اولمپکس میں پاکستان کرکٹ ٹیم کی شمولیت کا سفر آسان یا مشکل؟
اشاعت کی تاریخ: 10th, April 2025 GMT
انٹرنیشنل اولمپک کمیٹی (آئی او سی) بورڈ نے لاس اینجلس اولمپکس 2028ء میں مرد و خواتین کی 6، 6 کرکٹ ٹیمیں شامل کرنے کا فیصلہ کر لیا۔
اولمپکس میں کرکٹ ٹی ٹوئنٹی فارمیٹ میں کھیلا جائے گا جس میں مرد و خواتین کے ایونٹس میں 6، 6 ٹیمیں ہوں گی اور ہر ٹیم 15، 15 کھلاڑیوں پر مشتمل ہو گی۔
میڈیا کی رپورٹس کے مطابق لاس اینجلس اولمپکس کے کرکٹ وینیوز کا تاحال فیصلہ نہیں کیا گیا ہے۔
بات کی جائے کہ اولمپکس میں پاکستان کرکٹ ٹیم ہو گی یا نہیں تو اس کا جواب ہے کہ پاکستان کو اولمپکس مقابلوں میں کوالیفائی کرنے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
انٹرنیشنل کرکٹ کونسل کے 12 فُل ممبرز ہیں اور موجودہ آئی سی سی رینکنگ میں پاکستان مینز ٹیم ساتویں اور ویمنز ٹیم آٹھویں پوزیشن پر ہے اور اولمپکس میں آئی سی سی رینکنگ میں ٹاپ کی 6 ٹیمیں کوالیفائی کریں گی۔
پاکستان کو اولمپکس میں کوالیفائی کرنے کے لیے رینکنگ بہتر کرنی پڑے گی، اچھی بات یہ ہے کہ اولمپکس کمیٹی کے بورڈ ممبرز نے آئی سی سی کی رینکنگ کی ڈیڈ لائن نہیں دی ہے کہ کب تک کی رینکنگ پر ٹیموں کی شمولیت کی جائے گی۔
یاد رہے کہ کرکٹ کو آخری مرتبہ پیرس اولمپکس 1900ء میں شامل کیا گیا تھا جب برطانیہ اور فرانس کے درمیان 2 روزہ میچ کھیلا گیا تھا۔
Post Views: 4.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: اولمپکس میں
پڑھیں:
سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم کا اپنے بیان میں کہنا تھا کہ سعودی عرب کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام، تعاون اور امن کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔ اسلام ٹائمز۔ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہم معاہدوں میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک "تاریخی جست" ثابت ہوگی۔ عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق نیتن یاہو نے اپنے بیان میں کہا کہ سعودی عرب کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام، تعاون اور امن کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔
اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے مجوزہ سول جوہری معاہدے کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کیے جانے کے بعد سامنے آیا ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی حتمی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودی عرب ابراہم معاہدوں میں شامل نہیں ہو جاتا۔
ٹرمپ نے یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیئم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔واضح رہے کہ ایک روز قبل جب اس مجوزہ جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب اور اسرائیل کے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے منسلک نہیں کیا تھا، تاہم بعد ازاں انہوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے وابستہ ہیں۔