مظلوم فلسطینی عوام سے یکجہتی کیلئے کراچی میں تاجروں کی ہڑتال، کاروبار بند
اشاعت کی تاریخ: 7th, April 2025 GMT
اسلام ٹائمز: تاجر رہنما شاکر فینسی نے کہا کہ میٹھادر، اولڈ سٹی ایریا اور صرافہ بازار بھی فلسطینی عوام سے یکجہتی کے لیے بند رکھا گیا۔ غزہ میں اسرائیل کی جارحیت اور بدترین ظلم کے خلاف کراچی کی ہول سیل مارکیٹیں بھی بند ہیں۔ تاجر رہنما عبدالرؤف ابراہیم نے کہا کہ ملک کی سب سے بڑی ہول سیل مارکیٹ جوڑیا بازار آج بند رہی، اس کے علاوہ آرام باغ ٹریڈرز ایسوسی ایشن نے کراچی کے تاجروں کی اس ہڑتال کی مکمل حمایت کا اعلان کرتے ہوئے کاروبار بند کر رکھا۔ متعلقہ فائیلیںاسلام ٹائمز۔ کراچی کے تاجروں نے فلسطینی عوام سے اظہار یکجہتی اور اسرائیلی فوج کی بربریت کے خلاف ہڑتال کی، جس کے باعث شہر کی تمام مارکیٹیں اور تجارتی مراکز بند رہیں۔ تفصیلات کے مطابق تاجر رہنما رضوان عرفان نے تاجروں سے درخواست کی تھی کہ آج مارکیٹیں بند کرکے مظلوم فلسطینی بھائیوں سے مکمل یکجہتی کا مظاہرہ کریں، انہوں نے اسرائیلی بربریت کی مذمت بھی کی جس کے بعد آج شہر قائد میں موبائل مارکیٹ، الیکٹرانکس مارکیٹ، ہول سیل مارکیٹیں، جوڑیا بازار، آرام باغ سمیت دیگر تجارتی مراکز میں دکانیں اور کاوربار بند رہے۔ تاجر رہنما شاکر فینسی نے کہا کہ میٹھادر، اولڈ سٹی ایریا اور صرافہ بازار بھی فلسطینی عوام سے یکجہتی کے لیے بند رکھا گیا۔ غزہ میں اسرائیل کی جارحیت اور بدترین ظلم کے خلاف کراچی کی ہول سیل مارکیٹیں بھی بند ہیں۔ تاجر رہنما عبدالرؤف ابراہیم نے کہا کہ ملک کی سب سے بڑی ہول سیل مارکیٹ جوڑیا بازار آج بند رہی، اس کے علاوہ آرام باغ ٹریڈرز ایسوسی ایشن نے کراچی کے تاجروں کی اس ہڑتال کی مکمل حمایت کا اعلان کرتے ہوئے کاروبار بند کر رکھا۔ قارئین و ناظرین محترم آپ اس ویڈیو سمیت بہت سی دیگر اہم ویڈیوز کو اسلام ٹائمز کے یوٹیوب چینل کے درج ذیل لنک پر بھی دیکھ اور سن سکتے ہیں۔ (ادارہ)
https://www.
youtube.com/@ITNEWSUrduOfficial
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: فلسطینی عوام سے تاجر رہنما نے کہا کہ
پڑھیں:
پشاور: حیات میڈیکل کمپلیکس میں ینگ ڈاکٹرز کی ہڑتال دوسرے روز بھی جاری، مریض مشکلات سے دوچار
پشاور:حیات میڈیکل کمپلیکس پشاور میں ینگ ڈاکٹرز کی ہڑتال دوسرے روز بھی جاری ہے جس کے باعث مریضوں کو مشکلات کا سامنا ہے۔
ینگ ڈاکٹرز کی جانب سے او پی ڈیز اور آپریشنز کا مکمل بائیکاٹ کیا گیا جبکہ احتجاج کرنے والے ڈاکٹروں نے او پی ڈی کمروں کو تالے بھی لگا دیے۔ ہڑتال کے باعث اسپتال میں مختلف طبی سروسز کی فراہمی معطل ہو کر رہ گئی۔
اس صورتحال کے نتیجے میں علاج کی غرض سے آنے والے مریضوں اور ان کے اہل خانہ کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن کے صدر ڈاکٹر اسفندیار نے مطالبہ کیا ہے کہ وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا اپنے وعدے کے مطابق کرپشن کی شفاف تحقیقات کروائیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر حکومت نے اس حوالے سے فوری اقدامات نہ کیے تو صوبے بھر کے تمام اسپتال بند کر دیے جائیں گے۔