میں پاکستان کے 25 کروڑ عوام کا بھی کپتان ہوں: محمد رضوان
اشاعت کی تاریخ: 11th, April 2025 GMT
ایچ بی ایل پاکستان سپرلیگ 10 میں ملتان سلطان کی قیادت کرنے والے قومی کپتان محمد رضوان نے کہا ہے کہ میں ملتان سلطانز کے ساتھ پاکستان کے 25 کروڑ عوام کا بھی کپتان ہوں۔ ہر کپتان کی خواہش ہوتی ہے کہ وہ ٹائٹل جیتے، لیگ میں بہتر سے بہتر کارکردگی کی کوشش کریں گے، بطور کپتان ہی نہیں بطور کھلاڑی بھی دباؤ ہے۔
پی ایس ایل 10 میں ہفتے کو کراچی کے نیشنل اسٹیڈیم میں کراچی کنگز کے خلاف میچ سے قبل حتمی مشقوں کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے محمد رضوان نے کہا کہ ماضی میں کی جانے والی غلطیوں کو دہرانے سے اجتناب کریں گے۔
انہوں نے کہا کہ مداحوں کی ناراضگی اپنی جگہ درست ہے۔فینز ہم سے خفا ہیں، وہ بھی درست ہیں کہ ہم اپنی ذمہ داری ادا نہیں کر سکے، تنقید کے مقابلے میں محبت زیادہ ملتی ہے۔ مداحوں کی باتیں بھی سننا پڑتی ہیں،بےجا تنقید پر افسوس ہوتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ہر انسان سیکھتا ہے، تنقید برائے اصلاح ہونی چاہیے۔سینئرز کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے جونیئرز کو سکھائیں۔اگر تنقید ہی کرتے رہے تو نفرت بڑھے گی ۔شاہد خان افریدی کے الفاظ میرے حق میں ہیں، ان کو بطور کپتان میرے پاس اختیار نہ ہونے کا سوال نہیں کرنا چاہیے تھا۔
محمد رضوان نے کہا کہ قومی سلیکشن کے حوالے سے سب جانتے ہیں، پاکستان سلیکشن کمیٹی کے اختیارات کا سب کو علم ہے، یہ بات خوش آئند ہے کہ ملتان سلطانز میں مجھے اختیارات حاصل ہیں،مجھے فخر ہے کہ میں سچ بولتا ہوں۔تعلیم حاصل نہ کرنے کا افسوس ہے توجہ کرکٹ پر ہے، مانتا ہوں کہ زیادہ اچھی انگریزی نہیں آتی۔ اگر انگریزی چاہتے ہیں تو میں پروفیسر بن جاؤں گا۔
انہوں نے کہا کہ سابق ٹیسٹ کپتان مصباح الحق کا بطور ہیڈ کوچ مجھے بطور اوپنر کھلانے کا فیصلہ درست تھا۔کراچی کنگز ایک مضبوط ٹیم ہے،کراچی کنگز میں بہترین کھلاڑی موجود ہیں۔کراچی کنگز اور کراچی سے محبت ہے،ملتان سلطانز کے پاس بھی اچھے کھلاڑی ہیں۔ کسی بھی ٹیم کی کارکردگی کا انحصار اس کے کمبینیشن پر ہوتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پی ایس ایل میں ملتان سلطانز نے بہترین کارکردگی دکھائی ہے،مسلسل تین مرتبہ فائنل کھیلنا اچھی کارکردگی کی نشانی ہے۔ اس سال ٹائٹل اپنے نام کرنے کی کوشش کریں گے، مجھے گرم موسم پسند ہے،ملتان سلطانز کے اونر علی ترین کی اپنی سوچ ہے۔ علی ترین چاہتے ہیں کہ پاکستان کو اچھے کھلاڑی ملیں۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ ہر فرنچائز کا سوچنے کا اپنا انداز ہے،ہفتے کو ہونے والے میچ میں بہترین نتائج دینے کی کوشش کریں گے۔ اچھی کرکٹ کھیلیں تو نتائج بھی اچھے آتے ہیں،پی ایس ایل نے پاکستان کرکٹ کو فروغ دیا ہے۔پی ایس ایل میں اچھے کھلاڑی سامنے آتے ہیں،پوری قوم کی توجہ بھی ایس ایل پر ہوتی ہے، پی ایس ایل اور پاکستان کرکٹ ٹیم الگ الگ ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: ملتان سلطانز محمد رضوان کراچی کنگز پی ایس ایل نے کہا کہ کریں گے
پڑھیں:
پی ایس ڈی پی میں ارکان پارلیمنٹ اور ترقیاتی منصوبوں کیلئے اربوں روپے مختص کرنے کی تجویز
اسلام آباد: پی ایس ڈی پی 2026-27 کے تحت وفاقی حکومت نے ارکان پارلیمنٹ کے ترقیاتی منصوبوں سمیت مختلف شعبوں کے لیے اربوں روپے مختص کرنے کی تجویز پیش کر دی ہے۔ بجٹ دستاویزات کے مطابق آئندہ مالی سال میں ترقیاتی منصوبوں کے ذریعے گورننس، ٹیکنالوجی، توانائی اور خواتین کی فلاح و بہبود کو خصوصی ترجیح دی جائے گی۔
دستاویزات کے مطابق پائیدار ترقیاتی اہداف (SDGs) اچیومنٹ پروگرام کے تحت ارکان پارلیمنٹ کے ترقیاتی منصوبوں کے لیے 70 ارب روپے مختص کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ کابینہ ڈویژن کے مختلف ترقیاتی منصوبوں کے لیے 2 ارب روپے جبکہ اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کے منصوبوں کے لیے ایک ارب 70 کروڑ روپے رکھنے کی تجویز دی گئی ہے۔
پی ایس ڈی پی 2026-27 میں پارلیمنٹ لاجز کی اپ گریڈیشن کے لیے 5 کروڑ 60 لاکھ روپے مختص کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔ اسی طرح نیشنل آرکائیوز آف پاکستان کی بحالی اور جدید خطوط پر استوار کرنے کے منصوبے کے لیے 5 ارب 50 کروڑ روپے تجویز کیے گئے ہیں۔
توانائی کے شعبے میں سرکاری عمارتوں میں شمسی توانائی کے نظام کی بہتری اور توانائی بچت اقدامات کے لیے 19 کروڑ 40 لاکھ روپے رکھنے کی سفارش کی گئی ہے۔
وفاقی دارالحکومت میں جدید ٹیکنالوجی حب کے قیام کے لیے اسلام آباد ٹیکنوپولس منصوبے پر ایک ارب 58 کروڑ روپے سے زائد خرچ کیے جانے کا امکان ہے، جبکہ فیڈرل پبلک سروس کمیشن (FPSC) کے امتحانی نظام کو ڈیجیٹل بنانے کے لیے 70 کروڑ روپے سے زائد فنڈز مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
خواتین کی فلاح و بہبود کے منصوبوں کے تحت اسلام آباد میں ورکنگ ویمن ہاسٹل کے قیام کے لیے 16 کروڑ 70 لاکھ روپے جبکہ خواتین افسران کے لیے رہائشی سہولیات کی فراہمی کے منصوبے پر 82 کروڑ روپے سے زائد خرچ کیے جانے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔
بجٹ دستاویزات کے مطابق آئندہ مالی سال میں ڈیجیٹل گورننس، سرکاری اداروں کی استعداد کار بڑھانے، توانائی بچت اور جدید ٹیکنالوجی کے فروغ پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔