“بدترین شکستوں کے باوجود رضوان مزید اختیارات چاہتے ہیں” انکشافات
اشاعت کی تاریخ: 10th, April 2025 GMT
نیوزی لینڈ کیخلاف ون ڈے میں 0-3 سے کلین سوئپ شکست کے باوجود کپتان محمد رضوان، چیئرمین پی سی بی محسن نقوی سے ملاقات میں مزید اختیارات مانگیں گے۔
نجی خبررساں ادارے کی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ قومی ٹیم کے کپتان محمد رضوان اور اسٹار بیٹر بابراعظم آئندہ چند دنون میں پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کے چیئرمین محسن نقوی سے ملاقات کریں گے، جس میں وہ کیویز کیخلاف ٹی20 سیریز سے اپنے ڈراپ کرنے کا بھی معاملہ اٹھائیں گے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بدترین شکستوں کے باوجود کپتان محمد رضوان پریشر بڑھانے کیلئے بورڈ سے مزید اختیارات حاصل کرنا چاہتے ہیں اور انکار کی صورت میں استعفیٰ دے سکتے ہیں۔
بورڈ کے ایک سینئیر عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر مزکورہ ویب سائٹ کو بتایا کہ رضوان سلیکٹرز کے انہیں اور بابراعظم کو نیوزی لینڈ میں 5 میچوں کی ٹی20 سیریز سے ڈراپ کرنے کے فیصلے سے مایوس تھے۔ پاکستان ٹیم مینجمنٹ اور سلیکشن کمیٹی کی جانب سے انہیں ڈراپ کرنے کے فیصلے کے بعد دونوں نے پی سی بی کے سربراہ سے ملاقات کی تاکہ نئے کپتان سلمان آغا کی قیادت میں کچھ نوجوان کھلاڑیوں کو آزمایا جا سکے۔
اس خبر کی تصدیق پاکستانی کپتان رضوان کے قریبی ذرائع نے بھی کی۔
کیویز کے ہاتھوں شکست کے بعد میچ پریزنٹیشن کے دوران کپتان محمد رضوان کا کہنا تھا کہ ٹیم میں تبدیلیوں پر کچھ نہیں کہہ سکتا، یہ میرا کام نہیں ہے، جیسا کہ یہاں (ون ڈے میں)، میرے ہاتھ میں تمام چیزیں نہیں ہیں، نہ ہی ہم جانتے تھے، ٹی20 کے بارے میں کپتان اور ٹیم میں چینجز کا مشورہ کیا گیا تھا جس کو قبول کیا۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ رضوان کا ہیڈ کوچ عاقب جاوید کے ساتھ پہلے 2 میچوں کیلئے پلیئنگ الیون کے انتخاب پر جھگڑا تھا اور وہ 5 ریگولر بولرز کھلانا چاہتے تھے لیکن کپتان 4 بالرز اور 10 اوورز پارٹ ٹائم سلمان آغا اور عرفان خان کے ساتھ مکمل کرنے کی کوشش کی، یہ فیصلہ مہنگا ثابت ہوا کیونکہ دونوں پارٹ ٹائمرز نے مل کر 118 رنز بنائے۔
Post Views: 4.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: کپتان محمد رضوان
پڑھیں:
فراہمی آب کا ’کے فور منصوبہ‘ مزید تاخیر کا شکار، 2029ء تک مکمل ہونے کا امکان
12 سال پہلے یہ منصوہہ 25 ارب روپے مکمل ہو جانا تھا، تاہم اب اس کی لاگت 200 ارب روپے سے زائد ہو چکی ہے اور آنے والے وقت تخمینی لاگت میں مزید اضافہ کا بھی امکان ہے۔ اسلام ٹائمز۔ شہر قائد میں اضافی پانی کا منصوبہ ’کے فور‘ کی تکمیل میں مزید تین سال لگ سکتے ہے، جبکہ منصوبے کا اصل کام تو ابھی شروع ہی نہیں ہوا، جب وہ ہوگا تو شہر کی مرکزی سڑکیں متاثر ہوگی، حکام نے بتایا کہ 12 سال پہلے یہ منصوہہ 25 ارب روپے مکمل ہو جانا تھا، تاہم اب اس کی لاگت 200 ارب روپے سے زائد ہو چکی ہے اور آنے والے وقت تخمینی لاگت میں مزید اضافہ کا بھی امکان ہے۔ تفصیلات کے مطابق کراچی میں پانی کی طلب 1 ارب 20 کروڑ گیلن ہے، جبکہ رسد 65 کروڑ گیلن ہے شہر کو مزید پانی فراہم کرنے کیلئے کے فور منصوبہ بنانے کا اعلان کیا تھا، لیکن حکومتین تبدیل ہوتی رہی لیکن یہ منصوبہ 20 سال سے زیر التواء ہے۔ 2014ء میں اس منصوبے کو وفاق اور سندھ حکومت نے مل کر بنانا تھا، جس کی لاگت 25 ارب روپے بتائی گئی تھی لیکن پھر کھٹائی میں پڑ گیا، تاہم پھر اس کو واپڈا کو دیا گیا اور اس کی مکمل ہونے کی ڈیڈ لائن بھی دی گئی لیکن اس میں مکمل نہیں ہو سکا۔ کئی ڈیڈ لائن گزر گئیں لیکن منصوبہ مکمل نہیں ہوسکا، تاہم اب وفاقی وزیر احسن اقبال نے دسمبر 2026ء کی ڈیڈ لائن دی ہے۔
کے فور منصوبہ 2026ء میں بھی مکمل نہیں ہو سکے گا، اس کی مکمل ہونے کا امکان 2029ء کی جنوری تک ہے۔ کے فور منصوبے پر وفاق کی جانب سے تین کام کئے جانے ہیں، جن میں ٹراسمیشن لائن، پمپنگ اسٹیشن اور فلٹر پلانٹ بنانے کے کام کی ذمہ داری ہے، جبکہ سندھ حکومت کے پاس چار کام کرنے تھے، اس میں اراضی مہیا کرنا، آگمینٹیشن، الیکٹرک سپلائی اور اری گیشن کی ذمہ داری تھی، جو کینچھر جیل سے پانی فراہم کرنے میں مدد کریگا۔ اس منصوبے کا ابھی بہت کام کرنا باقی ہے، آگمیٹیشن کا نیپا سے حسن اسکوائر کا نومبر 2025ء سے اب تک کام مکمل نہیں ہوسکا، بلکہ بین الاقومی مالیاتی ادارے نے اس کو غیر معیاری قرار دے دیا ہے اور ابھی تو بہت کام باقی ہے، جب یہ لائنیں شہر کی مرکزی راستوں میں ڈالی جائیں گی اس وقت شہریوں کو آمدورفت میں مزید مشکلات کا سامنا کرنا پڑیگا۔