معروف سکالر‘ معیشت دان پروفیسر خورشید احمد کا برطانیہ میں انتقال‘ وزیر اعظم کا اظہار افسوس
اشاعت کی تاریخ: 14th, April 2025 GMT
اسلام آباد (خبرنگار+ خبرنگار خصوصی) پاکستان کے معروف سکالر، معیشت دان، سیاستدان، مصنف، محقق، سابق سینیٹر‘ جماعت اسلامی کے سابق نائب امیر اور انسٹیٹیوٹ آف پالیسی سٹڈیزکے بانی پروفیسر خورشید احمد برطانیہ کے شہر لیسٹر میں طویل علالت کے بعد انتقال کرگئے۔ وزیراعظم شہباز شریف نے پروفیسر خورشید احمد کی وفات پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے کہا کہ پروفیسر خورشید احمد کی اسلامی معاشیات کی ترویج کے لیے قابل قدر خدمات ہیں۔ اللہ تعالی مرحوم کو جنت الفردوس میں جگہ عطا فرمائے۔ پروفیسر خورشید احمد 23مارچ 1932کو دہلی میں پیدا ہوئے۔ جماعتِ اسلامی کے ساتھ ان کی طویل وابستگی رہی۔ پروفیسر خورشید احمد 1985سے 2012 تک سینٹ کے رکن رہے۔ انہوں نے وزیر منصوبہ بندی اور منصوبہ بندی کمیشن کے وائس چیئرمین کی حیثیت سے بھی خدمات انجام دی ہیں۔ 1979میں انہوں نے اسلام آباد میں انسٹیٹیوٹ آف پالیسی سٹڈیز (آئی پی ایس)کی بنیاد رکھی اور 2021تک اس کے چیئرمین کی حیثیت سے خدمات انجام دیں۔ وہ انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی کے بانی ٹرسٹی تھے۔ مارک فیلڈ انسٹیٹیوٹ آف ہائیر ایجوکیشن، لیسٹر، برطانیہ کے صدر رہے۔ یونیورسٹی آف مینجمنٹ سائنسز لاہور کے بورڈ آف گورنرز کے رکن اور اسلامی فائونڈیشن برطانیہ کے صدر رہے۔ پروفیسر خورشید احمد نے اردو اور انگریزی میں 100سے زائد کتابیں مرتب اور تصنیف کی ہیں۔ ان کی یہ کتابیں اور مضامین عربی، فرانسیسی، ترکی، بنگالی، جاپانی، جرمن، انڈونیشی، ہندی، چینی، کورین، فارسی اور دیگر زبانوں میں ترجمہ اور شائع ہو چکے ہیں۔ پروفیسر خورشید احمد پر ملائیشیا، ترکی اور جرمنی کی اہم یونیورسٹیوں میں پی ایچ ڈی کے مقالے لکھے گئے۔ ان کی علمی اور تحقیقی خدمات کے اعتراف میں انہیں ملائیشیا کی یونیورسٹی آف ملایا سے اسلامی معیشت میں پی ایچ ڈی، 2004میں لفبرو یونیورسٹی برطانیہ سے ادب میں پی ایچ ڈی اور ملائیشیا کی بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی سے تعلیم میں پی ایچ ڈی دی گئی۔ پروفیسر خورشید احمد کو 1989میں اسلامی ترقیاتی بینک کی جانب سے اسلامی معیشت میں ان کی خدمات پر ایوارڈ دیا گیا، جبکہ سعودی حکومت نے 1990میں اسلام کی بین الاقوامی سطح پر خدمات کے اعتراف میں انہیں شاہ فیصل ایوارڈ سے نوازا۔ 1990ہی میں حکومت پاکستان نے ان کی خدمات کے اعتراف میں انہیں اعلیٰ شہری اعزاز ’’نشان امتیاز‘‘ سے نوازا۔ پروفیسر خورشید احمد کی وفات نا صرف پاکستان بلکہ مسلم امہ کیلئے ایک بڑا سانحہ ہے۔ پاکستان اور اسلام کے لیے ان کی خدمات کو ہمیشہ بہترین لفظوں میں یاد رکھا جائے گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
پڑھیں:
جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے رکنِ پارلیمنٹ کی نوجوان خاتون کے ساتھ نازیبا ویڈیو سامنے آگئی
لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن)جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے رکنِ پارلیمنٹ کی نوجوان خاتون کے ساتھ نازیبا ویڈیو سامنے آنے پر تنازعہ کھڑا ہو گیا۔ پہلے تو اس ویڈیو کو فیک اور آرٹیفیشل انٹیلی جنس کی تخلیق بتایا گیا لیکن جب ویڈیو اصل نکل آئی تو ممتاز سینئیر سیاست دان نے دوسری شادی کرنے کا دعویٰ کیا۔ خاتون کے غیر شادی شدہ ہونے کی دستاویز نے سیاستدان کو زیادہ مشکل میں ڈال دیا۔ بنگلہ دیش کی پارلیمنٹ کے رکن، جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے سینئیر سیاستدان غازی نذرالاسلام کی ایک نوجوان خاتون کے ساتھ ویڈیو وائرل ہونے کے بعد ایک کی مبینہ دوسری شادی کے معاملے پر تنازع ان کے دوسری شادی کا اعتراف کر لینے کے بعد کم نہیں ہوا۔ اب جماعت اسلامی نے اعلان کیا ہے کہ وہ اس سارے معاملہ کی تحقیقات کروا رہی ہے
عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے بھی تجاوز کر گئی
بنگلہ دیش کے میڈیا کے مطابق غازی نذرالاسلام کی سوشل میڈیا پر ایک نوجوان خاتون کے ساتھ ویڈیو وائرل ہو گئی تھی۔ پہلے تو ان کے حامیوں نے اس ویڈیو کو ڈیپ فیک اور آڑٹیفیشل انٹیلیجنس سے بنائی گئی ویڈیو قرار دیا، لیکن جب تنقید کرنے والے خاموش نہیں ہوئے تو بعض لوگوں نے اس ویڈیو کی سافٹ وئیرز کی مدد سے ویریفیکیشن کی۔ فیکٹ چیک کرنے والے ایک ادارے نے بتا دیا کہ ویکڈو بالکل اصلی ہے۔ نذر الاسلام کی نوجوان خاتون کے ساتھ ویڈیو کے مصنوعی ذہانت سے تیار ہونے یا اس میں کوئی تبدیلی کیے جانے کے شواہد نہیں مل۔ اس کے بعد لوگوں کی ساری توجہ ویڈیو میں شامل افراد اور ان کے باہمی تعلق پر مرکوز ہوگئی۔ جب سوشل میڈیا پر تنقید کافی برھ گئی تو جماعت اسلامی کے سینئیر سیاست دان اور رکن پارلیمنٹ نے ویڈیو کلپ میں اپنے ساتھ دکھائی دینے والی نوجوان خاتون کو اپنی بیوی قرار دے دیا۔ غازی نذرالاسلام نے اپنے بیان میں کہا کہ خاتون ان کی دوسری بیوی ہے اور ان کی شادی 17 جون کو دونوں خاندانوں اور ان کی پہلی بیوی کی رضامندی سے ہوئی تھی۔
چیئرمین یورپی یونین پاک فرینڈشپ فیڈریشن یورپ کی ہیوی انڈسٹریز ٹیکسلا کے چیئرمین سے ملاقات
نذر الاسلام نے یہ مؤقف اختیار کیا کہ اس وائرل ویڈیو کو خفیہ طور پر ریکارڈ کرکے بھتہ خوری اور سیاسی کردار کشی کےلیے منظرِ عام پر لایا گیا۔ جماعت اسلامی کے اس سینئیر رکنِ پارلیمنٹ کی پہلی بیوی نے اس موقع پر شوہر کا ساتھ دیا اور ایک ویڈیو بیان میں اپنے عمر رسیدہ شوہر کے مؤقف کی تصدیق کی کہ ان کے شوہر نے نوجوان لڑکی مریم بیگم سے دوسری شادی کرلی ہے۔ مریم بیگم نے بھی ایک علیحدہ ویڈیو میں خود کو غازی نذرالاسلام کی بیوی قرار دیتے ہوئے کہا کہ شادی 17 جون کو دونوں خاندانوں اور نذر الاسلام کی پہلی بیوی کی موجودگی میں ہوئی تھی۔
پی سی بی نے ڈومیسٹک کرکٹ کے نئے سیزن کا شیڈول جاری کر دیا
بنگلہ دیشی میڈیا میں سامنے آنے والی رپورٹوں کے مطابق غازی نذرالاسلام اور ان کے خاندان کی تصدیق کے باوجود سوشل میڈیا پر خاتون مریم بیگم سے متعلق قانونی دستاویزات منظر عام پر آئی ہیں، جن کی آزادانہ تصدیق نہیں ہوسکی اور نہ ہی رکن پارلیمنٹ یا خاتون اور ان کے اہلخانہ نے دستاویز ات میں موجود تضاد پر کوئی وضاحت دی ہے۔ شادی کے پانچ دن بعد نذر الاسلام نے بیوی کو کنوارا ظاہر کر کے اسکی سرکاری نوکری کی سفارش کی؟ ایک دستاویز میں نذر السلام کے ساتھ نظز آنے والی لڑکی مریم کی ازدواجی حیثیت ’غیر شادی شدہ‘ درج ہے اور اس دستاویز پر غازی نذرالاسلام کی جانب سے 22 جون، یعنی اپنی بتائی ہوئی مبینہ شادی کی تاریخ کے پانچ روز بعد، سرکاری ملازمت کے لیے سفارش بھی موجود دکھائی دیتی ہے۔
دہشتگردی کے خاتمے تک فتنۃ الخوارج و فتنۃ الہندوستان کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی، فیلڈ مارشل
بنگلہ دیش کے میڈیا کے مطابق یہ خاتون سرکاری ملازمت کی خواہاں تھیں اور غازی نذرالاسلام نے ان کی درخواست کی سفارش کی تھی۔ غازی نذرالاسلام نے ان تمام کہانیوں نظر انداز کرتے ہوئے ایک اور پیچیدہ کہانی سے پردہ اٹھا دیا جو دال میں کافی کچھ کالا ہونے کی نشاندہی کرتی ہے۔ عمر رسیدہ سیاستدان نذر الاسلام نے یہ دعویٰ کیا کہ 13 جولائی کو وہ ڈھاکا کے موگ بازار میں ایک دفتر گئے تھے جہاں ان کی دونوں بیویاں بھی موجود تھیں۔
نذر الاسلام نے الزام لگایا کہ ڈرائیور، دوسری کے ماموں اور چند نامعلوم افراد نے انہیں یرغمال بنا کر ایک لاکھ ٹکا بھتہ وصول کیا، ان لوگوں نے نذر الاسلام کے بقول مزید رقم کا مطالبہ کیا اور ان لوگوں نے ہی ان کی مریم کے ساتھ خفیہ طور پر نجی ویڈیو ریکارڈ کرکے بعد میں سوشل میڈیا پر پھیلا دی۔ نذر الاسلام کے اس دعوے میں کمزوری یہ ہے کہ ویڈیو کلپ مین نذر الاسلام کو اس خاتون کے ساتھ اپنے کمرے میں بیٹھے اور بوس و کنار کرتے دیکھا جا سکتا ہے۔ لوگ یہ سوال کر رہے ہیں کہ بازار کے کسی دفتر میں یرغمال بنا کر بھتہ لینے والوں کی رسائی ان کے گھر کے کمرے تک کیسے تھی۔
پاکستان نے کابل فضائی حملوں پر ایمنسٹی انٹرنیشنل کی رپورٹ مسترد کر دی
اس سکینڈل کے سوشل میڈیا اور میڈیا میں بہت زیادہ ڈسکس ہونے کے بعد آخر کار جماعت اسلامی بنگلہ دیش نے کہا ہے کہ وہ اس سارے معاملے کی معلومات اکٹھی کر رہی ہے اور حقائق سامنے آنے کے بعد تنظیم کے اندر تادیبی کارروائی کا فیصلہ کیا جائے گا۔ جماعت اسلامی کے اسسٹنٹ سیکریٹری جنرل احسان الحق محبوب زبیر کے مطابق پارٹی میڈیا رپورٹس، رکنِ پارلیمنٹ، ان کی دونوں بیویوں اور خاتون کے والد کے بیانات کا جائزہ لے رہی ہے۔
مزید :