ریاست مخالف پروپیگنڈا، 20پی ٹی آئی رہنماوں کے وارنٹ جاری کرنے کا فیصلہ
اشاعت کی تاریخ: 9th, April 2025 GMT
ریاست مخالف پروپیگنڈا، 20پی ٹی آئی رہنماوں کے وارنٹ جاری کرنے کا فیصلہ WhatsAppFacebookTwitter 0 9 April, 2025 سب نیوز
اسلام آباد(سب نیوز)سوشل میڈیا پر منفی پروپیگنڈے کے معاملے میں تحقیقات میں تعاون نہ کرنے پر 20 پی ٹی آئی رہنماوں کے وارنٹ گرفتاری جاری کرنے کا فیصلہ کرلیا گیا۔
تفصیلات کے مطابق جے آئی ٹی میں سوشل میڈیا پر منفی پروپیگنڈے کی تحقیقات جاری ہیں تاہم پی ٹی آئی رہنما متعدد نوٹس کے باوجود جے آئی ٹی میں پیش نہ ہوئے، تحقیقات میں تعاون نہ کرنے پر وارنٹ جاری کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ذرائع کے مطابق ان رہنماوں میں وقاص اکرم، حماد اظہر، زلفی بخاری، عون عباس، میاں اسلم، فردوس شمیم، تیمور سلیم، جبران الیاس، خالد خورشید، شہباز گل، اظہر مشوانی اور شامل ہیں۔
پولیس ذرائع کے مطابق جے آئی ٹی نے پی ٹی آئی رہنماوں کو پیش ہونے کے لیے متعدد نوٹسز بھیجے، تمام رہنماوں کی رہائش گاہوں پر نوٹسز کی تعمیل کروائی گئی، بیرسٹر گوہر، شبلی فراز،علیمہ خان سمیت دیگر رہنما جے آئی ٹی میں پیش ہوچکے مگر دیگر پیش نہ ہوئے۔واضح رہے کہ پی ٹی آئی رہنماوں کے خلاف ریاست مخالف پروپیگنڈے کی تحقیقات کی جا رہی ہیں، تحقیقات کے لیے آئی جی اسلام آباد کی سربراہی میں جے آئی ٹی تشکیل دی گئی ہے جو کہ پیکا ایکٹ 2016 کے سیکشن 30 کے تحت تشکیل دی گئی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: پی ٹی آئی رہنماوں کے جاری کرنے کا فیصلہ جے آئی ٹی
پڑھیں:
اٹلی میں چار پاکستانی زرعی مزدوروں کا قتل، دو پاکستانی شہری گرفتار
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 02 جون 2026ء) اخبار کے مطابق جلی ہوئی گاڑی امینڈولارا نامی گاؤں کے قریب ایک پٹرول پمپ پر ملی، جو کالابریا کے وسیع زرعی علاقے میں واقع ہے۔
اخبار کے مطابق پٹرول پمپ کے سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج میں دو افراد کو منی وین کے دروازے باہر سے بند کرتے اور اس کے اندر آتش گیر مائع پھینکتے ہوئے دیکھا گیا۔
رپورٹ کے مطابق اس کے بعد گاڑی میں آگ بھڑک اٹھی اور دونوں مشتبہ افراد موقع سے فرار ہو گئے۔
فائر بریگیڈ نے آگ بجھانے کے بعد گاڑی کے اندر سے چار لاشیں برآمد کیں۔
مقامی پولیس چیف نے اس اطالوی اخبار سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ’’یہ یقینی طور پر قتل کا واقعہ ہے، اب ہمیں صرف اس کی تفصیلات معلوم کرنا ہیں۔
(جاری ہے)
‘‘
اخبار نے مزید لکھا کہ گزشتہ چند مہینوں کے دوران اس علاقے میں پاکستانیوں کی گاڑیوں اور منی وینز کے نذر آتش کیے جانے کے 14 واقعات پیش آ چکے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق علاقے میں تارکین وطن کے مختلف گروہوں کے درمیان زرعی کام کی تقسیم، رہائشی دستاویزات (ریذیڈنسی پیپرز)، اور رہائش کے مسائل پر کشیدگی پائی جاتی ہے، جسے ممکنہ طور پر اس واقعے کے پس منظر سے جوڑا جا رہا ہے۔
اطالوی حکام اس واقعے کی تحقیقات جاری رکھے ہوئے ہیں تاکہ اکٹھے چار افراد کے اس قتل کے محرکات اور اس کے ذمہ دار افراد کے اس جرم میں کردار کی مکمل طور پر وضاحت ہو سکے۔
ادارت: مقبول ملک