UrduPoint:
2026-06-02@22:52:40 GMT

امریکی پالیسیوں سے ایشیائی ممالک کیسے متاثر ہوں گے؟

اشاعت کی تاریخ: 6th, April 2025 GMT

امریکی پالیسیوں سے ایشیائی ممالک کیسے متاثر ہوں گے؟

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 06 اپریل 2025ء) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے رواں ہفتے ہی پارٹنر ممالک پر جوابی نوعیت کے بڑے محصولات کا اعلان کیا، جسے انہوں نے ایک نئے ''سنہری دور‘‘ کی شروعات قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ اس پالیسی کی بدولت صنعت اور مینوفیکچرنگ کے شعبے کی ملازمتیں بڑی تعداد میں امریکہ واپس آئیں گی۔

یہ اقدام آزادتجارت اور عالمی تجارتی نظام سے ایک حیران کن انحراف کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

عشروں پر محیط ان اصولوں سے رو گردانی دراصل دیگر ممالک کو بھی مجبور کر سکتی ہے کہ وہ بھی جوابی اقدامات کریں۔ یوں نہ صرف عالمی سطح پر تجارتی رکاوٹیں کھڑی ہو سکتی ہیں بلکہ ٹریڈ پروٹیکشن ازم (تحفظ پسند تجارتی اقدامات) کے ایک نئے دور کا آغاز ممکن ہو سکتا ہے۔

(جاری ہے)

امریکہ کی طرف سے چین، جاپان، جنوبی کوریا اور ویتنام جیسے ایشیائی ممالک پر سب سے زیادہ سخت محصولات عائد کیے جا رہے ہیں۔

کیا مکمل تجارتی جنگ شروع ہو سکتی ہے؟

صدر ٹرمپ نے چین سے درآمدات پر پہلے سے موجود 20 فیصد محصولات کے علاوہ 34 فیصد نیا ٹیکس عائد کیا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ نو اپریل سے جب یہ نئے قوانین نافذ العمل ہوں گے تو چین پر مجموعی ٹیکس کی شرح 54 فیصد ہو جائے گی۔

یہ اقدام دونوں ممالک کے درمیان 582.

4 ارب ڈالر کے دو طرفہ تجارتی تعلقات کو خطرے میں ڈال سکتا ہے۔

سن 2024 میں امریکہ نے چین کو 143.5 ارب ڈالر کی مصنوعات برآمد کیں جبکہ چین سے 438.9 ارب ڈالر کی درآمدات کی گئیں۔

بیجنگ نے اس فیصلے کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا اور جوابی اقدامات کا عندیہ دیا ہے۔ ''جیسے کو تیسا‘‘ طرز کی پالیسی سے دنیا کی دو بڑی معیشتیں گہری تجارتی جنگ میں الجھ سکتی ہیں۔ یوں عالمی سپلائی چین متاثر ہو سکتی ہے۔

چین کی یورپی یونین سے تعاون کی اپیل

چین کے یورپی یونین کے لیے چیمبر آف کامرس کے سیکریٹری جنرل فنگ ڈونگ کوئی نے کہا،''ہم سمجھتے ہیں کہ یہ محصولات تجارتی تحفظ پسندی کو جنم دے سکتے ہیں اور عالمی معیشت کو شدید دھچکا پہنچا سکتے ہیں۔‘‘ انہوں نے امریکہ اور اس کے تجارتی شراکت داروں پر زور دیا کہ اختلافات مذاکرات سے حل کریں نہ کہ محاذ آرائی سے۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ چین اور یورپی یونین کو کثیر الجہتی تجارتی نظام کو برقرار رکھنے کے لیے اپنے تعاون کو مزید مضبوط کرنا چاہیے۔

جاپان کا ردعمل: مایوسی لیکن احتیاط

صدر ٹرمپ نے جاپان پر 24 فیصد نیا ٹیکس عائد کیا ہے حالانکہ جاپان کی جانب سے سفارتی کوششیں کی گئی تھیں کہ اسے محصولات سے مستثنیٰ رکھا جائے۔ ٹرمپ نے جاپان پر یہ الزام بھی عائد کہ کہ ٹوکیو حکومت نے امریکی چاول کی جاپان امپورٹ پر 700 فیصد ٹیکس عائد کیا ہے۔

تاہم جاپان کے وزیر زراعت تاکو ایٹو نے ان اعداوشمار کو ''غیر منطقی‘‘ قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا۔

جاپان کے وزیر اعظم نے کہا کہ وہ امریکی فیصلے سے ''انتہائی مایوس‘‘ ہوئے ہیں اور وہ ملکی صنعت کی ترقی کے لیے اقدامات اٹھائیں گے۔

رواں ہفتے ہی جاپانی گاڑیوں کی امریکہ درآمد پر 25 فیصد ٹیکس بھی لاگو ہو گیا ہے۔

اس وجہ سے جاپانی آٹو صنعت میں تشویش کی ایک نئی لہر دوڑ گئی ہے۔ یہ صنعت ملکی جی ڈی پی کا تقریباً تین فیصد ہے اور آٹھ فیصد ملازمتیں بلاواسطیہ یا بالواسطہ اسی صنعت سے جڑی ہوئی ہیں۔ تاہم جاپان کی حکومت نے بدلہ لینے کے بجائے محتاط رویہ اپنانے کا عندیہ دیا ہے۔ ’ٹیرف کنگ‘ بھارت پر اثرات

ٹرمپ نے وزیر اعظم نریندر مودی کو اپنا ''اچھا دوست‘‘ قرار دیا، مگر ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ بھارت ''ہم سے اچھا سلوک نہیں کر رہا۔

‘‘ انہوں نے بھارت کو''ٹیرف کنگ‘‘ اور ''تجارتی نظام کا غلط فائدہ اٹھانے والا‘‘ ملک قرار دیا ہے۔

اب امریکہ بھارت سے درآمدات پر 27 فیصد محصولات عائد کر رہا ہے، جو نو اپریل سے نافذ ہوں گے۔

2024ء میں دونوں ممالک کے درمیان 129.2 ارب ڈالر کی دو طرفہ تجارت ہوئی، جس میں بھارت نے 87 ارب ڈالر کی مصنوعات امریکہ کو برآمد کیں اور 41.8 ارب ڈالر کی مصنوعات درآمد کیں، یعنی بھارت کو 45.7 ارب ڈالر کا تجارتی فائدہ حاصل ہوا۔

بھارت نے کہا ہے کہ وہ ان محصولات کے اثرات کا جائزہ لے رہا ہے اور تجارتی معاہدے کے لیے بات چیت جاری رکھے گا۔

جنوب مشرقی ایشیا کی 'چائنہ پلس ون‘ حکمت عملی خطرے میں؟

جنوب مشرقی ایشیا کے چھ ممالک پر بھی صدر ٹرمپ نے 32 سے 49 فیصد تک کے محصولات عائد کیے ہیں۔ ویتنام، تھائی لینڈ جیسے ممالک نے پچھلے کچھ سالوں میں امریکی مارکیٹ کے لیے بڑی برآمدی معیشتیں قائم کی ہیں۔

ویتنام نے گزشتہ سال امریکہ کو 142 ارب ڈالر کی برآمدات کیں، جو اس کی مجموعی معیشت کا 30 فیصد بنتی ہیں۔ اب امریکہ نے اس پر 46 فیصد ٹیکس عائد کر دیا ہے۔

ویتنامی وزیراعظم نے صورتحال سے نمٹنے کے لیے ''ریپڈ ریسپانس ٹیم‘‘ بنانے کا اعلان کیا ہے جبکہ نائب وزیراعظم اگلے ہفتے واشنگٹن کا دورہ کریں گے۔

مذاکرات کو ترجیح دی جائے

انڈونیشیا پر بھی 32 فیصد ٹیکس عائد ہوا ہے، جس سے ماہرین کو معاشی بحران کا خدشہ ہو چلا ہے۔

سنگاپور پر بھی 10 فیصد ٹیکس لگایا گیا ہے۔ ادھر کمبوڈیا نے 49 فیصد امریکی ٹیکس کو ''غیر معقول‘‘ قرار دے دیا ہے۔

تائیوان نے بھی نئے امریکی محصولات کو غیر منصفانہ قرار دیا ہےِ۔ تاہم یہ ٹیکس سیمی کنڈکٹرز پر لاگو نہیں ہو گا۔

جنوب مشرقی ایشیائی ممالک عمومی طور پر جوابی کارروائی کے بجائے مذاکرات پر زور دے رہے ہیں۔

تھائی وزیراعظم نے کہا، ''ہمیں مذاکرات کرنا ہیں، تفصیل میں جانا ہو گا۔ ہم اپنی جی ڈی پی کا ہدف نہیں گنوا سکتے۔‘‘

ادارت: امتیاز احمد

اس رپورٹ کی تیاری میں ڈی ڈبلیو چائنیز سے کوئی مو، نئی دہلی سے مرلی کرشنن، ٹوکیو سے جولیئن رائل، ڈی ڈبلیو انڈونیشیا سے یوسف پامنچک اور ڈیوڈ ہٹ نے تعاون فراہم کیا۔

ذریعہ

ذریعہ: UrduPoint

کلیدی لفظ: تلاش کیجئے ارب ڈالر کی ٹیکس عائد فیصد ٹیکس انہوں نے قرار دیا کے لیے کیا ہے دیا ہے

پڑھیں:

مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی دراندازی: پاکستان سمیت 8 ممالک کا شدید ردعمل، پورا حرم صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ قرار

پاکستان، سعودی عرب، مصر، ترکیہ، انڈونیشیا، اردن، قطر اور متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کے وزرائے خارجہ نے مسجد اقصیٰ میں انتہا پسند اسرائیلی آبادکاروں کی مسلسل دراندازی، اسرائیلی فورسز کی سرپرستی میں ہونے والی کارروائیوں اور مسجد کے احاطے میں اسرائیلی پرچم لہرانے کی شدید مذمت کی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: فلسطینی قیدیوں کو سزائے موت سے متعلق اسرائیلی قانون سازی، پاکستان سمیت 8 اسلامی ممالک کا مذمتی بیان جاری

8 عرب و اسلامی ممالک کے وزرائے خارجہ نے مشترکہ بیان میں کہا کہ انتہا پسند اسرائیلی آبادکاروں کی یہ اشتعال انگیز اور ناقابل قبول کارروائیاں بین الاقوامی قانون، اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں اور مقبوضہ مشرقی یروشلم میں مقدس مقامات کی تاریخی و قانونی حیثیت کی کھلی خلاف ورزی ہیں۔

بیان میں اسرائیل کی جانب سے مقبوضہ مشرقی یروشلم کی تاریخی، قانونی اور آبادیاتی حیثیت تبدیل کرنے اور اسلامی و مسیحی مقدس مقامات کے تشخص کو نقصان پہنچانے کے لیے جاری منظم اقدامات اور خلاف ورزیوں کی بھی سخت مذمت کی گئی۔

وزرائے خارجہ نے یروشلم اور اس کے اسلامی و مسیحی مقدس مقامات کی تاریخی و قانونی حیثیت تبدیل کرنے کی ہر کوشش کو مسترد کرتے ہوئے اس کے تحفظ پر زور دیا جبکہ اس حوالے سے ہاشمی سرپرستی کے خصوصی کردار کو بھی تسلیم کیا۔

مشترکہ بیان میں کہا گیا کہ مسجد اقصیٰ/الحرم الشریف کا پورا 144 دونم (تقریباً 35.6 ایکڑ) پر مشتمل رقبہ صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ ہے اور اردن کی وزارت اوقاف و اسلامی امور سے وابستہ یروشلم اوقاف و مسجد اقصیٰ امور ڈائریکٹوریٹ ہی اس مقدس مقام کے انتظام و انصرام اور داخلے کے امور کا واحد مجاز ادارہ ہے۔

مزید پڑھیے: پاکستان سمیت 8 اسلامی ممالک کا مشترکہ بیان، غزہ میں امن کے لیے ٹرمپ کی کوششوں کا خیرمقدم

وزرائے خارجہ نے اسرائیلی حکام کو ان اشتعال انگیز اقدامات کے فوری خاتمے کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے خبردار کیا کہ بار بار کی جانے والی ایسی خلاف ورزیاں خطے میں کشیدگی، عدم استحکام اور انتہا پسندی کو فروغ دیتی ہیں امن کی بین الاقوامی کوششوں کو نقصان پہنچاتی ہیں اور بین الاقوامی قانون کے تحت اسرائیل کی ذمہ داریوں کی صریح خلاف ورزی ہیں۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ اسرائیل فوری طور پر ایسی تمام غیر قانونی اور اشتعال انگیز کارروائیاں بند کرے اور مسجد اقصیٰ کی تاریخی و قانونی حیثیت کا مکمل احترام یقینی بنائے۔

????PR No.1️⃣4️⃣0️⃣/2️⃣0️⃣2️⃣6️⃣

Joint Statement by Foreign Ministers of the Group of Eight Arab-Islamic States

????⬇️ pic.twitter.com/qZTmgSZM0n

— Ministry of Foreign Affairs – Pakistan (@ForeignOfficePk) June 2, 2026

آٹھوں ممالک نے فلسطینی عوام کے ساتھ اپنی غیر متزلزل یکجہتی کا اعادہ کرتے ہوئے ان کے جائز اور ناقابل تنسیخ قومی حقوق، بالخصوص حقِ خودارادیت اور 1967 کی سرحدوں پر مشتمل ایک آزاد اور خودمختار فلسطینی ریاست کے قیام کی حمایت کا اعادہ کیا، جس کا دارالحکومت مشرقی یروشلم ہو۔

مزید پڑھیں: غزہ جنگ بندی کی خلاف ورزیاں، پاکستان سمیت 8 اسلامی ممالک اسرائیلی جارحیت پر بول پڑے

بیان میں اسرائیلی قبضے کے خاتمے اور 2 ریاستی حل کی بنیاد پر منصفانہ، دیرپا اور جامع امن کے قیام کے لیے جاری تمام سفارتی کوششوں کی بھی مکمل حمایت کا اظہار کیا گیا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

8 اسلامی ممالک اسرائیل کی جارحیت مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی دراندازی

متعلقہ مضامین

  • سندھ میں مٹی کے طوفان نے تباہی مچا دی، 46 گرڈ اسٹیشن بند، درجنوں شہر اندھیرے میں ڈوب گئے
  • پشاور سمیت مختلف اضلاع میں بجلی کا طویل بریک ڈاؤن، شہریوں کو مشکلات کا سامنا
  • ایکس نے ’ری ایکٹ ود ویڈیو‘ فیچر متعارف کرا دیا، یہ کام کیسے کرتا ہے؟
  • مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی دراندازی: پاکستان سمیت 8 ممالک کا شدید ردعمل، پورا حرم صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ قرار
  • کرپٹو ٹریڈنگ پر 15 تا 30 فیصد کیپیٹل گین ٹیکس عائد ہونے کا امکان، ذرائع
  • جاپان میں جنگلی ریچھ نے حملے کر کے چار افراد کو زخمی کر دیا
  • وفاقی آئینی عدالت نے پولٹری فیڈ ملز سے 4 فیصد اضافی ٹیکس کی وصولی غیرقانونی قرار دے دی
  • پاکستان اور اٹلی کے درمیان سفارتی پاسپورٹ ہولڈرز کے لیے ویزا فری سفر کا نیا معاہدہ
  • وفاقی آئینی عدالت: پولٹری فیڈ ملز سے 4 فیصد اضافی ٹیکس کی وصولی غیرقانونی قرار
  • وزیر ریلوے کی اطالوی قومی دن کے موقع پر اٹلی کی حکومت اور عوام کو مبارکباد