انسان تو انسان پینگوئنز بھی ٹرمپ کے ٹیرف سے محفوظ نہیں
اشاعت کی تاریخ: 3rd, April 2025 GMT
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے عائد کردہ نئے ٹیرف سے کرۂ ارض پر شاید ہی کوئی جگہ محفوظ رہی ہوگی کیوں کہ وہ اس میں جزائر بھی شامل ہیں جہاں انسان بھی آباد نہیں ہیں۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ نے جزائر ہرڈ آئی لینڈ اور میکڈونلڈ آئی لینڈز پر بھی 10 فیصد ٹریف عائد کردیا ہے جو کہ قدرتی طور پر پینگوئنز کا محفوظ مسکن ہیں اور یہاں ان کے علاوہ کوئی موجود نہیں۔
انٹارکٹیکا کے قریب واقع آسٹریلیا کے زیر انتظام ان جزیروں میں انسانی آبادی بھی نہیں اور آخری بار 10 سال قبل کوئی انسان گیا تھا۔
علاوہ ازیں آسٹریلوی بیرونی علاقوں کوکوس آئی لینڈز، کرسمس آئی لینڈ اور نورفولک آئی لینڈ پر بھی 29 فیصد تک ٹیرف عائد کیا گیا ہے۔
جس پر آسٹریلوی وزیراعظم نے حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ امریکا جیسے بڑے ملک کو آخر ان چھوٹے اور غیر آباد جزیروں سے کس قسم کا تجارتی خطرہ ہوسکتا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
بيزوس، مسک اور زکربرگ جیسے ارب پتی ہر سال ایک خفیہ سمر کیمپ میں کیوں اکٹھے ہوتے ہیں؟
امریکہ کی ریاست ایڈاہو کے ایک خاموش اور خوبصورت پہاڑی علاقے سن ویلی(Sun Valley) میں ہر سال جولائی کے مہینے میں ایک ایسی تقریب ہوتی ہے جہاں دنیا کے امیر ترین اور بااثر افراد اکٹھے ہوتے ہیں۔
اس خاص اور خفیہ محفل کو غیر رسمی طور پر ”ارب پتیوں کا سمر کیمپ“ کہا جاتا ہے۔ یہاں دنیا کے نامور اور طاقتور لوگ جیسے جیف بیزوس، مارک زکربرگ، بل گیٹس اور ایلن مسک بغیر کسی دکھاوے کے ایک ساتھ وقت گزارتے ہیں۔
یہ سلسلہ 1983 سے چلا آ رہا ہے جسے ایلن اینڈ کمپنی نامی ایک معاشی ادارہ منعقد کرواتا ہے۔ اس تقریب میں شامل ہونے کے لیے کوئی ٹکٹ نہیں خریدی جا سکتی اور نہ ہی انٹرنیٹ پر کوئی رجسٹریشن ہوتی ہے۔ یہاں صرف وہی لوگ آ سکتے ہیں جنہیں ذاتی طور پر دعوت نامہ بھیجا جاتا ہے۔ منتظمین کی طرف سے اس تقریب کی کوئی باقاعدہ مہمانوں کی فہرست یا شیڈول جاری نہیں کیا جاتا۔ اس سال یہ تقریب 7جولائی سے 11 جولائی 2026 تک منعقد ہوئی۔
اس کانفرنس کی سب سے بڑی بات یہ ہے کہ یہ روایتی دفتری میٹنگز کی طرح نہیں ہوتی۔ یہاں نہ طویل اجلاس ہوتے ہیں اور نہ ہی بڑی بڑی پریزنٹیشنز۔
امیر ترین شخصیات سوٹ بوٹ پہننے کے بجائے عام جوتوں اور آرام دہ کپڑوں میں نظر آتی ہیں۔ لوگ دن کے وقت پہاڑوں پر سیر کرتے ہیں، گولف کھیلتے ہیں، سائیکل چلاتے ہیں، مچھلی پکڑتے ہیں اور شام کو مل کر کھانا کھاتے ہیں۔
مزیدپڑھیں:عالمی منڈی میں سونے کی قیمت میں کمی
اس سال کی ملاقات میں جدید ترین ٹیکنالوجی اور آرٹیفیشل انٹیلی جنس یعنی اے آئی کا موضوع سب سے زیادہ چھایا رہا۔ اس تقریب میں ٹیکنالوجی اور کاروبار کی دنیا کے کئی بڑے نام شامل ہوئے۔
اگرچہ اس کیمپ میں میڈیا اور کیمروں کی اجازت نہیں ہوتی اور نہ ہی کوئی بڑا باضابطہ اعلان کیا جاتا ہے، لیکن ماہرین کا کہنا ہے کہ دنیا کے کئی بڑے کاروباری معاہدوں کی بنیاد اسی خاموش جگہ پر رکھی جاتی ہے جو بعد میں دنیا کے سامنے آتے ہیں۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ بہت سے شرکا اپنے اہلِ خانہ کو بھی ساتھ لاتے ہیں، جس کی وجہ سے یہ تقریب ایک کاروباری اجلاس سے زیادہ ایک پُرتعیش خاندانی تعطیلات کا منظر پیش کرتی ہے۔ تاہم، اس کے باوجود دنیا بھر کی نظریں ہر سال اس خفیہ سمر کیمپ پر لگی رہتی ہیں، کیونکہ یہاں ہونے والی ملاقاتیں مستقبل کی عالمی معیشت اور ٹیکنالوجی کی سمت کا تعین بھی کر سکتی ہیں۔