حکومت سپورٹ کرے تو زلزلے کی پیشگی اطلاع دینے والے آلات بنا سکتے ہیں، شہبازلغاری
اشاعت کی تاریخ: 7th, April 2025 GMT
اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 07 اپریل2025ء) ارتھ کوئیک،کوئیک نیوز اینڈ ریسرچ سینٹر کے سی ای او محمد شہبازلغاری نے کہا ہے کہ حکومت سپورٹ کرے تو زلزلے کی پیشگی اطلاع دینے والے آلات بنا کرنہ صرف قیمتی جانوں کو بچایا جا سکتا ہے بلکہ ملکی معیشت کو قیمتی زرمبادلہ کما کر دے سکتے ہیں،میانمار اور تھائی لینڈ میں حالیہ آنے والے زلزے کی تین دن قبل پیشگوئی کر دی تھی جس کا ریکارڈ ویب سائٹ پر موجود ہے، شہباز لغاری کے مطابق ای کیو کیو این دنیا کا پہلا ارتھ کوئک ریسرچ سینٹر ہے جو آنے والے موسم کی طرح آنے والے زلزلوں کا 128 گھنٹے پہلے بتانے کی ریسرچ مکمل کر چکا ہے جس کے لیے کسی بھی ملک کی زمین کا سائنٹیفک کیلکولیشن کے ذریعے زمین کی کرسٹ لیئر کا مشاہدہ کر کے اس ملک میں آنے والے زلزلوں کی حتمی رزلٹ تک پہنچا جا سکتا ہے، وہ عرصہ دراز سے پاکستان کے پانچ ہزار کلو میٹر احاطے میں آنے والے زلزلوں کی قبل از وقت پیشگوئی کرتے آرہے ہیںجیسا کہ میانمار میں 28 مارچ 2025 ء کو 7.
(جاری ہے)
�
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے ا نے والے زلزلوں کیو کیو سکتے ہیں کے لیے
پڑھیں:
ایران کا بحرین میں ایمیزون کے ڈیٹا سینٹر کو نشانہ بنانے کا بڑا دعویٰ
تہران / منامہ: ایران کی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے بحرین میں امریکی ٹیکنالوجی کمپنی ایمیزون کے ایک ڈیٹا سینٹر کو نشانہ بنایا ہے۔ ایرانی حکام کے مطابق یہ کارروائی امریکا کے خلاف جاری جوابی اقدامات کا حصہ ہے۔
ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق پاسدارانِ انقلاب نے ایک بیان میں کہا کہ حملے کا ہدف امریکی کمپنی ایمیزون کی وہ ڈیٹا تنصیب تھی جو ان کے بقول امریکی فوج کو معلوماتی معاونت فراہم کرنے میں کردار ادا کر رہی تھی۔
بیان میں دعویٰ کیا گیا کہ مذکورہ ڈیٹا سینٹر کو نشانہ بنا کر تباہ کر دیا گیا تاہم ایرانی حکام نے اس دعوے کے حق میں فوری طور پر کوئی شواہد یا مزید تفصیلات پیش نہیں کیں۔
دوسری جانب خبر شائع ہونے تک امریکی کمپنی ایمیزون، بحرین کی حکومت یا امریکی حکام کی جانب سے ایران کے اس دعوے پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا، جبکہ آزاد ذرائع سے بھی اس حملے یا اس کے ممکنہ نقصانات کی تصدیق نہیں ہو سکی۔
ایران نے ایک بار پھر اپنے مؤقف کا اعادہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں وہ تمام فوجی اڈے یا تنصیبات جو امریکا ایران کے خلاف کارروائیوں کے لیے استعمال کرتا ہے، ایران کی نظر میں جوابی حملوں کے لیے جائز ہدف ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق اگر ایران کے دعوے درست ثابت ہوتے ہیں تو یہ پہلی بار ہوگا کہ کسی بڑی عالمی ٹیکنالوجی کمپنی کی تنصیب کو ایران نے براہِ راست اپنی فوجی کارروائی کا ہدف قرار دیا ہے۔ تاہم اس معاملے کی آزادانہ تصدیق کا انتظار کیا جا رہا ہے۔