کے حوالے سے کہا کہ مہنگائی نے لوگوں کا کچومر نکال دیا ہے، کشمیر میں چونکہ لوگوں میں سیاسی شعور زیادہ ہے، تو ایسے میں کشمیریوں نے مہنگائی اور ناانصافی کے خلاف آواز اٹھائی اور انہوں نے بزور بازو اپنے مطالبات منوا لیے۔

مشتاق منہاس نے حالیہ دہشت گردی کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی کے خاتمے کے لیے اپنے شہریوں کو اعتماد میں لینے کی ضرورت ہے، اور ساتھ ہی انٹیلیجنس بیسڈ آپریشن ہوں۔ انہوں نے کہا کہ سیاسی ڈائیلاگ میں انگیجمنٹ بڑھانے کی بھی بڑی ضرورت ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اسٹیبلشمنٹ پیپلزپارٹی کشمیر مشتاق منہاس نوازشریف.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: اسٹیبلشمنٹ پیپلزپارٹی مشتاق منہاس نوازشریف مشتاق منہاس نے کہا کے حوالے سے نے کہا کہ کے لیے

پڑھیں:

ویپنگ کے نقصانات: نئی تحقیق میں صحت کے سنگین خطرات سے خبردار

اسلام آباد: ویپنگ کے نقصانات سے متعلق سامنے آنے والی نئی تحقیق نے ای سگریٹ استعمال کرنے والوں کے لیے خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے۔ ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ ویپنگ کو عام سگریٹ کا محفوظ متبادل سمجھنا ایک غلط فہمی ہے، کیونکہ اس کے استعمال سے بھی انسانی صحت پر سنگین منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

تحقیقی رپورٹ کے مطابق ویپ استعمال کرنے والے افراد کے منہ اور پھیپھڑوں کے خلیوں میں ڈی این اے کو نقصان پہنچنے کے شواہد ملے ہیں۔ ماہرین کے مطابق ڈی این اے میں خرابی مختلف بیماریوں، خصوصاً کینسر کے خطرات میں اضافے کا باعث بن سکتی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ ویپ میں روایتی تمباکو موجود نہیں ہوتا، لیکن اس میں شامل مختلف کیمیکلز اور فلیورز انسانی خلیوں پر منفی اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔ تحقیق میں یہ بھی سامنے آیا ہے کہ پوڈ سسٹم پر مبنی ویپ استعمال کرنے والے افراد میں خلیاتی نقصان نسبتاً زیادہ دیکھا گیا۔

سائنس دانوں کے مطابق ویپنگ اور روایتی سگریٹ نوشی کا طریقہ کار مختلف ضرور ہے، تاہم دونوں صورتوں میں جسم کو نقصان پہنچنے کا خطرہ موجود رہتا ہے۔ بعض مطالعات میں ویپ استعمال کرنے والوں کے خلیوں میں ہونے والے ڈی این اے نقصان کی سطح سگریٹ نوش افراد کے قریب پائی گئی۔

ماہرین صحت نے خبردار کیا ہے کہ نوجوانوں میں ویپنگ کا بڑھتا ہوا رجحان مستقبل میں صحت عامہ کے لیے ایک بڑا چیلنج بن سکتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ای سگریٹ کو محفوظ متبادل سمجھ کر استعمال کرنے کے بجائے اس سے مکمل اجتناب اختیار کرنا زیادہ بہتر ہے۔

ماہرین نے عوام کو مشورہ دیا ہے کہ وہ ویپنگ کے نقصانات کو سنجیدگی سے لیں اور اپنی صحت کے تحفظ کے لیے ایسی تمام مصنوعات سے حتیٰ الامکان دور رہیں، کیونکہ نئی سائنسی تحقیقات کے نتائج اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ ویپنگ بھی انسانی جسم کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • لاہور ڈی ایچ اے میں بارش کے بعد پانی بھرگیا، رابی پیرزادہ کا مریم نواز سے شکوہ
  • نواز شریف کل میرپور میں انتخابی جلسے سے خطاب کریں گے
  • سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
  • کیا فواد خان نے بھی سرجری کروالی؟ نئی تصاویر پر سوشل میڈیا پر بحث
  • آزاد کشمیر الیکشن کے حوالے سے میڈیا کیلیے ضابطہ اخلاق جاری
  • اہم ٹیلیفونک رابطہ، پاکستان سعودی عرب کے ساتھ کھڑا، سہیل آفریدی پر الزام، مریم نواز اور بلاول کے ایک دوسرے پر تابڑ توڑ حملے
  • ویپنگ کے نقصانات: نئی تحقیق میں صحت کے سنگین خطرات سے خبردار
  • مریم نواز کا اربن فلڈنگ اور سیلاب سے نمٹنے کے لیے وسائل بروئے کار لانے کا حکم
  • جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے رکنِ پارلیمنٹ  کی نوجوان خاتون کے ساتھ نازیبا ویڈیو سامنے آگئی
  • پاکستان کے دفاع، سیکیورٹی کے شعبے میں ٹیکنالوجی کا استعمال قابل فخر ہے، وزیراعظم