Islam Times:
2026-06-02@23:50:49 GMT

فلسطین فاؤنڈیشن کے تحت یکجہتی فلسطین کانفرنس، ویڈیو رپورٹ

اشاعت کی تاریخ: 7th, April 2025 GMT

‍‍‍‍‍‍

اسلام ٹائمز: کانفرنس میں سیاسی و مذہبی قائدین سمیت سول سوسائٹی، اساتذہ، وکلاء، طلباء برادری سمیت مختلف طبقات سے تعلق رکھنے والے خواتین و حضرات شریک ہوئے۔ متعلقہ فائیلیںخصوصی رپورٹ

غزہ پر مسلسل امریکی و اسرائیلی جارحیت کے خلاف فلسطینیوں کی اپیل پر پاکستان میں بھی یوم ارض فلسطین منایا گیا اور فلسطین فاؤنڈیشن پاکستان کے زیر اہتمام کراچی کے مقامی ہال میں یکجہتی فلسطین کانفرنس کا انعقاد کیا گیا۔ کانفرنس میں سیاسی و مذہبی قائدین سمیت سول سوسائٹی، اساتذہ، وکلاء، طلباء برادری سمیت مختلف طبقات سے تعلق رکھنے والے خواتین و حضرات شریک ہوئے۔ کانفرنس میں پی ایل ایف کے سیکرٹری جنرل ڈاکٹر صابر ابو مریم، تحریک انصاف کے سینئر رہنما فردوس شمیم نقوی، جماعت اسلامی پاکستان کے مرکزی رہنما ڈاکٹر معراج الہدیٰ صدیقی، متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے رکن سندھ اسمبلی سید اعجاز الحق، سابق سفیر غلام رسول بلوچ، شیعہ علماء کونسل کے مرکزی سیکریٹری جنرل علامہ شبیر میثمی، مجلس وحدت مسلمین سندھ کے صدر علامہ باقر عباس زیدی، جمعیت علماء پاکستان کے مرکزی علامہ عقیل انجم قادری، علامہ قاضی احمد نورانی صدیقی سمیت اقلیتی برادری کے رہنماؤں پاسٹر ایمانوئیل صوبہ اور سکھ رہنما مگھن سنگھ و دیگر رہنماؤں نے خطاب کیا۔

مقررین نے کہا کہ غزہ، یمن، لبنان اور شام پر امریکی و اسرائیلی جارحیت کی شدید مذمت کرتے ہیں، عالم اسلام کے حکمران غزہ کی کم سے کم مدد کرنے کیلئے غاصب صہیونی ریاست اسرائیل کے ساتھ تعلقات منقطع کریں، عوام امریکی و اسرائیلی مصنوعات کا بائیکاٹ جاری رکھیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومتِ پاکستان عالمی سطح پر مسئلہ فلسطین کی حمایت میں جارحانہ سفارتکاری کا عمل تیز کرے، پاکستان سے غاصب اسرائیلی ریاست کا دورہ کرنے والے نام نہاد صحافیوں کے خلاف سخت سے سخت کاروائی کی جائے، فلسطینیوں کی سیاسی و اخلاقی اور مالی مدد جاری رکھی جائے۔ 

مقررین نے کہا کہ کہ فلسطینی مزاحمت کے محور نے دنیا بھر کے عوام کو بیدار کر دیا ہے، آج مغربی ممالک سمیت دنیا کے ہر کونے میں مظلوم فلسطینیوں کی حمایت میں آواز اٹھ رہی ہے، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ غاصب صہیونی ریاست اسرائیل کا وجود غرق ہو رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر عالمی ادارے غزہ، یمن، لبنان اور شام پر امریکی اور اسرائیلی جارحیت کو نہیں روک سکتے تو ایسے اداروں کا کیا فائدہ؟۔ انہوں نے مسلم امہ کے حکمرانوں سے مطالبہ کیا کہ آپس میں متحد ہو جائیں اور اتحاد کا راستہ اختیار کرتے ہوئے غزہ کے عوام کی مدد کریں، غزہ میں حماس، لبنان میں حزب اللہ اور یمن میں انصار اللہ یہ باقاعدہ سیاسی اور قانونی حیثیت رکھنے والی جماعتیں ہیں اور پاکستان میں فلسطینیوں کی مزاحمت کو دہشتگرد کہنے والے امریکی و اسرائیلی ایجنٹ ہیں۔

مقررین نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ پاکستان میں فلسطین کاز کے خلاف اٹھنے والی آوازیں دراصل نظریہ پاکستان کی دشمن ہیں، پاکستان کے بانی قائداعظم محمد علی جناحؒ نے کہا تھا کہ اسرائیل ایک ناجائز ریاست ہے اور پاکستان اسے کبھی تسلیم نہیں کرے گا، تاہم پاکستان میں کسی کو اجازت نہیں دی جائے گی کہ غاصب اسرائیل کے ساتھ تعلقات بنائے یا تسلیم کرنے کی سازش کرے۔ مقررین نے کہا کہ غزہ پر ظلم انتہا کو پہنچ چکا ہے اور افسوس کی بات ہے کہ قطر کے فوجی اسرائیلی فضائیہ کے فوجیوں کے ساتھ یونان میں مشقیں کر رہے ہیں، ترکی، اردن، مصر، بحرین کے اسرائیل کے ساتھ سفارتی اور تجارتی تعلقات جاری ہیں، جو انتہائی شرمناک ہے۔ 

یوم ارض فلسطین کانفرنس میں مختلف سیاسی و مذہبی جماعتوں کے قائدین،سول سوسائٹی اور مختلف طبقات کے لوگوں میں محمد حسین محنتی، اسرار عباسی، صحافی خالد محمود، بشیر سدوزئی، میجر (ر) قمر عباس، ڈاکٹر ذیشان اقبال، مفتی مرتضیٰ رحمانی، مولانا رضی حیدر، مولانا مختار امامی، مولانا ملک غلام عباس، مولانا حیات عباس، مولانا سفیر نقوی، مفتی محمد داؤد، مفتی عبدالمجید، شہزاد مظہر، علامہ باقر حسین زیدی، عدنان بھٹی، ابراہیم چترالی، خالد راؤ، ارم بٹ، خالدہ اقبال، مفتی علی مرتضیٰ، علامہ مبشر حسن، پیر سید اشرفی، پیر معاذ نظامی، عبدالوحید یونس، ایڈوکیٹ ملک طاہر، اسلم فاروقی، ناصر حسینی، عباس کشمیری سمیت اے پی ایم ایس او، اصغریہ اسٹوڈنٹس اور آئی ایس او کے عہدیداروں اور نوجوان طلباء و طالبات نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ قارئین و ناظرین محترم آپ اس ویڈیو سمیت بہت سی دیگر اہم ویڈیوز کو اسلام ٹائمز کے یوٹیوب چینل کے درج ذیل لنک پر بھی دیکھ اور سن سکتے ہیں۔ (ادارہ)
https://www.

youtube.com/@ITNEWSUrduOfficial

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: امریکی و اسرائیلی فلسطینیوں کی کانفرنس میں پاکستان میں پاکستان کے نے کہا کہ کے ساتھ

پڑھیں:

فیکٹ چیک: تھائی لینڈ کی ویڈیو پاکستانی فوجی افسر سے منسوب کرنے کی بھارتی کوشش ناکام

سماجی رابطے کے پلیٹ فارمز ایکس (سابقہ ٹوئٹر) اور فیس بک پر متعدد افراد اور سرگرم بھارتی پروپیگنڈا اکاؤنٹس 30 مئی 2026 سے ایک ویڈیو شیئر کر رہے ہیں اور دعویٰ کر رہے ہیں کہ اس میں آئی ایس آئی کے ڈائریکٹر جنرل (کاؤنٹر انٹیلیجنس) میجر جنرل فیصل نصیر کو تھائی لینڈ میں خواجہ سراؤں کے ایک گروہ کے ہاتھوں تشدد کا نشانہ بنتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔

تاہم، حقیقت یہ ہے کہ یہ ویڈیو جنوری 2026 کی ہے جس میں ایک بھارتی شہری تھائی لینڈ کے شہر پٹایا میں پٹ رہا ہے۔

یہ دعویٰ کیسے پھیلا؟

30 مئی کو ایک ایسا ایکس اکاؤنٹ (جو اپنی سابقہ پوسٹس کی بنیاد پر ریاست مخالف معلوم ہوتا ہے) نے ایک ویڈیو شیئر کی اور دعویٰ کیا کہ اس میں ایک پاکستانی فوجی افسر کو تھائی لینڈ میں خواجہ سراؤں کے گروہ نے تشدد کا نشانہ بنایا۔

پوسٹ کے کیپشن میں لکھا تھا:

’ایک پاکستانی آرمی کرنل کو تھائی لیڈی بوائز نے اس وقت بری طرح مارا پیٹا جب وہ اپنے اہلِ خانہ کے ساتھ سیاحت پر آیا تھا اور مقامی علاقے کی ایک کم عمر لڑکی سے ملاقات کا بندوبست کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔‘

اس پوسٹ کو42 ہزار 900 مرتبہ دیکھا گیا۔

اسی طرح 31 مئی کو ایک بھارتی پروپیگنڈا اکاؤنٹ نے یہی ویڈیو شیئر کرتے ہوئے دعویٰ کیا:

’اطلاعات کے مطابق پاکستان آرمی کے میجر جنرل محمد فیصل نصیر کو تھائی لیڈی بوائز نے اس لیے مارا پیٹا کیونکہ انہوں نے طے شدہ رقم ادا نہیں کی۔‘

اس پوسٹ کو 14 لاکھ ویوز حاصل ہوئے۔

ایک اور بھارت نواز اکاؤنٹ نے یہی ویڈیو شیئر کرتے ہوئے لکھا:

’پاکستان آرمی کے میجر جنرل فیصل نصیر (ڈَرٹی ہیری)، ڈی جی آئی ایس آئی (کاؤنٹر انٹیلیجنس)، کو فوکیٹ میں کسی تلخ بحث کے بعد تھائی لیڈی بوائز نے بری طرح تشدد کا نشانہ بنایا۔‘

اس پوسٹ کو 5 لاکھ 75 ہزار 800 مرتبہ دیکھا گیا۔

اسی دوران ایک اور بھارتی پروپیگنڈا اکاؤنٹ، جو عموماً پاکستان مخالف مواد شیئر کرتا ہے، نے 31 مئی کو ویڈیو پوسٹ کرتے ہوئے دعویٰ کیا:

’اطلاعات کے مطابق پاکستان آرمی کے میجر جنرل محمد فیصل نصیر کو تھائی لیڈی بوائز نے وعدہ کی گئی رقم ادا نہ کرنے پر مارا پیٹا۔ اس سے قبل 2025 میں بھی ان کی اپنی کم عمر کزن کے ساتھ ایک ویڈیو وائرل ہوئی تھی۔‘

اس پوسٹ کو 1 لاکھ 40 ہزار ویوز ملے۔

اس کے علاوہ متعدد دیگر صارفین (جن میں اکثریت بھارتی معلوم ہوتی ہے) نے بھی اسی نوعیت کے دعووں کے ساتھ یہ ویڈیو شیئر کی، جن کی مجموعی ویوز 2 لاکھ 10 ہزار سے زائد رہے۔

        View this post on Instagram                      

حقائق کی جانچ کیسے کی گئی؟

اس دعوے کی غیر معمولی مقبولیت اور عوامی دلچسپی کے باعث اس کی حقیقت جانچنے کے لیے فیکٹ چیک کا آغاز کیا گیا۔

ویڈیو کے اصل ماخذ تک پہنچنے کے لیے گوگل ریورس امیج سرچ کی گئی، جس کے نتیجے میں یہی ویڈیو 3 جنوری 2026 کی ایک ایکس پوسٹ میں ملی، جسے ایک بھارتی صارف نے شیئر کیا تھا۔

اس پوسٹ کے کیپشن میں لکھا گیا تھا:

’تھائی لینڈ میں ایک بھارتی شہری کی پٹائی۔ 52 سالہ بھارتی شخص راج جسوجا نے مبینہ طور پر 'سروسز' کی ادائیگی سے انکار کیا، جس پر خواجہ سراؤں کے ایک گروہ نے اسے تشدد کا نشانہ بنایا۔ رپورٹس کے مطابق اسے علاج کے لیے پٹایا میموریل اسپتال میں داخل کرایا گیا ہے۔‘

"An Indian thrashed in Thailand." ????

A 52-year-old Indian man, Raj Jasuja, who refused to pay for "services," was beaten by a group of transwomen in Thailand.

As per reports, he has been hospitalized at Pattaya Memorial Hospital for treatment. pic.twitter.com/FIcR6iYdaF

— Suraj Kumar Bauddh (@SurajKrBauddh) January 3, 2026

 

دعوے کی مزید تصدیق کے لیے کی گئی کی ورڈز پر مبنی سرچ کے دوران 4 جنوری 2026 کو شائع ہونے والی ایک خبر سامنے آئی، جسے ہندوستان ٹائمز نے شائع کیا تھا اور جس میں یہی ویڈیو شامل تھی۔

خبر کی سرخی تھی:

’آن کیمرا: تھائی لینڈ میں 'سروس' کی ادائیگی سے انکار پر بھارتی شہری کو خواجہ سراؤں نے تشدد کا نشانہ بنا دیا‘

رپورٹ کے مطابق 52 سالہ بھارتی شہری راج جسوجا کو تھائی لینڈ کے شہر پٹایا میں خواجہ سراؤں کے ایک گروہ نے اس وقت مارا پیٹا جب اس نے مبینہ طور پر جنسی خدمات کے عوض طلب کی گئی رقم ادا کرنے سے انکار کیا اور گاڑی میں بیٹھ کر وہاں سے نکلنے کی کوشش کی۔

ریسکیو اہلکاروں نے راج جسوجا کو چہرے اور سر کے پچھلے حصے پر زخموں کی حالت میں پایا۔ موقع پر اسے ابتدائی طبی امداد فراہم کی گئی، جس کے بعد مزید علاج کے لیے اسپتال منتقل کر دیا گیا۔

جنوری 2026 میں شائع ہونے والی متعدد دیگر معروف بھارتی میڈیا رپورٹس، جن میں The Times of India، The Indian ExpressاورIndia Today شامل ہیں، نے بھی اسی واقعے کو تقریباً یکساں تصاویر اور تفصیلات کے ساتھ رپورٹ کیا۔

فیکٹ چیک کا نتیجہ: خبر غلط قرار

یہ دعویٰ کہ وائرل ویڈیو میں پاکستان آرمی کے میجر جنرل فیصل نصیر کو تھائی لینڈ میں خواجہ سراؤں کے ہاتھوں تشدد کا نشانہ بنتے دکھایا گیا ہے، جھوٹا اور بے بنیاد ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ یہ ویڈیو جنوری 2026 کی ہے اور اس میں ایک بھارتی شہری کو تھائی خواجہ سراؤں کے ہاتھوں مبینہ طور پر ایسکارٹ سروس کی ادائیگی سے متعلق تنازع کے بعد تشدد کا نشانہ بنتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔

لہٰذا سوشل میڈیا پر پھیلایا جانے والا یہ دعویٰ حقائق کے منافی ہے اور ویڈیو کا میجر جنرل فیصل نصیر یا پاکستانی فوج سے کوئی تعلق ثابت نہیں ہوتا۔

یہ فیکٹ چیک اصل میں iVerify Pakistan کی جانب سے شائع کیا گیا تھا، جو Centre for Excellence in Journalism (CEJ-IBA) اور United Nations Development Programme (UNDP) کا مشترکہ منصوبہ ہے۔

متعلقہ مضامین

  • قابلِ فخر سعد ایدھی
  • ایکس نے ’ری ایکٹ ود ویڈیو‘ فیچر متعارف کرا دیا، یہ کام کیسے کرتا ہے؟
  • مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی دراندازی: پاکستان سمیت 8 ممالک کا شدید ردعمل، پورا حرم صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ قرار
  • پاکستان میں ڈالر مستحکم، پاؤنڈ اور یورو سمیت بڑی کرنسیوں کے تازہ ریٹس جاری
  • فیکٹ چیک: تھائی لینڈ کی ویڈیو پاکستانی فوجی افسر سے منسوب کرنے کی بھارتی کوشش ناکام
  • واشنگٹن میں لبنان اور اسرائیل کے درمیان مذاکرات شروع
  • علامہ ساجد علی نقوی سے علامہ جواد نقوی کی ملاقات، شہید امت کانفرنس میں شرکت کی دعوت دی
  • پاکستان کی لبنان پر اسرائیلی حملوں کی مذمت
  • وزیراعظم کا بی ٹو بی کانفرنس کی پیشرفت کے ماہانہ جائزہ اجلاس کی خود صدارت کا فیصلہ
  • کراچی: واش روم میں بچے کی پیدائش، تحقیقاتی رپورٹ ڈائریکٹر جناح اسپتال کے حوالے