Nawaiwaqt:
2026-06-03@02:07:13 GMT
وزیراعلی پنجاب مریم نواز شریف کا مغل پورہ میں کھلے مین ہول میں گر کر پانچ سالہ بچے کے جاں بحق ہونے پر نوٹس
اشاعت کی تاریخ: 12th, April 2025 GMT
وزیراعلی پنجاب مریم نواز شریف کا مغل پورہ میں کھلے مین ہول میں گر کر پانچ سالہ بچے کے جاں بحق ہونے پر نوٹس وزیراعلی مریم نواز شریف نے ڈی سی لاہور سے رپورٹ طلب کرلی وزیراعلی مریم نواز شریف کا سوگوار خاندان سے اظہارِ ہمدردی و تعزیت اظہار ڈی سی لاہور اور کمشنر لاہور کی دوڑیں لگ گئیں ڈی سی لاہور اور کمشنر لاہور ہلاک ہونے والے بچے کے گھر پہنچ گئے،ذرائع ڈی سی لاہور اور واسا حکام کی جانب سے معاملے کو دبانے کی کوشش اہلِ خانہ کو منظر عام پر آنے سے روک دیا گیا ضلعی انتظامیہ لاہور نے اہلِ خانہ کی مدعیت میں مقدمہ درج کروانے کی بجائے تحصیلدار شالیمار کی مدعیت میں مقدمہ درج کروایا،ذرائع
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: مریم نواز شریف ڈی سی لاہور
پڑھیں:
میاں بیوی کو تین سالہ بچی سمیت اٹھانے کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست ، لاہور ہائیکورٹ کی متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) لاہور ہائیکورٹ نے سی سی ڈی اہلکاروں کی جانب سے میاں بیوی اور تین سالہ بچی کو گھر سے اٹھانے کے معاملے میں سی سی ٹی وی کیمروں کی وڈیو فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے درخواست گزار کو متعلقہ ٹرائل کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی۔لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس شہرام سرور چوہدری نے درخواست پر سماعت کی۔ درخواست گزار رحمان کی جانب سے ایڈووکیٹ ایاز صفدر سندھو نے دلائل دیئے۔درخواست گزار کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ سی سی ڈی گوجرانوالہ نے درخواست گزار کی بہن، بہنوئی اور ان کی تین سالہ بچی کو گھر سے اٹھایا اور بعد ازاں میاں بیوی کے خلاف منشیات کا جھوٹا مقدمہ درج کر دیا۔ مذکورہ میاں بیوی ایک مبینہ جعلی پولیس مقابلے کے مدعی ہیں اور پیروی سے باز نہ آنے پر انہیں جھوٹے مقدمے میں نامزد کیا گیا۔(جاری ہے)
تین سالہ بچی بھی سی سی ڈی کی تحویل میں رہی تاہم درج مقدمے میں اس کا کوئی ذکر موجود نہیں۔ عدالت سے استدعا کی گئی کہ متعلقہ مقامات کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ بنانے کے احکامات جاری کیے جائیں۔سماعت کے دوران جسٹس شہرام سرور چوہدری نے ریمارکس دیے کہ فوٹیج حاصل کرنا یا اسے محفوظ بنانا ہائیکورٹ کا کام نہیں۔ عدالت نے قرار دیا کہ ٹرائل کورٹ کے پاس سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ رکھنے سمیت متعدد قانونی اختیارات موجود ہیں۔عدالت نے درخواست گزار کو ہدایت کی کہ وہ اپنی درخواست متعلقہ ٹرائل کورٹ میں دائر کرے کیونکہ اس حوالے سے حکم جاری کرنے کا اختیار اسی عدالت کے پاس ہے۔بعد ازاں عدالت نے سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے درخواست گزار کو ٹرائل کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی۔