اجلاس میں متفقہ طور پر فیصلہ کیا گیا کہ سدپارہ ڈیم میں پانی کی سطح کو مدنظر رکھتے ہوئے 20 اپریل تک یعنی آبپاشی کے سیزن شروع ہونے تک پانی کو ذخیرہ کیا جائے گ اسلام ٹائمز۔ ڈپٹی کمشنر سکردو کیپٹن (ر) عارف احمد کی زیر صدارت پانی و بجلی کی موجودہ صورتحال سے متعلق اجلاس منعقد ہوا۔ جس میں ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر، اسسٹنٹ کمشنر سکردو، ایکسیئن واپڈا، ایکسیئن برقیات، ایکسیئن واسا، جھیل کمیٹی کے ممبران اور دیگر آفیسران نے شرکت کی۔ اجلاس میں ایکسیئن واپڈا اور ایکسیئن برقیات نے ڈیم میں پانی کی موجودہ ذخیرہ اور بجلی کی پیداوار سے متعلق شرکاء کو بریفنگ دی۔ اجلاس میں متفقہ طور پر فیصلہ کیا گیا کہ سدپارہ ڈیم میں پانی کی سطح کو مدنظر رکھتے ہوئے 20 اپریل تک یعنی آبپاشی کے سیزن شروع ہونے تک پانی کو ذخیرہ کیا جائے گا اور ڈیم سے پانی کے اخراج کو کم کرنے کے باعث بجلی کی پیداوار بھی 06 میگا واٹ سے کم ہو کر 04 میگا واٹ ہو گی۔ اس طرح شام ساڑھے پانچ بجے سے رات ساڑھے گیارہ بجے تک بجلی آن رہے گا۔ اس حوالے سے سکردو شہر کو تین سرکٹ میں تقسیم کیا گیا، ہر سرکٹ کو روزانہ دو گھنٹے بجلی آن رہے گی۔ اس سلسلے میں ایکسیئن برقیات باقاعدہ طور پر شیڈول مرتب کرینگے اور اسی حساب سے عوام الناس کو بجلی فراہم کریں گے، اور عوام الناس کو یکساں اور منصفانہ تقسیم کو یقینی بنائیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: ڈیم میں

پڑھیں:

مہاجرین کی نشستوں کے مستقبل پر بڑا فیصلہ قریب، اہم پیش رفت سامنے آگئی

مظفرآباد: مہاجرین کی نشستیں آزاد جموں و کشمیر کی سیاست میں ایک بار پھر توجہ کا مرکز بن گئی ہیں، جہاں ان نشستوں کے مستقبل سے متعلق اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ ذرائع کے مطابق وفاقی حکومت نے اس معاملے پر نرم رویہ اختیار کرتے ہوئے مکمل خاتمے کے بجائے نشستوں کی تعداد میں کمی کی تجویز پر غور شروع کر دیا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ وادی کشمیر سے تعلق رکھنے والے مہاجرین کی چھ نشستیں کم کرنے کی ابتدائی تجویز زیر غور ہے۔ اس پیش رفت کو انتخابی اصلاحات کے حوالے سے ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے، جس سے طویل عرصے سے جاری سیاسی بحث کو کسی نتیجے تک پہنچانے میں مدد مل سکتی ہے۔

اطلاعات کے مطابق وفاقی حکومت جلد آزاد کشمیر کی قیادت کو اپنے مؤقف سے آگاہ کرے گی۔ اس سلسلے میں وزیراعظم آزاد کشمیر کی جانب سے جوائنٹ پبلک ایکشن کمیٹی سے رابطے کا بھی امکان ظاہر کیا جا رہا ہے تاکہ مختلف سیاسی اور سماجی حلقوں کو اعتماد میں لیا جا سکے۔

دوسری جانب آزاد کشمیر میں انتخابی اصلاحات کے موضوع پر کل ہونے والی آل پارٹیز کانفرنس بھی غیر معمولی اہمیت اختیار کر گئی ہے۔ سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ مہاجرین کی نشستیں کم کرنے کی تجویز پر اتفاق رائے پیدا ہونے سے انتخابی نظام میں اصلاحات کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔

ذرائع کے مطابق اس معاملے پر مختلف سیاسی جماعتوں اور اسٹیک ہولڈرز کے درمیان مشاورت جاری ہے، جبکہ وفاقی حکومت بھی ایسا حل تلاش کرنے کی کوشش کر رہی ہے جو تمام فریقوں کے لیے قابل قبول ہو۔

سیاسی حلقوں کا ماننا ہے کہ اگر اس معاملے پر اتفاق رائے پیدا ہو جاتا ہے تو یہ آزاد کشمیر کی سیاسی تاریخ میں ایک اہم سنگ میل ثابت ہو سکتا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • 5 جون کا وفاقی بجٹ اجلاس مؤخر، نئی تاریخ کا فیصلہ نہ ہوسکا
  • نیپرا، بجلی 1 روپیہ 73 پیسے مہنگی کرنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ
  • مہاجرین کی نشستوں کے مستقبل پر بڑا فیصلہ قریب، اہم پیش رفت سامنے آگئی
  • بجلی 1 روپیہ 73 پیسے مہنگی کرنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ
  • گوگل کی مالک کمپنی الفابیٹ کا اے آئی پر 80 ارب ڈالر خرچ کرنے کا بڑا فیصلہ
  • بجلی صارفین کے لیے ایک اور جھٹکا، فی یونٹ نرخ بڑھنے کا امکان
  • دوسرا ون ڈے: پاکستان کا ٹاس جیت کر بولنگ کرنے کا فیصلہ
  • کراچی میں کئی ماہ سے جاری پانی کا شدید بحران ختم نہ ہو سکا
  • لاہور: محکمۂ قانون پنجاب نے بجٹ کی تاریخ تبدیل کرنے کی تجویز دے دی
  • وزیراعظم کا بی ٹو بی کانفرنس کی پیشرفت کے ماہانہ جائزہ اجلاس کی خود صدارت کا فیصلہ