ٹیرف وار؛ چین نے امریکی فلم انڈسٹری کو بڑا دھچکا دیدیا
اشاعت کی تاریخ: 12th, April 2025 GMT
امریکا اور چین کے درمیان تجارتی جنگ سے ہالی ووڈ کی فلم انڈسٹری پر بھی قابل زکر اثر پڑا ہے۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق چین امریکا پر جو جوابی ٹیرف عائد کیا ہے اس سے ہالی ووڈ فلمیں بھی محفوظ نہیں رہی ہیں۔
چین نے نہ صرف مزید ٹیرف عائد کیا ہے بلکہ ہالی ووڈ فلموں کی اپنے ملک درآمد کو بھی محدود کرنے کا اعلان کیا ہے۔
اس حوالے سے چین کی نیشنل فلم ایڈمنسٹریشن نے ایک سخت بیان جاری کیا ہے۔ جس سے ہالی ووڈ فلم میکرز میں کھلبلی مچ گئی ہے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ 30 سال سے زیادہ عرصے تک چین ہر سال 10 ہالی ووڈ فلموں کی اجازت دیتا آ رہا ہے تاہم اب یہ تعداد کم کردی جائے گی۔
واضح رہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کی چھیڑی گئی تجارتی جنگ کے دوران امریکا 145 فیصد جب کہ جواب چین 125 فیصد ٹیکس عائد کرچکا ہے۔
Post Views: 3.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: ہالی ووڈ فلم کیا ہے
پڑھیں:
ایران نے عراق کے ذریعے بھیجی گئی امریکی جنگ بندی کی تجویز مسترد کر دی، امریکی اخبار کا دعویٰ
تہران / واشنگٹن: امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران نے عراق کے ذریعے امریکا کی جانب سے پیش کی گئی جنگ بندی کی تجویز مسترد کر دی ہے۔
رپورٹ کے مطابق تہران نے واضح کیا ہے کہ عارضی جنگ بندی اس وقت تک قابل قبول نہیں جب تک بنیادی تنازعات، خصوصاً آبنائے ہرمز کے معاملے، کا حل پیش نہ کیا جائے۔
رپورٹ کے مطابق عراقی وزیراعظم علی الزیدی حالیہ دورۂ واشنگٹن کے بعد تہران پہنچے، جہاں انہوں نے ایرانی قیادت سے ملاقاتیں کیں اور امریکا کی جانب سے جنگ بندی سے متعلق پیغام پہنچایا۔
نیویارک ٹائمز کے مطابق امریکی تجویز کی مکمل تفصیلات فوری طور پر سامنے نہیں آئیں، تاہم ایرانی حکام نے مؤقف اختیار کیا کہ مختصر یا عارضی جنگ بندی سے مسئلہ حل نہیں ہوگا، کیونکہ اس میں آبنائے ہرمز کے کنٹرول اور دیگر اہم معاملات پر کوئی واضح پیش رفت شامل نہیں۔
ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اس حوالے سے کہا کہ عراقی وزیراعظم نے واشنگٹن میں ہونے والی ملاقاتوں اور اپنے مشاہدات سے ایران کو آگاہ کیا، تاہم ایران اور امریکا کے درمیان پہلے ہی مختلف ممالک ثالثی کا کردار ادا کر رہے ہیں۔
عباس عراقچی نے مزید کہا کہ اصل مسئلہ پیغامات کی ترسیل نہیں بلکہ امریکا کا رویہ ہے۔ ان کے مطابق واشنگٹن کا غیرمنطقی، لالچی اور دوسروں پر کنٹرول قائم کرنے والا طرزِ عمل موجودہ بحران کی بنیادی وجہ ہے۔
رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ایران اب بھی اپنے بنیادی مطالبات پر قائم ہے اور کسی ایسے معاہدے پر آمادہ نہیں جو اس کے اسٹریٹجک مفادات کو نظر انداز کرے۔
دوسری جانب خبر شائع ہونے تک امریکی حکومت نے نیویارک ٹائمز کی اس رپورٹ یا ایران کے مؤقف پر باضابطہ ردعمل جاری نہیں کیا تھا۔
سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق عراق، قطر، پاکستان اور دیگر علاقائی ممالک کی ثالثی کی کوششیں بدستور جاری ہیں، تاہم ایران اور امریکا کے درمیان اہم اختلافات برقرار رہنے کے باعث فوری پیش رفت کے امکانات محدود دکھائی دیتے ہیں۔