دریائے سندھ سے کینالیں نکالنے کا منصوبہ، مختلف شہروں میں احتجاج اور ریلیاں
اشاعت کی تاریخ: 10th, April 2025 GMT
— فائل فوٹو
دریائے سندھ سے کینالیں نکالنے کے منصوبے کے خلاف سندھ کے مختلف شہروں میں احتجاج کیا گیا اور ریلیاں نکالی گئیں۔
دریائے سندھ سے مجوزہ 6 کینالز نکالنے کے خلاف حیدرآباد میں ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن نے ریلی نکالی، ٹھنڈی سڑک سے پریس کلب تک واک کی۔
سندھ کے مختلف اضلاع میں دریائے سندھ سے 6 نہریں نکالنے کے منصوبے کے خلاف احتجاج اور مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے۔
ٹھٹہ میں کوہستانی پٹی کے مکینوں نے بھی احتجاج کیا جبکہ دادو میں میہڑ بار کا احتجاج آج 15 ویں روز بھی جاری ہے۔
مظاہرین کا کہنا ہے کہ نئی کینالیں ہمارے لیے زندگی موت کا مسئلہ ہے، نئی کینالیں منظور نہیں اور یہ دو ٹوک مؤقف ہے، سندھ کے پانی پر ڈاکا نہیں ڈالنے دیں گے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: دریائے سندھ سے
پڑھیں:
شدید گرمی میں سندھ میں 22 گھنٹے بجلی لوڈشیڈنگ ہو رہی ہے، شرجیل میمن
کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سینئر صوبائی وزیر نے کہا کہ لوڈشیڈنگ کے علاوہ لائن لاسز پر بھی پورے علاقے کی بجلی بند کر دی جاتی ہے، جو بل نہیں بھرتا ہے صرف اس کی بجلی کاٹنی چاہیئے لیکن کے الیکٹرک، حیسکو اور سیپکو کی نا اہلی کی وجہ سے عوام کو پریشانی کا سامنا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ اس وقت سندھ بھر کے عوام بجلی کی طویل لوڈشیڈنگ سے پریشان ہیں۔ سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ سندھ بھر کے عوام بجلی کی لوڈشیڈنگ کی وجہ سے پریشان ہیں، اندرون سندھ جہاں زیادہ گرمی ہے، وہاں 22، 22 گھنٹے بجلی بند کی جاتی ہے۔ شرجیل میمن نے کہا کہ لوڈشیڈنگ کے علاوہ لائن لاسز پر بھی پورے علاقے کی بجلی بند کر دی جاتی ہے، جو بل نہیں بھرتا ہے صرف اس کی بجلی کاٹنی چاہیئے لیکن کے الیکٹرک، حیسکو اور سیپکو کی نا اہلی کی وجہ سے عوام کو پریشانی کا سامنا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پوری دنیا میں کہیں بھی کلیکٹو پنشمنٹ نہیں ہوتی، اس معاملے پر عدالت بھی گیا اور ہائیکورٹ میں کلیکٹو پنشمنٹ کو غیر آئینی اور غیر قانونی دلوانے کے لیے پٹیشن بھی داخل کی، جو زیر التوا ہے۔ سندھ کے سینئر وزیر نے مزید کہا کہ بجلی کمپنیوں نے انفرا اسٹرکچر پر خرچہ نہیں کیا، پورا ٹرانسفارمر ہی اتار لیتے ہیں، کمپنیاں فائدہ کما رہی ہیں تو اپنے انفرا اسٹرکچر پر بھی خرچ کریں۔