خیرپور میں ہائی وے پر کوچ اور کار میں تصادم، باپ اور 2 بیٹیاں جاں بحق
اشاعت کی تاریخ: 2nd, April 2025 GMT
گمبٹ کے اسٹیشن ہاؤس افسر (ایس ایچ او) رفیق سومرو نے میڈیا کو ہلاکتوں کی تصدیق کی اور بتایا کہ تینوں افراد ٹویوٹا کرولا میں کراچی کی طرف جارہے تھے جب کہ کوچ خیبر پور کی طرف جارہی تھی، کار ڈرائیور یا تو اسٹیئرنگ وہیل کا کنٹرول کھو بیٹھا یا گاڑی چلاتے ہوئے سو گیا تھا اور مخالف سڑک پر کوچ سے ٹکرا گیا، یہ واضح نہیں ہوسکا کہ گاڑی کون چلا رہا تھا۔ اسلام ٹائمز۔ سندھ کے ضلع خیرپور کے شہر گمبٹ کے قریب کار اور مسافر کوچ کے درمیان تصادم کے نتیجے میں باپ اور ان کی دو بیٹیاں جان سے ہاتھ دھو بیٹھے، جبکہ 4 دیگر افراد زخمی ہوگئے۔ پاکستان میں شاہراہوں پر مہلک حادثات اکثر ہوتے رہتے ہیں جن کی بنیادی وجوہات میں تیز رفتاری، خطرناک اوور ٹیکنگ اور ٹریفک قوانین پر عدم توجہ شامل ہیں۔ گمبٹ کے اسٹیشن ہاؤس افسر (ایس ایچ او) رفیق سومرو نے میڈیا کو ہلاکتوں کی تصدیق کی۔ انہوں نے بتایا کہ لاشوں اور زخمیوں کو گمبٹ انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (گِمز) منتقل کر دیا گیا ہے۔ رفیق سومرو نے بتایا کہ تینوں افراد ٹویوٹا کرولا میں کراچی کی طرف جارہے تھے جب کہ کوچ خیبر پور کی طرف جارہی تھی۔ انہوں نے شبہ ظاہر کیا کہ کار ڈرائیور یا تو اسٹیئرنگ وہیل کا کنٹرول کھو بیٹھا یا گاڑی چلاتے ہوئے سو گیا تھا اور مخالف سڑک پر کوچ سے ٹکرا گیا۔ یہ واضح نہیں ہوسکا کہ گاڑی کون چلا رہا تھا۔
ایس ایچ او کے مطابق جاں بحق ہونے والوں کی شناخت خیبرپختونخوا کے علاقے وزیرستان کے رہائشی نیاز محمد اور ان کی دو بیٹیوں کے طور پر ہوئی ہے۔ پولیس افسر نے مزید کہا کہ ایک بیٹی کا نام آسرا بتایا گیا ہے جبکہ دوسری کا فوری طور پر پتا نہیں چل سکا، جبکہ اب تک زخمیوں کے نام بھی معلوم نہیں ہیں۔ واضح رہے کہ یہ حادثہ چار دوستوں کی سڑک حادثے میں موت کے دو روز بعد پیش آیا ہے، جب ان کی کار سندھ کے ضلع ٹنڈو الہ یار میں نصیر نہر نامی آبپاشی کے چینل میں جاگری تھی۔ قبل ازیں گزشتہ ہفتے ضلع دادو کے قصبے خیرپور ناتھن شاہ کے قریب انڈس ہائی وے پر تیز رفتار ٹرک کی زد میں آکر موٹرسائیکل پر سوار 2 افراد جاں بحق ہوگئے تھے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: کی طرف
پڑھیں:
کراچی میں گیس سلینڈر دھماکے سے تباہی، 1 جاں بحق
شہر قائد کے علاقے صفورا چورنگی سندھ گرین ہوٹل واٹر ہائیڈرنٹ کے قریب واقع ٹائر پنکچر اورگیس ویلڈنگ کی مشترکہ دکان میں دھماکے کے نتیجے میں ایک شخص جاں بحق اور5 افراد زخمی ہو گئے۔
تفصیلات کے مطابق ملیر کینٹ تھانے کے علاقے صفورا چورنگی سندھ گرین ہوٹل واٹرہائیڈرنٹ کے قریب واقع ٹائر پنکچر اورگیس ویلڈنگ کی مشترکہ دکان میں دھماکےمیں 6 افراد جھلس کر زخمی ہو گئے جنہیں فوری طور پرجناح اسپتال منتقل کیا گیا۔
اسپتال منتقلی کے بعد جھلس کر زخمی ہونے والا ایک شخص دوران علاج دم توڑ گیا، جس کی شناخت 35 سالہ وقاص کے نام سے ہوئی۔
حادثے میں زخمی ہونے والے دیگر افراد میں 10 سالہ سکندر، 40 سالہ اویس اور 30 سالہ عبدالحنان اورعابد شامل ہیں جبکہ ایک زخمی کی شناخت تاحال نہیں ہوسکی۔
ایس ایچ او ملیر کینٹ آغا عبدالرشید کے مطابق دھماکے میں جاں بحق ہونے والا وقاص پنکچرکی دکان کا مالک تھا۔ انہوں نے مزید بتایا کہ پنکچر کی دکان سے متصل گاڑیوں کے سینسر گیس ویلڈنگ کے ذریعے مرمت کاکام بھی ہوتا تھا جہاں ایک چھوٹا سلنڈر موجود تھا جوروز داردھماکے سے پھٹ گیا جس کے نتیجے میں ایک شخص جاں بحق اور 5 افراد زخمی ہوئے جنہیں فوری طورپراسپتال منتقل کردیا گیا۔
عینی شاہدین کے مطابق دھماکہ اتنا شدید تھا کہ دکان مکمل طور پرتباہ ہوگئی۔