وزیرداخلہ سے سینئرامریکی عہدیدار کی ملاقات، مطلوب دہشتگرد کی گرفتاری پرپاکستان سے اظہار تشکر
اشاعت کی تاریخ: 9th, April 2025 GMT
وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی سے پاکستان کے دورے پر آئے امریکی وفد کے سربراہ اور امریکی محکمہ خارجہ کے سینئر عہدیدار ایریک میئر نے ملاقات کی۔
امریکی محکمہ خارجہ کے سینئر عہدیدار ایریک میئر کی وزیرداخلہ محسن نقوی سے ملاقات میں پاکستان امریکا کے تعلقات سمیت باہمی دلچسپی کے امور اور دو طرفہ تعاون پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ ایریک میئر نے مطلوب دہشتگرد شریف اللہ کی گرفتاری میں تعاون پرپاکستان کا شکریہ ادا کیا۔ ایریک میئر کی جعفر ایکسپریس پر دہشت گردوں کے حملے کی مذمت،جانی نقصان پر اظہار افسوس کیا اور متاثرہ خاندانوں سے تعزیت کا اظہارکیا۔
مزید پڑھیں: وزیراعظم سے محسن نقوی کی اہم ملاقات، کینالز، بلوچستان اور کے پی کی صورتحال زیربحث
ملاقات میں دہشت گردی،ا سمگلنگ اور انسداد منشیات کے شعبوں میں باہمی اشتراک کار کو بڑھانے پر بھی بات چیت کی گئی۔ وزیرداخلہ محسن نقوی نے کہا کہ جون میں اسلام آباد میں مشترکہ کاونٹر ٹیررازم ڈائیلاگ کا انعقاد انسداد دہشت گردی کے سلسلے میں تعاون کو مزید بڑھانے میں اہم ثابت ہو گا۔ وزیر داخلہ نے ایریک مئیر کو انسداد دہشتگردی کے سلسے میں لئے گئے اقدامات سے آگاہ کیا۔
محسن نقوی نے کہا کہ دہشت گردی صرف پاکستان کی جنگ نہیں۔ اس سے نمٹنے کے لیے عالمی برادری کو پاکستان سے تعاون کرنا ہوگا۔ پاکستان منزلز انویسٹمنٹ فورم کے ذریعے امریکی کمپنیاں پاکستان میں سرمایہ کاری کے بے پناہ مواقعوں سے فائدہ اٹھا سکتی ہیں۔ اس ضمن میں امریکی وفد کا دورہ اہم سنگ میل ثابت ہوگا۔ ایریک میئر کا پاکستان منرلز انویسٹمنٹ فورم 2025 کے تحت فراہم کردہ مواقعوں میں دلچسپی کا اظہارکیا۔ ملاقات میں قائم مقام امریکی سفیر نیٹلی بیکر،وزیر مملکت داخلہ طلال چوہدری اور سیکرٹری داخلہ خرم آغا بھی موجود تھے۔ ایریک مئیر کی سربراہی میں امریکی وفد "پاکستان منرلز انویسٹمنٹ فورم 2025 میں شرکت کر رہا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: ایریک میئر محسن نقوی
پڑھیں:
بھارتی سرپرستی میں ملک دشمن پروپیگنڈا، کالعدم بی ایل اے سے منسلک ملک دشمن شاعرہ حبیبہ پیرجان کی گرفتاری کے لیے 10 لاکھ روپے انعام کا اعلان
سیکیورٹی اداروں نے کالعدم بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) سے منسلک ملک دشمن شاعرہ حبیبہ پیرجان کی گرفتاری کے لیے معلومات فراہم کرنے والے شخص کے لیے 10 لاکھ روپے انعام کا اعلان کیا ہے، جبکہ ان کی تلاش کے لیے مختلف علاقوں میں کارروائیاں جاری ہیں۔
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق کارروائی کے دوران حبیبہ پیرجان کی رہائش گاہ سے ڈائریاں، کالعدم بی ایل اے کے ہلاک دہشتگردوں سے متعلق ریکارڈ، ریاست مخالف مواد اور بھارتی فنڈنگ کے شواہد برآمد ہوئے۔ تحقیقات سے حبیبہ پیرجان کے کالعدم بی ایل اے کے اہم کمانڈروں، خصوصاً رستم پیرجان، کے ساتھ روابط سامنے آئے۔
مزید پڑھیں: آسٹریلیا کی جانب سے بی ایل اے اور 3 سینیئر رہنماؤں پر دہشتگردی کے الزامات کے تحت پابندیاں عائد
سیکیورٹی حکام کا کہنا ہے کہ ان کی پروپیگنڈا شاعری اور زہریلی سوشل میڈیا سرگرمیاں معصوم نوجوانوں میں ریاست مخالف بیانیے اور باغیانہ سوچ کو فروغ دینے کے لیے استعمال کی جاتی رہی ہیں۔
حبیبہ پیرجان، زوجہ حنیف ضلع کیچ کے علاقے دشت کی رہائشی ہیں۔ انہیں 25 مئی 2026 کو کراچی کے علاقے گلشنِ مزدور میں ایک مشترکہ انٹیلیجنس بیسڈ آپریشن (آئی بی او) کے دوران ٹریس کیا گیا تھا، تاہم علاقے کا محاصرہ مکمل ہونے سے قبل وہ فرار ہونے میں کامیاب ہوگئیں۔
کارروائی کے دوران ان کی رہائش گاہ کی تلاشی لی گئی جہاں سے ڈائریاں، کالعدم بی ایل اے کے ہلاک شدہ عسکریت پسندوں سے متعلق تحریری ریکارڈ اور دیگر مواد برآمد ہوا۔ سیکیورٹی ذرائع کا دعویٰ ہے کہ برآمد شدہ مواد میں بھارتی مالی معاونت اور ریاست مخالف سرگرمیوں سے متعلق بعض اہم شواہد بھی شامل ہیں جن کا مزید تجزیہ کیا جا رہا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ ابتدائی تحقیقات اور انٹیلیجنس معلومات سے حبیبہ پیرجان کے کالعدم بی ایل اے کے متعدد اہم کمانڈروں، بالخصوص رستم پیرجان، کے ساتھ مبینہ قریبی روابط کی نشاندہی ہوئی ہے۔ انہوں نے ضلع کیچ کے دشت کے پہاڑی علاقوں میں رستم پیرجان سے کم از کم 2 ملاقاتیں کیں، جن میں ایک ملاقات رواں سال 14 فروری کو ہونے کا دعویٰ کیا گیا۔
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق دستیاب ریکارڈ سے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ وہ اسلحہ اور دیگر سامان کی ترسیل میں سہولت کاری، بلوچ یکجہتی کمیٹی (بی وائی سی) سے وابستہ متعدد شخصیات سے روابط اور سوشل میڈیا پر بی ایل اے سے منسلک پلیٹ فارمز کے ذریعے ریاست مخالف مواد کی تشہیر میں سرگرم کردار ادا کرتی رہی ہیں۔
ذرائع کے مطابق حبیبہ پیرجان کی شاعری اور تحریروں کا بھی جائزہ لیا جا رہا ہے۔ سیکیورٹی حکام کا کہنا ہے کہ دستیاب مواد میں ایسی نظمیں اور اشعار شامل ہیں جن میں مسلح عناصر کی تعریف، ریاستی اداروں کے خلاف بیانیے کی ترویج اور نوجوانوں کو باغیانہ سوچ کی جانب راغب کرنے کے عناصر پائے جاتے ہیں۔
ان کی اکثر نظموں میں مسلح گروہوں اور شدت پسندوں کو خراجِ تحسین پیش کیا گیا ہے، جبکہ بعض تحریروں میں نوجوانوں کو انتخابی عمل سے دور رہنے، ریاستی اداروں کے خلاف نفرت پیدا کرنے اور مسلح جدوجہد کی حمایت پر آمادہ کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ کالعدم بی ایل اے کے ایک گروپ کے اشتہاری سربراہ حربیار مری کی تحسین میں بھی ایک نظم لکھی گئی ہے، جس کا اردو ترجمہ اور عکس بھی موجود ہے:
حربیار مری کے نام
ٹوٹا ہوا وطن کا آواز ہے حربیار
کالی رات کا خوف ہے حربیار
پہاڑوں میں کھڑا ہوا ہے اپنی بات کہ اوپر
ایک آگ کی طرح ہے حربیار
اسکو خبر ہے اس راستہ کا
آجاؤ ہمسفر ہماری آواز ہے حربیار
حبیبہ سو دفعہ سوچ چکی ہے
ہر بلوچ کا درد وار ہے حربیار
حکام کے مطابق ایسے مواد کو شدت پسندی اور دہشتگردی کے لیے ہمدردی پیدا کرنے کی کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
مزید پڑھیں: بی ایل اے کی محدود کارروائیاں اور سوشل میڈیا پر بڑا تاثر دینے کی ناکام حکمت عملی
سیکیورٹی اداروں کا کہنا ہے کہ حبیبہ پیرجان کے خلاف دستیاب شواہد اور برآمد شدہ مواد کا فرانزک و قانونی جائزہ جاری ہے، جبکہ ان کی گرفتاری کے لیے مختلف علاقوں میں کارروائیاں تیز کر دی گئی ہیں۔ حکام کے مطابق مطلوب خاتون کے بارے میں مصدقہ معلومات فراہم کرنے والے شخص کے لیے 10 لاکھ روپے انعام مقرر کیا گیا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
10 لاکھ روپے انعام انٹیلیجنس معلومات بلوچ یکجہتی کمیٹی پروپیگنڈا شاعری حبیبہ پیرجان رستم پیرجان سیکیورٹی ادارے عسکریت پسند کالعدم بلوچ لبریشن آرمی کالعدم بی ایل اے