کرپشن الزامات پر سپیکر پختونخوا فوری مستعفی ہوجائیں ، عمران خان
اشاعت کی تاریخ: 2nd, April 2025 GMT
راولپنڈی (نیوزڈیسک)پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان نے کہا ہے کہ اگر پارٹی رہنماؤں پر کرپشن کے الزمات کی تحقیقات کرنے والی کمیٹی نے فیصلہ کیا ہے تو خیبر پختونخوا اسمبلی کے اسپیکر کو اپنے عہدے سے مستعفی ہوجانا چاہیے۔
اڈیالہ جیل راولپنڈی میں عمران خان کے ساتھ ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے پی ٹی آئی کے سینئر رہنما اعظم خان سواتی نے کہا کہ میری بانی پی ٹی آئی سے دیگر دو لوگوں کے ہمراہ ملاقات ہوئی ہے، بانی کو بتایا سلمان اکرم راجہ آپ کا سودا نہیں کرے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ میں نے بانی کو مانسہرہ کی کرپشن کے معاملات پر بتایا، میں نے بانی کو بتایا کمیٹی کے معاملات سامنے لائے جائیں، بانی نے کہا کے پی اینٹی کرپشن فائنڈنگز کمیٹی نے فیصلہ کیا ہے تو اسپیکر کے پی اسمبلی کو مستفی ہوجانا چاہیے۔
اعظم سواتی نے کہا کہ جنید اکبر کے بارے بھی بانی پی ٹی آئی کو بتایا، بانی نے کہا ہے جنید اکبر کی جانب سے کی گئی تعیناتیوں کو فوری واپس کیا جائے، پنجاب کے معاملات پر بھی بانی کو بریف کیا، بانی کو بتایا عالیہ حمزہ کا راستہ روکا جارہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ جنید اکبر کے بارے بانی کو بتایا کہ وہ اچھا کام کررہے ہیں، سردار خان اور اکرام اللہ پر کرپشن کے چارجز ہیں، بانی کو بتایا انکو عہدے دئیے گئے ہیں، ہم نے بانی کو ہر صورت جیل سے نکالنا ہے، علی امین گنڈا پور کرپشن کے معاملات پر خاموش نہیں ہیں، میں علی امین گنڈا کی اجازت سے بانی سے ملنے آیا ہوں۔
اس موقع پر مبشر مقصود اعوان نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بانی نے کہا ہے انہیں کتابیں نہیں دی جارہی، بانی نے کہا سات ماہ سے بچوں سے فون پر بات نہیں کرائی گئی، بانی نے کہا سیاسی ملاقاتیں بھی نہیں کرنے دی جارہی ہے۔
پی ٹی آئی کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجا نے کہا کہ میں اعظم خان سواتی کی بات پر جنید اکبر سے بات کرونگا، پنجاب میں اگر کوئی مسئلہ ہے تو اس پر بھی گفت شنید ہوسکتی ہے، پارٹی میں کوئی لڑائی نہیں چھوٹے موٹے معاملات چلتے رہتے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Ausaf
کلیدی لفظ: بانی کو بتایا بانی نے کہا کے معاملات پی ٹی ا ئی جنید اکبر نے کہا کہ کرپشن کے
پڑھیں:
سہیل آفریدی ان سے کہیں کہ پہلے عمران خان سے ملاقات کرواو اور پھر آپ بجٹ پاس کرو
راولپنڈی ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) علیمہ خان کا سہیل آفریدی کو مشورہ، کہا سہیل آفریدی ان سے کہیں کہ پہلے عمران خان سے ملاقات کرواو اور پھر آپ بجٹ پاس کرو۔ تفصیلات کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان کا کہنا ہے کہ جب بھی حکومت کو لگتا ہے عوام کا غصہ اور ٹمپریچر بڑھ رہا ہے، تو یہ خود کو بچانے کیلئے ڈیل کی باتیں اور افواہیں پھیلانا شروع کر دیتے ہیں، حقیقت میں کوئی ڈیل نہیں ہو رہی۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میڈیا ہم سے سوال کرنے کے بجائے حکومت سے جواب طلب کرے کہ عمران خان کو گزشتہ 7 ماہ سے غیر قانونی قیدِ تنہائی میں کیوں رکھا گیا ہے؟ صحافی وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی سے جا کر اس قیدِ تنہائی کی وجہ پوچھیں، ہمارا خاندان کسی قسم کا سیاسی این آر او یا ریلیف نہیں مانگ رہا، قیدِ تنہائی کا خاتمہ عمران خان کا بنیادی اور قانونی حق ہے۔(جاری ہے)
علیمہ خان نے الزام لگایا کہ گزشتہ 8 مہینوں سے عمران خان کو ذہنی و جسمانی ٹارچر کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، ملک میں کوئی قانون نہیں چل رہا، اگر حکومت ہمیں جیل میں ڈالنا چاہتی ہے تو شوق سے ڈال دے، لیکن عمران خان کی آنکھوں کے علاج اور معائنے کے لیے انہیں فوری طور پر شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کیا جائے اور وہاں کے ماہر ڈاکٹرز سے ان کا طبی معائنہ کروایا جائے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ سابق آرمی چیف کیوں عمران خان سے ملنے جائیں گے؟ وہ تو عمران خان کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھ ہی نہیں سکتے، پارٹی چیئرمین بیرسٹر گوہر نے بھی واضح کر دیا ہے کہ یہ تمام باتیں بالکل جھوٹ ہیں، جب بھی حکومت کو لگتا ہے کہ عوام کا غصہ اور ٹمپریچر بڑھ رہا ہے، تو یہ خود کو بچانے کے لیے ڈیل کی باتیں اور افواہیں پھیلانا شروع کر دیتے ہیں، جبکہ حقیقت میں کوئی ڈیل نہیں ہو رہی۔ عمران خان کی ہمشیرہ نے کہا کہ جب آپ لوگوں کے ووٹ چوری کریں گے اور عوام سمجھ جائیں گے کہ ان کے ووٹ کی کوئی حیثیت نہیں رہی، تو پھر ان کا شدید ردعمل آئے گا، حکومت کبھی لاٹھی سے تو کبھی گولی سے عوام کو مارتی ہے، ووٹ چوری سے پی ٹی آئی کا نہیں بلکہ اس عام شہری کا حق مارا جاتا ہے جس کا وہ ووٹ ہوتا ہے، گلگت بلتستان میں بھی وہی کچھ دہرایا جا رہا ہے جو عام انتخابات 2024ء میں کیا گیا تھا، وہاں پی ٹی آئی کو انتخابی مہم تک چلانے کی اجازت نہیں دی جا رہی، یاد رکھیں ظلم ہمیشہ وہی کرتا ہے جو اندر سے خود شدید خوفزدہ ہوتا ہے۔ علیمہ خان نے کہا کہ ہم پی ٹی آئی کی قیادت سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ ہمارے ساتھ آ کر یہاں بیٹھیں، جب قیادت آئے گی تو تمام ایم این ایز، ایم پی ایز، سینیٹرز اور تنظیم کے سینئر رہنما یہاں موجود ہوں گے، اگر پی ٹی آئی کی موجودہ قیادت اس فائنل کال پر بھی باہر نہیں نکلتی، تو پھر میڈیا اور عوام کا حق ہے کہ وہ ان رہنماؤں سے سوال کریں کہ وہ اپنے عظیم لیڈر کے لیے باہر کیوں نہیں آ رہے۔