قائمہ کمیٹی اجلاس، ’بائیولوجیکل اور زہریلے ہتھیاروں سے متعلق کنونشن (عمل درآمد) بل 2025‘ منظور
اشاعت کی تاریخ: 14th, April 2025 GMT
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے امور خارجہ کا اجلاس سینیٹر عرفان الحق صدیقی کی زیر صدارت منعقد ہوا۔
اجلاس میں ’بائیولوجیکل اور زہریلے ہتھیاروں سے متعلق کنونشن (عمل درآمد) بل 2025‘ پاس کردیا گیا۔
اس موقع پر کمیٹی کی رکن شیری رحمان نے کہا کہ اس بل کے تحت ایک سنٹرل اتھارٹی قائم کی جائے گی، اگر اتھارٹی پر اعتراض آتا ہے تو حل کیا ہوگا؟ سنیٹرل اتھارٹی میں صوبائی نمائندگی کا ذکر نہیں۔
یہ بھی پڑھیے: جعفر ایکسپریس پر حملے کے بعد کیا ہوا؟ قائمہ کمیٹی کو دی گئی بریفنگ کی تفصیلات سامنے آگئیں
انہوں نے کہا ہے کہ کسی صوبے کو اس پر اعتراض نہیں ہوگا۔
قائمہ کمیٹی نے وزارت خارجہ سے 30 دن میں قانون کے تحت بننے والے رولز کی تفصیلات مانگ لیں۔
بعدازاں اجلاس میں ’بائیولوجیکل اور زہریلے ہتھیاروں سے متعلق کنونشن (عمل درآمد) بل 2025‘ منظور کرلیا گیا۔
اجلاس میں پاکستان میں دہشتگردی کے واقعات میں مسلسل اضافہ اور افغان سرزمین کا استعمال پر بھی بریفنگ دی گئی۔
پاک افغان تعلقات سے متعلق ایجنڈے پر بریفنگ کو ان کمیرہ کردیا گیا۔ نمائندہ خصوصی برائے افغان امور صادق خان قائمہ کمیٹی کو بریفنگ دے رہے ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
سینیٹ اجلاس سینیٹ قائمہ کمیٹی شیری رحمان.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: سینیٹ اجلاس سینیٹ قائمہ کمیٹی قائمہ کمیٹی
پڑھیں:
رواں مالی سال کے دوران زرعی شعبے کی شرح نمو 2.9 فیصد، رقبہ کم ہونے کے باوجود پیداوار بہتر رہی
رواں مالی سال26-2025 کے دوران زرعی شعبے کی شرح نمو 2.9 فیصد رہی اور قابل کاشت رقبہ 3.6 فیصد کم ہونے کے باوجود پیداوار بہتر رہی اور اہم فصلوں کی مجموعی پیداوار میں 0.6 فیصد اضافہ ہوا ہے۔
قومی اقتصادی سروے 26-2025 کے اہم نکات کے مطابق گندم کاشت رقبہ 4.4 فیصد اور پیداوار4.3 فیصد بڑھ کر 2 کروڑ 96 لاکھ ٹن رہی۔
مالی سال 26-2025 کے دوران چاول کی پیداوار میں 2.8 فیصد اضافہ ہوگیا، گنے کی پیداوار میں 6.2 فیصد اضافہ ہوا اور مجموعی پیداوار8 کروڑ 94 لاکھ ٹن ریکارڈ کی گئی۔
رپورٹ کے مطابق مکئی کی پیداوار میں 2.7 فیصد کمی آئی تاہم کاشت کا رقبہ گزشتہ سال کے برابر رہا، کپاس کی پیداوار میں بھی 0.5 فیصد کمی رہی اور کاشت کا رقبہ بھی 1.5 فیصد کم ہوگیا۔
دیگر فصلوں میں 2.4 فیصد نمواور پیداوار میں ریکارڈ 50.4 فیصد اضافہ ہوگیا، آلو کی پیداوار 27.6 فیصد، آم 11.6 فیصد اور کیلے کی پیداوار 30.8 فیصد بڑھ گئی۔
اسی طرح ہلدی کی پیداوار میں 25.1 فیصد مرچوں کی پیداوار میں 9.2 فیصد، کاٹن جننگ اور متفرق زرعی شعبوں کی شرح نمو صرف 0.1 فیصد رہی اور لائیو اسٹاک شعبے کی شرح نمو 3.8 فیصد رہی۔