عمان مذاکرات کا مقصد اعتماد سازی ہے، امریکہ کا اصرار
اشاعت کی تاریخ: 12th, April 2025 GMT
وال اسٹریٹ جرنل نے بالواسطہ مذاکرات کے موقع پر ٹرمپ کے خصوصی ایلچی کے حوالے سے کہا ہے کہ پہلی ملاقات کا مقصد اعتماد پیدا کرنا اور معاہدے تک پہنچنے کی اہمیت کو سمجھانا ہے، نہ کہ معاہدے کی صحیح شرائط کا جائزہ لینا۔ اسلام ٹائمز۔ ایک امریکی میڈیا آؤٹ لیٹ نے ٹرمپ کے نمائندے کے حوالے سے کہا کہ عمان میں ہونے والی پہلی (بالواسطہ) مذاکراتی میٹنگ کا مقصد اعتماد پیدا کرنا ہے اور امریکا کا بنیادی موقف یہ ہے کہ ایران کو اپنے جوہری پروگرام کو مکمل طور پر ختم کر دینا چاہیے۔ وال اسٹریٹ جرنل نے سلطنت عمان کے دارالحکومت مسقط میں بالواسطہ مذاکرات کے موقع پر ٹرمپ کے خصوصی ایلچی اسٹیو وائٹیکاف کے حوالے سے کہا ہے کہ پہلی ملاقات کا مقصد اعتماد پیدا کرنا اور معاہدے تک پہنچنے کی اہمیت کو سمجھانا ہے، نہ کہ معاہدے کی صحیح شرائط کا جائزہ لینا۔
امریکی میڈیا آؤٹ لیٹ کی رپورٹ کے مطابق وائٹیکاف نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی مؤقف ایران کے جوہری پروگرام کو مکمل طور پر ختم کرنے سے شروع ہوتا ہے اور ہمارا آج بھی یہی موقف ہے۔ وائٹیکاف نے مزید کہا کہ ایران سے اپنے جوہری پروگرام کو ختم کرنے کے لیے کہنے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ ہم کبھی بھی کسی حل تک پہنچنے کے لیے مذاکرات کے راستے تلاش نہیں کریں گے۔ ایران کے پرامن جوہری پروگرام کے بارے میں امریکیوں کے بے بنیاد دعووں کو جاری رکھتے ہوئے انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایران کے ساتھ کسی بھی معاہدے کے لیے سخت اقدامات کی ضرورت ہوتی ہے تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ وہ ایٹم بم حاصل نہ کر سکے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: کا مقصد اعتماد جوہری پروگرام
پڑھیں:
امریکی ایوان نمائندگان کی ٹرمپ کو ایران جنگ روکنے کی ہدایت، قرارداد منظور
امریکا کے ریپبلکن اکثریتی ایوان نمائندگان (ہاؤس آف ریپریزنٹیٹوز) نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے خلاف امریکی فوجی کارروائیاں روکنے کی ہدایت دینے والی قرارداد منظور کر لی جسے کانگریس کی جانب سے صدر ٹرمپ کے لیے ایک اور علامتی پیغام قرار دیا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: آبنائے ہرمز میں کسی بھی جہاز پر حملہ ہوا تو ایران کا بنیادی ڈھانچہ تباہ کردیں گے، ڈونلڈ ٹرمپ کی دھمکی
قرارداد 214 کے مقابلے میں 208 ووٹوں سے منظور ہوئی جبکہ چار ریپبلکن ارکان نے بھی ڈیموکریٹس کا ساتھ دیتے ہوئے اس کی حمایت کی۔
یہ قرارداد واشنگٹن سے تعلق رکھنے والی ڈیموکریٹ رکن پرامیلا جے پال نے پیش کی جس میں صدر ٹرمپ کو ہدایت دی گئی ہے کہ کانگریس کی منظوری کے بغیر ایران کے خلاف امریکی مسلح افواج کی کارروائیاں بند کی جائیں۔
تاہم ماہرین کے مطابق اس قرارداد کی حیثیت زیادہ تر علامتی ہے، کیونکہ حالیہ مہینوں میں بھی کانگریس اس نوعیت کی متعدد قراردادیں منظور کر چکی ہے مگر ان کے نتیجے میں جنگی کارروائیاں نہیں رک سکیں۔
مزید پڑھیے: ایران مذاکرات کے لیے بے تاب، لیکن بامعنی بات چیت ہی ہوگی، ڈونلڈ ٹرمپ
قرارداد کی حمایت کرنے والے چار ریپبلکن ارکان میں ٹام بیریٹ (مشی گن)، برائن فٹزپیٹرک (پنسلوانیا)، وارن ڈیوڈسن (اوہائیو) اور تھامس میسی (کینٹکی) شامل ہیں۔
Today, the House PASSED my bipartisan War Powers Resolution to end the war in Iran by a vote of 214-208.
This is a big victory for the vast majority of Americans who want President Trump to end this illegal war and focus on their lives right here at home. pic.twitter.com/ZaE3NtTJdP
— Rep. Pramila Jayapal (@RepJayapal) July 23, 2026
اگرچہ ریپبلکن پارٹی کو ایوان نمائندگان اور سینیٹ دونوں میں معمولی برتری حاصل ہے تاہم اس قرارداد کی منظوری کو صدر ٹرمپ کی پالیسیوں پر اپنی ہی جماعت کے بعض ارکان کے تحفظات کی علامت بھی قرار دیا جا رہا ہے۔
ادھر امریکی سینیٹ میں بھی ایران سے متعلق ایک علیحدہ مگر ملتی جلتی قرارداد پر ووٹنگ متوقع تھی۔
یہ پیشرفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب صدر ٹرمپ نے ایران کے خلاف فوجی کارروائیوں میں مزید شدت لانے کا اعلان کیا ہے اور امریکی فوجیوں کی ہلاکتوں کی بھی تصدیق کی ہے۔
مزید پڑھیں: ایران کو ایک امریکی فوجی کے قتل کی کئی گنا زیادہ قیمت چکانی پڑےگی، ڈونلڈ ٹرمپ کی تہران کو وارننگ
صدر ٹرمپ نے جمعرات کو ایران اور اس کے اتحادی یمنی حوثی گروپ کو بڑی فوجی سزا دینے کا عندیہ دیا۔ دوسری جانب، عارضی جنگ بندی کے مؤثر طور پر ختم ہونے کے 2 ہفتے بعد امریکی فوج نے ایران پر ایک اور رات فضائی حملے کیے، جس کے جواب میں ایران نے پڑوسی ممالک میں قائم امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
امریکا امریکی ایوان نمائندگان ایران امریکا کشیدگی ٹرمپ کو جنگ روکنے کی ہدایت ڈیموکریٹ رکن پرامیلا جے پال ہاؤس آف ریپریزنٹیٹوز