کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کے ڈائریکٹر سرفراز احمد کا کہنا ہے کہ اگر موقع ملا تو دوبارہ پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) میں ایکشن میں نظر آ سکتا ہوں۔

کرکٹ پاکستان کو دیے گئے خصوصی انٹرویو میں قومی ٹیم کے سابق کپتان و کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کے ڈائریکٹر سرفراز احمد کا کہنا ہے کہ گزشتہ سال بھی ہماری کارکردگی بہتر رہی تھی، ہم پلے آف کے لیے کوالیفائی کر گئے لیکن آگے نہ جاسکے، اس سیزن میں ٹیم زیادہ مضبوط ہے اور اب فائر پاور بھی ہمارے پاس ہے۔

انہوں نے کہا کہ فن ایلن اور حسن نواز نے حالیہ دنوں میں اچھی کارکردگی دکھائی، مارک چیپمین، شون ایبٹ اور فہیم اشرف بھی ٹیم میں موجود ہیں، اگر آپ چیپمین کی نیوزی لینڈ میں گذشتہ 2،3 سال کی کارکردگی دیکھیں تو وہ بہت عمدہ رہی ، انھیں پاکستانی کنڈیشنز کا بھی اچھا اندازہ ہے کیونکہ وہ 3 سال سے مسلسل دورہ کر رہے ہیں۔

سرفراز احمد کا کہنا تھا کہ میری رائے میں کوئٹہ گلیڈی ایٹرز ملکی اور غیر ملکی تجربہ کار کھلاڑیوں کا اچھا امتزاج ہے، امید ہے کہ ٹیم اس بار پی ایس ایل میں بہترین کارکردگی دکھائے گی، البتہ میں سمجھتا ہوں کہ اس بار ہماری فیلڈنگ بہترین ہوگی کیونکہ فہیم اشرف اور وسیم جونیئر، سعود شکیل، خواجہ نافع اور حسن نواز بھی بہت اچھے فیلڈرز ہیں۔

کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کے ٹیم ڈائریکٹر کا کہنا تھا کہ کرکٹ سے محبت کبھی ختم نہیں ہوتی، جو شخص ساری زندگی کھیلتا رہا ہو اس کے لیے میدان سے باہر بیٹھنا ہمیشہ ایک چیلنج ہوتا ہے، اگرچہ اب میں کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کے ٹیم ڈائریکٹر کی حیثیت سے فرائض انجام دے رہا ہوں تاہم دل آج بھی کرکٹ کیلئے دھڑکتا ہے، اگر موقع ملا تو دوبارہ پی ایس ایل میں ایکشن میں نظر آ سکتا ہوں۔

ابھی ریٹائرمنٹ کا اعلان نہیں کیا، جب محسوس کیا کردوں گا

سرفراز احمد نے کہا کہ میں نے ابھی کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کا اعلان نہیں کیا، جو ساری زندگی کرکٹ کھیلے جب وہ کھیل سے دور ہو تو اسے افسوس ضرور ہوتا ہے، ایک وقت آتا ہے جب ہر کھلاڑی کو کرکٹ چھوڑنی پڑتی ہے، ہم کوشش کرتے ہیں کہ جتنی بھی کرکٹ ملے اسے بھر پور طریقے سے کھیلیں۔

مجھے پاکستان کے لیے کھیلنا ہے، یقیناً ہر پلیئر کی یہی خواہش ہوتی ہے کہ وہ ملک کی نمائندگی کرے،میں چاہتا ہوں کہ جب تک کرکٹ کھیلوں بہترین کارکردگی دکھاؤں، جہاں تک کرکٹ چھوڑنے کی بات ہے، یہ فیصلہ تو ہر کسی کو ایک دن کرنا ہی ہوتا ہے، جب مجھے لگاکہ وقت آ گیا تو ضرور کہوں گا کہ ہاں میری کرکٹ بس اب ختم ہوگئی۔

بطور مینٹور کارکردگی پر تنقید کریں تنخواہ پر بات کرنا غلط ہے

بطور مینٹور پی سی بی سے بھاری تنخواہ وصول کرنے پر سرفراز احمد نے کہا کہ میں ہمیشہ یہی کہتا ہوں تنقید آپ کے کھیل یا جو کام کرتے ہیں اس پر ہونی چاہیے، کسی بھی انسان کے بارے میں اندازہ آپ اس کے کام سے لگائیں، یہاں ہم دوسری جانب چلے جاتے ہیں جو کہ غلط ہے۔

Post Views: 4.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: پی ایس ایل کا کہنا

پڑھیں:

کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری

پریس کلب کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سکھ برادری کے رہنماؤں نے کہا کہ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر انکی عبادتگاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ کوئٹہ میں سکھ برادری کے رہنماء سردار جسبیر سنگھ اور کنزیومر سول سوسائٹی بلوچستان کے رہنماء خیر محمد شاہین نے کہا ہے کہ آرچر روڈ پر موجود سکھوں کا قدیمی گردوارہ 1953ء سے سینٹ گیبریل سکول قائم تھا، جسے مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانے کا کام شروع کیا گیا ہے، جس کی مذمت کرتے ہیں۔ یہ گردوارہ سکھ برادری نے تعلیمی سرگرمیوں کے لئے سینٹ گیبرل سکول کو دے رکھا تھا۔ انہوں نے وزیراعظم پاکستان اور دیگر اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ گزشتہ دنوں نامعلوم افراد کی جانب سے سکھوں کے مقدس گردوارے کی 90 سالہ پرانی عمارت کو مسمار کرنے کا نوٹس لیکر گردوارے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کے دوران کیا۔

انہوں نے کہا کہ ملک بھر میں سکھ برادری کی ہزاروں ایکڑ اراضیات، مقدس مقامات بدستور لینڈ مافیا کے قبضے میں ہیں۔ حکومت کی جانب سے ان کی واگزاری کے لئے کوششیں بار آور ثابت نہیں ہو رہی ہے۔ آرچر روڈ پر واقع گردوارہ کو شری سنگھ بنیاد گرودت سنگھ نے تعمیر کیا تھا اور پرانے بندوبست کے ریکارڈ میں فرد انتقالات انہی کے نام سے اب بھی موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ وہی گرودت سنگھ ہے۔ جنہوں نے گورنمنٹ اسپیشل ہائی اسکول جو خالصہ کہلاتی تھی کی بنیاد رکھی تھی اور جاتے ہوئے اسکول کی 20 ایکڑ اراضی مقامی بچوں کی تعلیمی مقاصد کے لئے وقف کر دی تھی۔ یہ عمارت سینٹ گیبرل اسکول یا محکمہ اوقاف کی نہیں، بلکہ سکھوں کی مذہبی عبادت گاہ گردوارہ سکھ سبھا کی ملکیت ہے۔ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر ان کی عبادت گاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ مبینہ طور پر کہا جا رہا ہے کہ محکمہ اوقاف نے تجارتی مقاصد کے لئے عمارت کی زمین تجارتی بنیادوں پر فروخت کر دی ہے، اگر یہ درست ہے تو انتہائی تشویش کی بات ہے کہ محکمہ اوقاف متروکہ عمارت کی نگران ہوتی ہے مالک نہیں۔ محکمہ اوقاف سکھوں کے نمائندوں کی موجودگی میں سکھوں کی متراکہ املاک کو کس طرح قانون کے تحت فروخت کرنے کی مجاز ہے۔ 2014ء میں سپریم کورٹ نے واضح فیصلہ دیا تھا کہ پاکستان میں سکھوں کے تمام مقدس مقامات پر جائیدادوں کو حکومت پاکستان کی جانب سے مکمل تحفظ فراہم رہے گا۔ اس کے علاوہ آئین میں تمام اقلیتوں کے مذہبی عمارات کو تحفظ کا حق حاصل ہے۔ ہم وزیراعظم پاکستان اور اعلیٰ حکام سے مطالبہ کرتے ہیں کہ آرچر روڈ کے منہدم مذکورہ گردوارے کو فی الفور اس کی اصل حالت میں بحال کرکے اسے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے تاکہ انصاف کے تقاضے پورے ہوسکیں۔

متعلقہ مضامین

  • کوئٹہ، سرکاری دفاتر میں ایجنٹس کیخلاف ایف آئی اے کی کارروائی، 14 افراد گرفتار
  • کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
  • ’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
  • گل فیروزہ، سدرہ امین اور نشرہ سندھو کی شاندار کارکردگی، پاکستان نے سری لنکا کیخلاف پہلا پہلے ون ڈے جیت لیا
  • فیفا نے ورلڈ کپ 2026 کی ٹیم آف دی ٹورنامنٹ کا اعلان کر دیا
  • پی سی بی نے 27 -2026 کے ڈومیسٹک کرکٹ سیزن کا اعلان کردیا، ورلڈ کپ تیاریوں پر توجہ مرکوز
  • بلاول کے پنجاب کے شہروں کی صورتحال پر سوالات، مریم اورنگزیب نے ویڈیو جاری کرکے جواب دیدیا
  • کوئٹہ: سرکاری دستاویزات میں شہریوں کو غیرقانونی سہولت دینے والے 14 ایجنٹ گرفتار