WE News:
2026-07-24@01:07:33 GMT

چین کی عوامی مصنوعی ذہانت خواص کو چیلنج کر رہی ہے

اشاعت کی تاریخ: 14th, April 2025 GMT

چین کی عوامی مصنوعی ذہانت خواص کو چیلنج کر رہی ہے

چین کی مصنوعی ذہانت میں تیز رفتار ترقی نہ صرف اس کے اندرونی منظرنامے کو بدل رہی ہے، بلکہ عالمی اختراعی نمونوں کو بھی نئے سرے سے متعین کر رہی ہے۔

کھلے تعاون اور اخلاقی حکمرانی کو ترجیح دیتے ہوئے، چین مصنوعی ذہانت کو ایک مشترکہ عالمی وسائل کے طور پر پیش کر رہا ہے اور اس کو صرف ٹیک اشرافیہ کیلئے آلہ کار نہیں بننے دے رہا، یعنی یہ ٹیکنالوجی صرف خواص نہیں بلکہ عوام کیلئے ہے۔

چین کا یہی نقطہ نظر جغرافیائی سیاسی مقابلے کی روایات کو چیلنج کرتا ہے، اور اپنی ٹیکنالوجی کے ذریعے  دنیا کیلئے ایک ایسا خاکہ پیش کر رہا ہے کہ جس میں  ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز کانظام عدم مساوات کو دور کر سکتا ہے۔

عوامی رسائی: واقعی  مصنوعی ذہانت تک  پیدا ہونے والی  رکاوٹوں کو توڑتی ہے

چین کا  مصنوعی ذہانت کے فریم ورک پر زور ترقی پذیر ممالک کے لیے رکاوٹوں کو ختم کر رہا ہے۔ مصنوعی ذہانت میں Alibaba اور  DeepSeek جیسی کمپنیاں اپنے جدید ترین مصنوعی ذہانت کے ماڈلز کو مفت ڈاؤن لوڈ کے لیے پیش کر رہی ہیں، جو ڈویلپرز کو API فیس ادا کیے بغیر مصنوعی ذہانت کی ایپلی کیشنز بنانے کا موقع فراہم کرتے ہیں۔

پاکستانی قارئین کیلئے اگر صرف  اُردو کے ترجمے کی بات کی جائے تو Deep Seek  چیٹ جی پی ٹی کی نسبت بہتر مترجم ہے اور ساتھ یہ کہ شاعری کو بھی سمجھتی ہے اور استعمال میں بھی بالکل آسان ہے۔

اس کے علاوہ چین کی مصنوعی ذہانت پر مبنی حل ترقی پذیر آبادیوں کو ٹیکنالوجی کی رکاوٹوں کو توڑنے میں مدد فراہم کر رہے ہیں۔

اس کی ایک مثال Huawei کی TrackAI مہم ہے، جو بچوں میں بینائی کی خرابیوں کی تشخیص کے لیے مصنوعی ذہانت سے چلنے والی آنکھوں کی ٹریکنگ الگورتھم کا استعمال کرتا ہے۔

اخلاقی حکمرانی: عالمی مصنوعی ذہانت کے ضوابط کے لیے ایک درمیانی راستہ

جیسے جیسے مصنوعی ذہانت کی اخلاقیات پر بحث شدت اختیار کر رہی ہے، تو  اس حوالے سے چین نے 2023 کے جنریٹو مصنوعی ذہانت کی حوالے سے عارضی ضوابط  کا ایک “ڈیٹا ڈی سنسٹائزیشن گریڈنگ سسٹم” متعارف کرایا، جو رازداری کے تحفظ اور اختراعی ترغیبات کے درمیان توازن قائم کرتا ہے۔ یہ ضوابط مختلف نقطہ ہائے نظر کے درمیان ایک ممکنہ پل فراہم کرتے ہیں۔

EU کے GDPR – جو سخت ڈیٹا پابندیاں عائد کرتا ہے – یا Silicon Valley کی خود ضابطہ کاری کی ترجیح کے برعکس، چین کا فریم ورک ڈیٹا کی حساسیت کے حوالے سے مختلف سطحوں پر درجہ بندی کرتا ہے۔ جس سے ترقی کو روکے بغیر حسب ضرورت تحفظات کی اجازت ملتی ہے۔

یہ عملی ماڈل جنوب مشرقی ایشیا اور مشرق وسطی جیسے خطوں میں توجہ حاصل کر چکا ہے، جہاں پالیسی ساز مصنوعی ذہانت کی صنعتوں کو فروغ دینے کے ساتھ ساتھ غلط استعمال کے بارے میں عوامی خدشات کو دور کرنا چاہتے ہیں۔

قابل توسیع حکمرانی کے فریم ورک کو آزماتے ہوئے، چین عالمی معیارات کو متاثر کر رہا ہے، یہ ثابت کرتے ہوئے کہ اخلاقی مصنوعی ذہانت تیز رفتار  کے ساتھ بقاء پا سکتی ہے۔

“لانگ ٹیل” کو بااختیار بنانا: چھوٹے کاروباروں اور ترقی پذیر منڈیوں کے لیے مصنوعی ذہانت

چینی مصنوعی ذہانت کے ٹولز چھوٹے پیمانے کی معیشتوں کو نئی زندگی دے رہے ہیں، جنہیں روایتی ٹیکنالوجی اکثر نظر انداز کر دیتی ہے۔

 Alibaba کے AliExpress جیسے کراس بارڈر ای کامرس پلیٹ فارمز اب مصنوعی ذہانت سے چلنے والے مارکیٹنگ ٹولز کو شامل کرتے ہیں، جو لاطینی امریکہ اور جنوبی ایشیا کے چھوٹے کاروباریوں کو قیمتوں کا تعین، ترجمہ اور گاہک کے ساتھ تعامل کو بہتر بنانے کے قابل بناتے ہیں۔

ویڈیو گیم تخلیق کار اب Tencent کے مصنوعی ذہانت کے ٹولز کا استعمال کرتے ہوئے متن یا تصاویر سے براہ راست 3D اشیا تیار کر سکتے ہیں، جو آزاد ڈویلپرز کو ان کے خواب کی دنیا کو حقیقت بنانے اور تجارتی کامیابی حاصل کرنے کے قابل بناتے ہیں۔

چین کا موبائل میں مصنوعی ذہانت  کا بڑھتا استعمال اور فروخت میں اضافہ

چینی میڈیا پر شائع ایک رپورٹ کے مطابق 2024 میں عالمی سطح پر موبائل فون کی فروخت میں شیاؤمی صرف ایپل اور سام سنگ سے پیچھے تھا۔

جہاں ایپل کا مارکیٹ کا تقریبا 19 فیصد حصہ تھا اور سام سنگ 18 فیصد کے قریب تھا، وہیں شیاؤمی 14 فیصد تک بڑھ گیا۔ ہواوے اور ویوو نے بھی پچھلے سال چین میں اپیل کے مقابلے میں زیادہ فون فروخت کیے۔ اس کی ایک وجہ ان فونز میں مصنوعی ذہانت کو شامل کرنا ہے، چینی کمپنیاں اس طرف بہت زیادہ توجہ دے رہی ہیں۔

چین تعلیم کے شعبے میں بھی مصنوعی ذہانت کے حوالے سے بھرپور کام کر رہا ہے

چین  مصنوعی ذہانت کے شعبے میں سوچ کر بڑھ کر کا م کر رہا ہے۔ مصنوعی ذہانت کی تعلیم کو بڑھانے کے ساتھ ساتھ، چینی یونیورسٹیاں صنعتوں اور کمپنیوں کے ساتھ تعاون پر بھی بہت زور دیتی ہیں۔

مثال کے طور پر، مشرقی چین کے صوبہ جیانگسو کی نانجنگ یونیورسٹی نے بائیڈو اور ہواوے جیسی معروف ٹیکنالوجی کمپنیوں کے ساتھ مل کر کام کیا ہے تاکہ AI پر مبنی تدریس اور تشخیص کو سپورٹ کرنے والے ذیلی ٹولز تیار کیے جا سکیں۔

اسی طرح، چین کے جنوب مغربی صوبہ سیچوان میں واقع چینگڈو کی ساؤتھ ویسٹ جیاؤ ٹونگ یونیورسٹی نے ایمیزون، جے ڈی ڈاٹ کام اور دیگر کمپنیوں کے ساتھ شراکت کر کے AI کورسز ڈیزائن کیے ہیں تاکہ طلباء کے عملی ہنر کو بڑھایا جا سکے۔

یونیورسٹی نے انڈرگریجویٹ سے ڈاکٹریٹ سطح تک مصنوعی ذہانت کے لیے اعلیٰ ترین صلاحیتوں کی تربیت کا نظام بھی قائم کیا ہے۔

جنوری میں چین کے تعلیمی شعبے کے طویل المدت وژن کو ایک ماسٹر پلان کے اجرا کے ذریعے مزید تقویت ملی، جس میں 2035 تک چین کو تعلیم کے میدان میں ایک اعلیٰ قوم بنانے کا ہدف رکھا گیا ہے۔

چین کے وزیر تعلیم ہوائی جن پینگ نے کہا، “ڈیپ سیک اور روبوٹکس چین کی ٹیکنالوجی کے میدان میں جدت اور صلاحیتوں کی تربیت میں کامیابیوں کی نمائندگی کرتے ہیں، جبکہ یہ ہماری تعلیمی ترقی اور صلاحیتوں کی تربیت پر نئی ذمہ داریاں بھی عائد کرتی ہیں۔”

آن لائن بھرتی کے پلیٹ فارم ژاؤپن کے ایک سروے کے مطابق، فروری میں ڈرون انجینئرز، الگورتھم انجینئرز اور مشین لرننگ کی نوکریوں میں تقریباً 40 فیصد سالانہ اضافہ دیکھا گیا۔

صنعتی رپورٹس کے مطابق، 2030 تک چین میں مصنوعی ذہانت کے ماہرین کی 4 ملین کی کمی کا سامنا ہو سکتا ہے۔ سو کہا جا سکتا ہے کہ اس کی ضرورت واضح ہے۔

ماہرین کا خیال ہے کہ یونیورسٹیوں اور صنعتوں کے درمیان تعاون کو فروغ دینا  افرادی صلاحیتوں کی تربیت اور صنعتی ضروریات کے درمیان خلیج کو ختم کرنے کے ساتھ ساتھ یونیورسٹیوں کی تحقیق کو کمپنیوں کی ٹیکنالوجی کے ذریعے بڑھانے کا اہم ذریعہ  فراہم کرے گا۔

چینی وزیر تعلیم ہوائی نے کہا کہ “کسی بھی ملک کی اعلیٰ تعلیم قومی حکمت عملی کا ایک قیمتی سرمایہ ہے،”  مصنوعی ذہانت اور بائیو ٹیکنالوجی جیسے اہم شعبوں کو قومی حکمت عملی اور ٹیکنالوجی کی ترقی کے ساتھ ہم آہنگ کرنے کے لیے مزید اقدامات کیے جائیں گے۔

ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

وقار حیدر

چین مصنوعی ذہانت.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: چین مصنوعی ذہانت مصنوعی ذہانت کی مصنوعی ذہانت کے کے درمیان کر رہا ہے فراہم کر حوالے سے کرتے ہیں کرتا ہے کے ساتھ کر رہی چین کا چین کی چین کے کے لیے رہی ہے

پڑھیں:

جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے رکنِ پارلیمنٹ  کی نوجوان خاتون کے ساتھ نازیبا ویڈیو سامنے آگئی

لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن)جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے رکنِ پارلیمنٹ  کی نوجوان خاتون کے ساتھ  نازیبا ویڈیو سامنے آنے پر تنازعہ کھڑا ہو گیا۔ پہلے تو اس ویڈیو کو فیک اور آرٹیفیشل انٹیلی جنس کی تخلیق  بتایا گیا لیکن جب ویڈیو اصل نکل آئی تو ممتاز سینئیر سیاست دان نے دوسری شادی  کرنے کا دعویٰ کیا۔ خاتون کے غیر شادی شدہ ہونے کی دستاویز نے سیاستدان کو زیادہ مشکل میں ڈال دیا۔  بنگلہ دیش کی پارلیمنٹ کے رکن، جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے سینئیر سیاستدان غازی نذرالاسلام کی   ایک نوجوان خاتون کے ساتھ ویڈیو وائرل ہونے کے بعد ایک کی مبینہ دوسری شادی کے معاملے پر تنازع  ان کے دوسری شادی کا اعتراف کر لینے کے بعد کم نہیں ہوا۔ اب جماعت اسلامی نے اعلان کیا ہے کہ وہ اس سارے معاملہ کی تحقیقات کروا رہی ہے

عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے بھی تجاوز کر گئی

 بنگلہ دیش کے  میڈیا کے مطابق غازی نذرالاسلام کی سوشل میڈیا پر ایک نوجوان خاتون کے ساتھ ویڈیو وائرل ہو گئی تھی۔ پہلے تو ان کے حامیوں نے اس ویڈیو کو ڈیپ فیک اور آڑٹیفیشل انٹیلیجنس سے بنائی گئی  ویڈیو قرار دیا، لیکن جب  تنقید کرنے والے  خاموش نہیں ہوئے تو بعض لوگوں نے اس ویڈیو کی سافٹ وئیرز کی مدد سے ویریفیکیشن کی۔ فیکٹ چیک کرنے والے ایک  ادارے  نے بتا دیا کہ ویکڈو بالکل اصلی ہے۔  نذر الاسلام کی نوجوان خاتون کے ساتھ  ویڈیو کے مصنوعی ذہانت سے تیار ہونے یا اس میں کوئی تبدیلی کیے جانے کے شواہد نہیں مل۔ اس کے بعد لوگوں کی ساری توجہ ویڈیو   میں شامل افراد اور ان کے باہمی تعلق پر مرکوز ہوگئی۔ جب سوشل میڈیا پر  تنقید کافی برھ گئی تو    جماعت اسلامی کے سینئیر سیاست دان اور رکن پارلیمنٹ نے ویڈیو کلپ میں اپنے ساتھ دکھائی دینے والی نوجوان خاتون کو اپنی بیوی قرار دے دیا۔  غازی نذرالاسلام نے اپنے بیان میں کہا کہ خاتون ان کی دوسری بیوی ہے  اور ان کی شادی 17 جون کو دونوں خاندانوں اور ان کی پہلی بیوی کی رضامندی سے ہوئی تھی۔

چیئرمین یورپی یونین پاک فرینڈشپ فیڈریشن یورپ کی ہیوی انڈسٹریز ٹیکسلا کے چیئرمین سے ملاقات

 نذر الاسلام نے یہ مؤقف اختیار کیا کہ اس وائرل ویڈیو کو خفیہ طور پر ریکارڈ کرکے بھتہ خوری اور سیاسی کردار کشی کےلیے منظرِ عام پر لایا گیا۔ جماعت اسلامی کے اس سینئیر رکنِ پارلیمنٹ کی پہلی بیوی نے اس موقع پر شوہر کا ساتھ دیا اور  ایک ویڈیو بیان میں اپنے عمر رسیدہ  شوہر کے مؤقف کی  تصدیق کی کہ ان کے شوہر نے نوجوان لڑکی مریم بیگم سے دوسری شادی کرلی ہے۔ مریم بیگم نے بھی ایک علیحدہ ویڈیو میں خود کو غازی نذرالاسلام کی بیوی  قرار دیتے ہوئے کہا کہ شادی 17 جون کو دونوں خاندانوں اور نذر الاسلام کی پہلی بیوی کی موجودگی میں ہوئی تھی۔

پی سی بی نے ڈومیسٹک کرکٹ کے نئے سیزن کا شیڈول جاری کر دیا

 بنگلہ دیشی میڈیا  میں سامنے آنے والی رپورٹوں کے مطابق غازی نذرالاسلام اور ان کے خاندان کی تصدیق کے باوجود سوشل میڈیا پر خاتون مریم بیگم  سے متعلق  قانونی دستاویزات منظر عام پر آئی ہیں، جن کی آزادانہ تصدیق نہیں ہوسکی اور نہ ہی رکن پارلیمنٹ یا خاتون اور ان کے اہلخانہ نے دستاویز ات میں موجود تضاد پر کوئی وضاحت دی ہے۔ شادی کے پانچ دن بعد نذر الاسلام نے بیوی کو کنوارا ظاہر کر کے اسکی سرکاری نوکری کی سفارش کی؟ ایک دستاویز میں نذر السلام کے ساتھ نظز آنے والی لڑکی مریم کی ازدواجی حیثیت ’غیر شادی شدہ‘ درج ہے اور اس دستاویز  پر غازی نذرالاسلام کی جانب سے 22 جون، یعنی اپنی بتائی ہوئی مبینہ شادی  کی تاریخ کے پانچ روز بعد، سرکاری ملازمت کے لیے سفارش بھی موجود دکھائی دیتی ہے۔ 

دہشتگردی کے خاتمے تک فتنۃ الخوارج و فتنۃ الہندوستان کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی، فیلڈ مارشل

 بنگلہ دیش کے میڈیا کے مطابق یہ خاتون سرکاری ملازمت کی خواہاں تھیں اور غازی نذرالاسلام نے ان کی درخواست کی سفارش کی تھی۔  غازی نذرالاسلام نے ان تمام کہانیوں نظر انداز کرتے ہوئے ایک اور پیچیدہ کہانی سے پردہ اٹھا دیا جو  دال میں کافی کچھ کالا ہونے کی نشاندہی کرتی ہے۔ عمر رسیدہ سیاستدان نذر الاسلام نے یہ دعویٰ کیا کہ 13 جولائی کو وہ ڈھاکا کے موگ بازار میں ایک دفتر گئے تھے جہاں ان کی دونوں بیویاں بھی موجود تھیں۔

 نذر الاسلام نے الزام لگایا کہ  ڈرائیور، دوسری  کے ماموں اور چند نامعلوم افراد نے انہیں یرغمال بنا کر ایک لاکھ ٹکا بھتہ وصول کیا،  ان لوگوں نے نذر الاسلام کے بقول مزید رقم کا مطالبہ کیا اور  ان لوگوں نے ہی ان کی مریم کے ساتھ خفیہ طور پر نجی ویڈیو ریکارڈ کرکے بعد میں سوشل میڈیا پر پھیلا دی۔  نذر الاسلام کے اس دعوے میں کمزوری یہ ہے کہ ویڈیو کلپ مین نذر الاسلام کو اس خاتون کے ساتھ اپنے کمرے میں بیٹھے اور بوس و کنار کرتے دیکھا جا سکتا ہے۔  لوگ یہ سوال کر رہے ہیں کہ بازار کے کسی دفتر  میں یرغمال بنا کر بھتہ لینے والوں کی رسائی ان کے گھر کے کمرے تک کیسے تھی۔  

پاکستان نے کابل فضائی حملوں پر ایمنسٹی انٹرنیشنل کی رپورٹ مسترد کر دی

  اس سکینڈل کے سوشل میڈیا اور میڈیا میں بہت زیادہ ڈسکس ہونے کے بعد آخر کار جماعت اسلامی بنگلہ دیش نے کہا ہے کہ وہ اس سارے معاملے کی معلومات اکٹھی کر رہی ہے اور حقائق سامنے آنے کے بعد تنظیم کے اندر تادیبی کارروائی کا فیصلہ کیا جائے گا۔ جماعت اسلامی کے اسسٹنٹ سیکریٹری جنرل احسان الحق محبوب زبیر کے مطابق پارٹی میڈیا رپورٹس، رکنِ پارلیمنٹ، ان کی دونوں بیویوں اور خاتون کے والد کے بیانات کا جائزہ لے رہی ہے۔

مزید :

متعلقہ مضامین

  • پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ مضبوط معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے، عرفان سومرو
  • پیپلز پارٹی کا فارم 47 پر حالیہ بیانیہ پی ٹی آئی بیانیے سے مطابقت رکھتا ہے، علی ظفر
  • ’مضبوط رہیں‘، ریپر طلحہ انجم کا بھارتی طلبا کے ساتھ اظہارِ یکجہتی
  • مزہ کرکرا: اے آئی سے بنے جعلی جانوروں نے اصلی ویڈیوز بھی مشکوک بنادیں
  • عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
  • سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور اس کی پاسداری کریں گے: پاکستان
  • تیزی سے بڑھتی آبادی ملک کیلئے سب سے بڑا چیلنج ہے: وزیراعظم
  • جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے رکنِ پارلیمنٹ  کی نوجوان خاتون کے ساتھ نازیبا ویڈیو سامنے آگئی
  • پاکستان کے دفاع، سیکیورٹی کے شعبے میں ٹیکنالوجی کا استعمال قابل فخر ہے، وزیراعظم
  • مصنوعی مٹھاس دماغی صحت کے لیے خطرہ؟ نئی تحقیق میں یادداشت متاثر ہونے کا اشارہ