پی ایس ایل10؛ میچ آفیشل ٹیکنالوجی کیا امپائرز کو فائدہ ہوگا؟
اشاعت کی تاریخ: 5th, April 2025 GMT
پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) کے 10ویں ایڈیشن کیلئے نئی ٹیکنا لوجی متعارف کروانے کا اعلان کردیا۔
بورڈ کی جانب جاری کردہ اعلامیے میں پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) 10 کیلئے نئی ٹیکنا لوجی متعارف کروانے کا اعلان کیا گیا ہے، جس کے تحت میچ میں شفافیت اور امپائر کو فیصلوں میں مدد ملے گی۔
اس ٹیکنالوجی کی مدد سے نوبال، ڈی آر ایس، امپائرز کی لائیو کمیونیکیشن، مختلف زاویوں سے ری پلےکی سہولت ہوگی۔
مزید پڑھیں: فخر زمان انجری سے صحتیاب، پی ایس ایل میچز میں شرکت سے متعلق اہم پیشرفت
اس کے علاوہ نئی ٹیکنالوجی سے میچ اننگز کا وقت بھی براہ راست دیکھنے کو ملے گا۔
مزید پڑھیں: پی ایس ایل10؛ آن لائن ٹکٹوں کی فروخت کا آغاز ہوگیا، کہاں سے ملیں گے؟
واضح رہے کہ اس سال پاکستان سپر لیگ سیزن 10 کا آغاز 11 اپریل سے ہوگا، یہ ایونٹ 18 مئی تک کراچی، لاہور، ملتان اور راولپنڈی میں منعقد ہوگا۔
مزید پڑھیں: پی ایس ایل ترانہ ریلیز؛ لیکن۔۔ شائقین کو اپنی طرف متوجہ کرنے میں ناکام
دوسری جانب خیال کیا جارہا ہے کہ غیر ملکی پلئیرز کی آمد کا سلسلہ بھی 9 اپریل سے شروع ہوجائے گا تاکہ کھلاڑی پریکٹس سیشنز میں حصہ لے سکیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: پی ایس ایل
پڑھیں:
فراہمی آب کا ’کے فور منصوبہ‘ مزید تاخیر کا شکار، 2029ء تک مکمل ہونے کا امکان
12 سال پہلے یہ منصوہہ 25 ارب روپے مکمل ہو جانا تھا، تاہم اب اس کی لاگت 200 ارب روپے سے زائد ہو چکی ہے اور آنے والے وقت تخمینی لاگت میں مزید اضافہ کا بھی امکان ہے۔ اسلام ٹائمز۔ شہر قائد میں اضافی پانی کا منصوبہ ’کے فور‘ کی تکمیل میں مزید تین سال لگ سکتے ہے، جبکہ منصوبے کا اصل کام تو ابھی شروع ہی نہیں ہوا، جب وہ ہوگا تو شہر کی مرکزی سڑکیں متاثر ہوگی، حکام نے بتایا کہ 12 سال پہلے یہ منصوہہ 25 ارب روپے مکمل ہو جانا تھا، تاہم اب اس کی لاگت 200 ارب روپے سے زائد ہو چکی ہے اور آنے والے وقت تخمینی لاگت میں مزید اضافہ کا بھی امکان ہے۔ تفصیلات کے مطابق کراچی میں پانی کی طلب 1 ارب 20 کروڑ گیلن ہے، جبکہ رسد 65 کروڑ گیلن ہے شہر کو مزید پانی فراہم کرنے کیلئے کے فور منصوبہ بنانے کا اعلان کیا تھا، لیکن حکومتین تبدیل ہوتی رہی لیکن یہ منصوبہ 20 سال سے زیر التواء ہے۔ 2014ء میں اس منصوبے کو وفاق اور سندھ حکومت نے مل کر بنانا تھا، جس کی لاگت 25 ارب روپے بتائی گئی تھی لیکن پھر کھٹائی میں پڑ گیا، تاہم پھر اس کو واپڈا کو دیا گیا اور اس کی مکمل ہونے کی ڈیڈ لائن بھی دی گئی لیکن اس میں مکمل نہیں ہو سکا۔ کئی ڈیڈ لائن گزر گئیں لیکن منصوبہ مکمل نہیں ہوسکا، تاہم اب وفاقی وزیر احسن اقبال نے دسمبر 2026ء کی ڈیڈ لائن دی ہے۔
کے فور منصوبہ 2026ء میں بھی مکمل نہیں ہو سکے گا، اس کی مکمل ہونے کا امکان 2029ء کی جنوری تک ہے۔ کے فور منصوبے پر وفاق کی جانب سے تین کام کئے جانے ہیں، جن میں ٹراسمیشن لائن، پمپنگ اسٹیشن اور فلٹر پلانٹ بنانے کے کام کی ذمہ داری ہے، جبکہ سندھ حکومت کے پاس چار کام کرنے تھے، اس میں اراضی مہیا کرنا، آگمینٹیشن، الیکٹرک سپلائی اور اری گیشن کی ذمہ داری تھی، جو کینچھر جیل سے پانی فراہم کرنے میں مدد کریگا۔ اس منصوبے کا ابھی بہت کام کرنا باقی ہے، آگمیٹیشن کا نیپا سے حسن اسکوائر کا نومبر 2025ء سے اب تک کام مکمل نہیں ہوسکا، بلکہ بین الاقومی مالیاتی ادارے نے اس کو غیر معیاری قرار دے دیا ہے اور ابھی تو بہت کام باقی ہے، جب یہ لائنیں شہر کی مرکزی راستوں میں ڈالی جائیں گی اس وقت شہریوں کو آمدورفت میں مزید مشکلات کا سامنا کرنا پڑیگا۔