گوگل کا مصنوعی ذہانت کا ماڈل انٹرنیشنل میتھمیٹیکل اولمپیاڈ میں گولڈ میڈل جیتنے میں کامیاب
اشاعت کی تاریخ: 22nd, July 2025 GMT
گوگل کی مصنوعی ذہانت پر مبنی تحقیقی کمپنی ’ڈیپ مائنڈ‘ نے ریاضی کی دنیا کے سب سے بڑے مقابلے، انٹرنیشنل میتھمیٹیکل اولمپیاڈ (آئی ایم او) میں پہلی بار سونے کا تمغہ جیت کر نئی تاریخ رقم کر دی ہے۔ یہ پہلا موقع ہے کہ کسی مشینی نظام نے اس قدر پیچیدہ ریاضیاتی مسائل کو حل کر کے انسانی ذہانت کے قریب ترین سطح پر کارکردگی دکھائی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: گوگل اے آئی نے زمین پر خلائی مخلوق کے پوشیدہ ٹھکانوں کی نشاندہی کردی
ڈیپ مائنڈ کے جدید ماڈل ’جیمنی ڈیپ تھنک‘ نے الجبرا، کمبی نیٹرکس، جیومیٹری اور نمبر تھیوری سے متعلق 6 میں سے 5 سوالات درست حل کیے اور مجموعی طور پر 42 میں سے 35 پوائنٹس حاصل کیے، جو گولڈ میڈل حاصل کرنے کے لیے درکار اسکور تھا۔ مقابلے کے صدر ڈاکٹر گریگر ڈولنار کے مطابق ماڈل کی جانب سے دیے گئے حل نہایت شفاف، درست اور قابلِ فہم تھے، جس پر آئی ایم او کے ممتحن بھی حیران رہ گئے۔
گزشتہ برس ڈیپ مائنڈ کے دو ماڈلز ’الفا پروف‘ اور ’الفا جیومیٹری 2‘ نے سلور میڈل اسکور حاصل کیا تھا، تاہم اس وقت مکمل نتائج تیار کرنے میں 2 سے 3 دن لگ گئے تھے۔ اس کے برعکس، اس سال جدید ماڈل نے قدرتی زبان میں براہ راست سوالات کا تجزیہ کرتے ہوئے 4.
1/N I’m excited to share that our latest @OpenAI experimental reasoning LLM has achieved a longstanding grand challenge in AI: gold medal-level performance on the world’s most prestigious math competition—the International Math Olympiad (IMO). pic.twitter.com/SG3k6EknaC
— Alexander Wei (@alexwei_) July 19, 2025
ڈیپ مائنڈ نے اس کامیابی کے پیچھے ری انفورسمنٹ لرننگ کی نئی تکنیکوں کو قرار دیا ہے، جن کی مدد سے ماڈل کو کئی مراحل پر مشتمل تجزیہ، مسئلہ حل کرنے اور تھیورم پروونگ کی بہتر تربیت دی گئی۔
ڈیپ مائنڈ کے سی ای او ڈیمس ہسابس نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر اپنے بیان میں کہا کہ یہ ماڈل جلد ایک محدود تعداد میں ماہرینِ ریاضی کو آزمائشی بنیاد پر فراہم کیا جائے گا، اور پھر ’گوگل اے آئی الٹرا‘ سبسکرائبرز کے لیے عام کیا جائے گا۔
دلچسپ امر یہ ہے کہ ایک محقق نے دعویٰ کیا ہے کہ اوپن اے آئی نے بھی ایسا ہی ماڈل تیار کیا ہے جس نے رواں سال کے آئی ایم او سوالات پر مشابہ اسکور حاصل کیا، تاہم وہ باضابطہ طور پر مقابلے میں شریک نہیں ہوا۔
یہ بھی پڑھیں: اوپن اے آئی کا نیا ویب براؤزر گوگل کروم کے لیے چیلنج کیوں؟
ماہرین کے مطابق یہ کامیابی اس بات کی نشاندہی ہے کہ مصنوعی ذہانت اب محض حساب کتاب تک محدود نہیں رہی، بلکہ وہ جلد ہی انسانی محققین کے ساتھ مل کر ایسے پیچیدہ ریاضیاتی مسائل بھی حل کرسکے گی، جو اب تک حل نہیں ہو سکے۔
براؤن یونیورسٹی کے پروفیسر اور ڈیپ مائنڈ سے وابستہ محقق جون ہیوک جونگ نے رائٹرز سے بات کرتے ہوئے کہا، ’جس دن اے آئی قدرتی زبان میں انتہائی مشکل تجزیاتی مسائل کو حل کرنے کے قابل ہوجائے گی، وہ دن انسانی و مشینی اشتراک کے نئے دور کا آغاز ہوگا۔‘
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news انٹرنیشنل میتھمیٹیکل اولمپیاڈ جیمینی چیٹ بوٹ ڈیپ مائنڈ گوگل گولڈ میڈل مصنوعی ذہانت
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: چیٹ بوٹ ڈیپ مائنڈ گوگل گولڈ میڈل مصنوعی ذہانت مصنوعی ذہانت ڈیپ مائنڈ کے لیے
پڑھیں:
شہباز شریف سمیت حکومتی شخصیات کو 21 تحائف ملے، توشہ خانہ کا ریکارڈ جاری
فوٹو: فائلوزیراعظم اور نائب وزیراعظم سمیت مختلف اعلیٰ حکومتی شخصیات کو 21 قیمتی تحائف ملے، کابینہ ڈویژن نے اپریل تا جون توشہ خانہ کا ریکارڈ جاری کردیا۔
کابینہ ڈویژن کے مطابق وزیراعظم اور نائب وزیراعظم توشہ خانہ تحائف وصول کرنے والوں میں شامل ہیں۔ وزیراعظم شہباز شریف کو ایک شوگر باؤل، قیمتی قلم، مسجد نبویﷺ کا ماڈل، شیلڈ اور ٹائی بطور تحفہ ملی۔
دستاویز کے مطابق وزیراعظم کو چینی خلائی اسٹیشن کا ماڈل، ایک کپ، گھڑی اور شیلڈ بھی بطور تحفہ ملی۔
دستاویز کے مطابق نائب وزیراعظم کو چمڑے سے بنا چینی بیلٹ، مصری اسٹیچو کا ماڈل اور کف لنکس بطور تحفہ ملے۔
دونوں اعلیٰ ترین حکومتی شخصیات نے حاصل ہونے والے تحائف توشہ خانہ میں جمع کرا دیے۔ کابینہ ڈویژن کے مطابق وزیراعظم اور نائب وزیراعظم کو ملنے والے تحائف کی قیمتوں کا تخمینہ لگایا جا رہا ہے۔