8 پاکستانیوں کا قتل، ایران شدید صدمے سے دوچار ہے، ایرانی قونصل جنرل حسن نوریان
اشاعت کی تاریخ: 15th, April 2025 GMT
کراچی میں ایران کے قونصل جنرل حسن نوریان نے کہا ہے کہ 8 بے گناہ پاکستانی شہریوں کے لرزہ خیز قتل پر ایران شدید صدمے سے دوچار اور گہرے رنج میں مبتلا ہے۔
ایران کے قونصل جنرل نے اپنے بیان میں کہا کہ بے حسی پر مبنی یہ تشدد انسانیت کے خلاف گھناونا جرم ہے جس کی سخت ترین الفاظ میں پرزور مذمت کی جانی چاہیے۔
حسن نوریان نے 8 پاکستانی شہریوں کے لواحقین اور پاکستانی عوام سے اظہار تعزیت کیا اور کہا کہ ہماری دعائیں غمزدہ خاندانوں کے ساتھ ہیں۔
ایرانی قونصل جنرل نے مزید کہا کہ دہشتگردی کی ایسی بزدلانہ کارروائیوں کی کسی بھی معاشرے میں جگہ نہیں، ایسی کارروائیاں دو برادرانہ اقوام کے درمیان امن اور ہم آہنگی کے لیے خطرہ بنتی ہیں۔
انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ ہم سب ہر قسم کے تشدد اور انتہاپسندی کے خلاف متحد ہوں۔
Post Views: 3.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
جارحیت کے باوجود مذاکرات کا دروازہ اب بھی کھلا ہے، ایران نے امریکا کو بڑا پیغام دے دیا
تہران: ایران کے ایک سینئر سفارتی عہدیدار نے کہا ہے کہ موجودہ کشیدگی کے باوجود تہران نے سفارت کاری کا دروازہ بند نہیں کیا اور مختلف علاقائی ثالثوں کے ذریعے امریکا کے ساتھ پیغامات کا تبادلہ اب بھی جاری ہے۔
غیر ملکی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ایرانی عہدیدار نے الزام عائد کیا کہ امریکا ایران کے اہم بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنا کر بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کر رہا ہے۔ شہری تنصیبات پر حملے جنگی جرائم کے زمرے میں آ سکتے ہیں اور یہ اقدامات امریکا کی بے بسی کو ظاہر کرتے ہیں۔
سینئر ایرانی سفارتی ذریعے نے کہا کہ ایران نے ہمیشہ مذاکرات اور سفارتی حل کے لیے مثبت رویہ اختیار کیا تاہم امریکا کی دھمکی آمیز پالیسی، جارحانہ اقدامات اور مسلسل فوجی کارروائیوں نے مذاکراتی ماحول کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ایران اب بھی اختلافات کے حل کے لیے سفارتی راستے کو اہم سمجھتا ہے، لیکن ساتھ ہی اپنی قومی سلامتی اور مفادات کے تحفظ کے لیے تمام ممکنہ آپشنز بھی زیر غور رکھے ہوئے ہے۔
ایرانی عہدیدار نے مزید دعویٰ کیا کہ موجودہ بحران کی بنیادی وجہ 17 جون کو ہونے والی مفاہمتی یادداشت سے امریکا کی مبینہ دستبرداری ہے۔ ان کے مطابق واشنگٹن نے اپنے وعدوں پر عمل نہیں کیا، جس کے باعث خطے میں کشیدگی دوبارہ شدت اختیار کر گئی۔
ایرانی حکام کے مطابق اگر امریکا اپنی پالیسی میں تبدیلی لاتا ہے اور معاہدے کی شرائط کا احترام کرتا ہے تو سفارتی پیش رفت کی گنجائش موجود ہے، تاہم موجودہ حالات میں تہران اپنی دفاعی اور سیاسی حکمت عملی پر عمل جاری رکھے گا۔
تاحال امریکی حکومت کی جانب سے ایرانی عہدیدار کے ان تازہ الزامات پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔