وطن کی حفاظت کے لیے سرحدوں پر مامور جوانوں کے اہل خانہ نے عید پر اپنے پیاروں کے لیے جذبات سے بھرے پیغامات دیے ہیں۔
 

خیبر پختونخوا میں پاک افغان سرحد پر تعینات افسران و جوانوں کے اہل خانہ نے وطن عزیز کے لیے اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کر حفاظت کا فرض ادا کرنے والوں کو سلام پیش کیا ہے۔

حوالدار شاکر کی اہلیہ نے کہا کہ ہم آپ کو آج کے دن بہت یاد کر رہے ہیں، لیکن خوشی ہے کہ آپ مادرِ وطن کے دفاع میں مصروف ہیں۔  اسی طرح ان کی بیٹی نے کہا کہ آپ نے آج کے خاص دن اپنے اہل خانہ سے زیادہ ملک کو فوقیت دی، جس پر ہمیں ناز ہے۔

لیفٹیننٹ کرنل شکیل کی بیٹی نے کہا کہ بابا! عید مبارک ہو۔ ہمیں آپ اور پاک فوج پر فخر ہے۔   ان کی اہلیہ  نے کہا کہ پاک فوج کے ان بہادر سپاہیوں کو عید مبارک، جو آپریشن ایریاز میں بھی ملک کا دفاع کر رہے ہیں۔  اسی طرح  ان کے  والد نے کہا کہ میرے دلیر بیٹے اور پاک فوج کے محافظو! آپ کے اہل خانہ ہی نہیں، پوری قوم آپ کے ساتھ ہے۔ 

لیفٹیننٹ کرنل حسن علی کی والدہ نے اپنے پیغام میں کہا کہ مجھے فخر ہے کہ میرا بیٹا سرحد پر ملک کا دفاع کر رہا ہے۔  ان کی بیٹی نے کہا کہ میرے بابا خوش نصیب ہیں کہ وہ پاک فوج کے جانبازوں میں شامل ہیں۔ میں بھی بڑی ہو کر پاکستان آرمی میں شامل ہو کر ملک کا دفاع کروں گی۔

ان کی اہلیہ نے اپنے پیغام میں کہا کہ میری طرف سے پاک فوج اور میرے شوہر کو عید مبارک۔ آپ کے بغیر عید نامکمل ہے، مگر ہمیں فخر ہے کہ آپ آج بھی وطن کے دفاع میں مصروف ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: نے کہا کہ اہل خانہ پاک فوج کے اہل

پڑھیں:

امریکا، اسرائیل کو جارحیت کے دوران ایرانی فضائی دفاع نے بھاری نقصان پہنچایا، ایرانی کمانڈر

ایران کی ایئرڈیفنس کے جوائنٹ ہیڈکوارٹرز کے کمانڈر بریگیڈیئر جنرل علی رضا الہامی نے کہا ہے کہ امریکا اور اسرائیل کو جنگ بندی سے قبل جارحیت کے دوران فضائی جنگی صلاحیت اور آلات کو بڑا نقصان پہنچایا۔

ایرانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق بریگیڈیئر جنرل علی رضا الہامی نے ایک انٹرویو میں کہا کہ امریکا اور اسرائیل کو جنگ کے دوران جدید ڈرونز سمیت جنگی آلات کی مد میں کروڑ ڈالر کا نقصان پہنچایا۔

علی رضا الہامی نے کہا کہ امریکا اور اسرائیل کو پہنچنے والے نقصانات سے انہیں ایران کے اندر اپنے اہداف کی نشان دہی اور نشانہ بنانے کی صلاحیت پر بدترین اثر پڑا اور اس کے نتیجے میں فضائی کارروائی کی صلاحیت محدود ہوگئی۔

انہوں نے کہا کہ ایران نے منفرد اور مؤثر جواب کے لیے  ڈسپرشن، الیکٹرونک ڈسپشن اور درست نشانہ پر حملوں جیسی ذہین حکمت عملیوں کا استعمال کیا گیا، دشمن کے فضائی حملوں کے اثرات کو نمایاں طور پر کم کر دیا اور اس کی ڈرون صلاحیتوں کو بھی کمزور کر دیا۔

کمانڈر نے کہا کہ ایرانی ایئرڈیفنس نے امریکا اور اسرائیل کے ایئرکرافٹ، ایم کیو-9 ریپر، ہرمیس 900، آربیٹر، لیوکاس اور ہیرمس 450 اور جنگی لڑاکا طیاروں کی فلیٹ کا مقابلہ کرنے کے لیے ریڈار ڈیٹا پروسیسنگ اور دیگر ٹیکنالوجی کا استعمال کیا، دشمن کو اپنے فائر پاور اور جدید ٹیکنالوجی پر انحصار تھا۔

علی رضا الہامی نے کہا کہ ایران کے جدید اور مربوط فضائی دفاعی نیٹ ورک نے حملہ آور دشمنوں کی فضائی قوت کو ایسا بھاری نقصان پہنچایا جو فضائی جنگوں کی تاریخ کے بدترین نقصانات میں شمار ہوتے ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • امریکا، اسرائیل کو جارحیت کے دوران ایرانی فضائی دفاع نے بھاری نقصان پہنچایا، ایرانی کمانڈر