امریکہ اور چین کی تجارتی جنگ سے پاکستان کے لیے عالمی منڈی میں مواقع پیدا ہو رہے ہیں.پاکستان کے ٹیکسٹائل
اشاعت کی تاریخ: 10th, April 2025 GMT
اسلام آباد(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔10 اپریل ۔2025 )پاکستان کے ٹیکسٹائل سیکٹر کے سربراہ فواد انور نے کہا ہے کہ امریکہ اور چین کے درمیان بڑھتی ہوئی تجارتی جنگ اور محصولات میں مسلسل اضافے کے باعث پاکستان کے لیے عالمی منڈی میں نئی تجارتی جگہ حاصل کرنے کا موقع پیدا ہو رہا ہے ‘پاکستان کا ٹیکسٹائل سیکٹر سالانہ تقریباً 17 ارب ڈالر کی برآمدات کرتا ہے اور یہ روزگار فراہم کرنے والا ملک کا سب سے بڑا شعبہ ہے.
(جاری ہے)
فواد انور نے غیرملکی نشریاتی ادارے سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ یہ ایک موقع ہے کہ ہم چین سے کچھ کاروبار اپنی طرف منتقل کر سکیں لیکن ہم یہ کس حد تک کامیابی سے کر پاتے ہیں یہ اس بات پر منحصر ہے کہ ہم مذاکرات کی میز پر کس حد تک موثر طریقے سے بیٹھتے ہیں. فواد انور نے یہ گفتگو اس وقت کی جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے درجنوں ممالک پر عائد بھاری محصولات کو 90 دنوں کے لیے موخر کرنے کا اعلان کیا تاہم چین کو اس سے مستثنیٰ رکھا گیا اگر بدھ کو ٹرمپ اپنا فیصلہ تبدیل نہ کرتے تو پاکستان کو 29 فیصد ٹیرف کا سامنا کرنا پڑتا وائٹ ہاﺅس کے مطابق امریکی درآمدات پر 10 فیصد عمومی ڈیوٹی بدستور نافذ رہے گی ٹرمپ نے بدھ کو چین کی درآمدات پر ٹیرف 104 فیصد سے بڑھا کر 125 فیصد کر دیا. اس سے قبل بیجنگ نے ٹرمپ کے ابتدائی اقدامات کے جواب میں امریکی مصنوعات پر 84 فیصد ٹیرف عائد کیا تھا اور عہد کیا تھا کہ وہ یہ تجارتی جنگ آخری حد تک لڑے گا یہ سب دنیا کی دو سب سے بڑی معیشتوں کے درمیان بڑھتے ہوئے جوابی وار کی شکل اختیار کر چکا ہے فواد انور نے کہا کہ یہ دو دیو قامت طاقتوں کی جنگ ہے اور باقی سب اس کے ضمنی نقصانات ہیں ماہرین کے مطابق اگر29 فیصد ٹیرف کی شرح 90 دن بعد دوبارہ نافذ ہوتی ہے تو پاکستان کی ٹیکسٹائل برآمدات کو دو ارب ڈالر تک کا نقصان ہو سکتا ہے. فواد انور کا کہنا ہے کہ پاکستان کے ٹیکسٹائل شعبے کے لیے یہ محض ایک عارضی مسئلہ ہے جسے ہر صورت حل کرنا ہو گا فواد انور نے کہاکہ 29 فیصد کا یہ بوجھ نہ امریکی ریٹیلر اٹھا سکتا ہے، نہ صارف اتنی زیادہ شرح کوئی برداشت نہیں کر سکتا.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے فواد انور نے پاکستان کے کے لیے
پڑھیں:
حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
وفاقی وزیر اوورسیز پاکستانیز چوہدری سالک حسین نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آج کا دن پاکستان میں لیبر مائیگریشن کے نظم و نسق کو مضبوط بنانے کی جانب ایک اہم سنگ میل ہے۔ یہ پالیسی ہر اس پاکستانی سے کیے گئے قومی عزم کی عکاس ہے جو بہتر مواقع کی تلاش میں اپنا گھر چھوڑتا ہے۔انہوں نے کہا کہ محفوظ اور منظم نقل مکانی، مہارتوں کی ترقی، کارکنوں کا تحفظ، تارکینِ وطن کی شمولیت اور وطن واپس آنے والوں کی بحالی اس پالیسی کے بنیادی ستون ہیں۔ تکنیکی جدت، آبادیاتی تبدیلیاں اور لیبر مارکیٹ کے بدلتے ہوئے تقاضے دنیا بھر کی معیشتوں کو نئی شکل دے رہے ہیں. اس لیے پاکستان کو اپنی افرادی قوت کو آج اور مستقبل دونوں کے مواقع کے لیے تیار کرنا ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 اس سمت میں ایک اہم قدم اور پاکستان کی افرادی قوت کو مستقبل کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے میں سنگ میل ثابت ہوگی۔چوہدری سالک حسین نے کہا کہ ایک کروڑ 20 لاکھ پاکستانی دنیا بھر میں مقیم ہیں اور اپنی پیشہ ورانہ مہارت، دیانت داری اور محنت کی بدولت پاکستان کے سفیر بن چکے ہیں۔ گزشتہ مالی سال میں سمندر پار پاکستانیوں نے 41 ارب امریکی ڈالر سے زائد کی ترسیلاتِ زر وطن بھیجیں، جو ملکی تاریخ کی بلند ترین رقم ہے۔ انہوں نے کہا کہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی کامیابی پاکستان کی کامیابی ہے اور ان کی فلاح و بہبود ہماری قومی ذمہ داری ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ پالیسی اداروں، تجربات اور شراکت داریوں کو ایک مشترکہ وژن کے تحت یکجا کرتی ہے تاکہ ہر پاکستانی کارکن نقل مکانی کے پورے سفر کے دوران بہتر طور پر تیار، محفوظ اور معاونت یافتہ ہو۔ اس پالیسی کا محور ہر اس پاکستانی کا سفر ہے جو مواقع کی تلاش میں اپنا گھر چھوڑتا ہے، جبکہ ذمہ داری روانگی سے پہلے ہی شروع ہو جاتی ہے، جہاں نوجوان کارکنوں کو متعلقہ مہارتیں، قابلِ اعتماد معلومات اور اخلاقی بھرتی تک رسائی فراہم کی جائے گی۔وفاقی وزیر نے کہا کہ اس پالیسی کی کامیابی وفاقی اور صوبائی حکومتوں، نفاذ کرنے والے اداروں، آجروں، تربیتی اداروں، ترقیاتی شراکت داروں، نجی شعبے اور سمندر پار پاکستانیوں کے باہمی تعاون سے مشروط ہے۔ انہوں نے صوبائی حکومتوں، آئی سی ایم پی ڈی (ICMPD)، دیگر ترقیاتی شراکت داروں اور تمام اسٹیک ہولڈرز کا مشاورتی عمل میں تعاون پر شکریہ ادا کیا، جبکہ اسپیشل انویسٹمنٹ فیسیلیٹیشن کونسل (SIFC) کی مسلسل معاونت کو بھی سراہا۔انہوں نے کہا کہ ہجرت یا نقل مکانی غیر یقینی کا سفر نہیں بلکہ مواقع، وقار اور قومی ترقی کا راستہ ہونا چاہیے۔ آئیں مل کر ایسا مستقبل بنائیں جہاں ہر پاکستانی اعتماد کے ساتھ بیرون ملک جائے، فخر کے ساتھ وطن واپس آئے اور ہمیشہ ایک ایسی قوم سے جڑا رہے جو اس کی خدمات کی قدر اور عزت کرتی ہو۔ انہوں نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ اس وژن کو عوام کے لیے بامعنی ترقی، پاکستان کے لیے دیرپا خوشحالی اور ہر سمندر پار پاکستانی اور اس کے خاندان کے روشن مستقبل کا ذریعہ بنائے۔