اسرائیلی ریاست، نفسیاتی بیماریوں کا شاخسانہ
اشاعت کی تاریخ: 15th, April 2025 GMT
اسلام ٹائمز: اسرائیلی معاشرے کا گہرا مطالعہ اس بات کو واضح کرتا ہے کہ بائبل، تلمودی اور اساطیری حوالہ جات کس قدر اسرائیلی شخصیت، بالخصوص دائیں بازو کی انتہاپسند سوچ کے رویوں سے جُڑے ہوئے ہیں، جس کا نتیجہ صرف تشدد، جبر اور دہشتگردی کی صورت میں نکلا ہے۔ یہ سب اب محض ایک نظریہ نہیں بلکہ ایک تہذیبی رویہ بن چکا ہے، جو اسرائیلی شخصیت کے بنیادی ڈھانچے میں سرایت کر گیا ہے۔ یہ کوئی وقتی یا مجبوری کے تحت اپنایا گیا طرزِ عمل نہیں بلکہ ایک داخلی رجحان ہے۔ تحریر: سیدہ نصرت نقوی
اسرائیلی ریاست کے وجود اور اس کی پالیسیوں کا گہرائی سے مطالعہ کیا جائے تو یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ اس کا رویہ صرف سیاسی یا جغرافیائی مقاصد کے تابع نہیں بلکہ اس میں گہری نفسیاتی پیچیدگیاں کارفرما ہیں۔ صیہونی تحریک کی بنیاد خوف، عدم تحفظ، برتری کے خبط، اور تاریخی مظلومیت کے نفسیاتی ردعمل پر رکھی گئی تھی، جس نے اسے ایک جارحانہ اور خود پرست ریاست میں ڈھال دیا۔ یہودی معاشرے میں انتہا پسندی اور تشدد کے موضوع پر لکھنا صرف ایک علمی یا نفسیاتی کاوش نہیں بلکہ یہ ایک ایسا موضوع ہے جو نفسیات کی حدود سے نکل کر اُن دنیاؤں میں داخل ہو جاتا ہے جہاں نظریاتی، نفسیاتی اور اساطیری عناصر آپس میں گڈمڈ ہو جاتے ہیں۔
اسرائیلی معاشرے کا گہرا مطالعہ اس بات کو واضح کرتا ہے کہ بائبل، تلمودی اور اساطیری حوالہ جات کس قدر اسرائیلی شخصیت، بالخصوص دائیں بازو کی انتہاپسند سوچ کے رویوں سے جُڑے ہوئے ہیں، جس کا نتیجہ صرف تشدد، جبر اور دہشتگردی کی صورت میں نکلا ہے۔ یہ سب اب محض ایک نظریہ نہیں بلکہ ایک تہذیبی رویہ بن چکا ہے، جو اسرائیلی شخصیت کے بنیادی ڈھانچے میں سرایت کر گیا ہے۔ یہ کوئی وقتی یا مجبوری کے تحت اپنایا گیا طرزِ عمل نہیں بلکہ ایک داخلی رجحان ہے۔
جو کوئی بھی "اسرائیل" کو سمجھتا ہے، وہ اس بات سے بخوبی واقف ہے کہ وہاں صرف غیر یہودیوں (یعنی "جینٹائلز") ہی کے لیے نہیں بلکہ بعض یہودیوں کے لیے بھی شدید نفرت اور تشدد کا رجحان موجود ہے۔ یہاں یہ بات واضح ہوتی ہے کہ یہودی تربیت اور سماجی ماحول کا فرد کی شخصیت پر گہرا اثر ہے، جو اُسے دشمنی اور عداوت کے جذبات سے بھر دیتا ہے۔ یہ جذبات بعد میں عملی تشدد کی صورت اختیار کرتے ہیں، جو اکثر فکری شدت پسندی اور عملی انحراف میں ظاہر ہوتے ہیں۔
چند روز قبل اسرائیلی معاشرے میں ایک بڑا اسکینڈل سامنے آیا، جس نے مختلف حلقوں کو ہلا کر رکھ دیا۔ شوشانہ استروک جو کہ انتہاپسند اسرائیلی وزیر برائے آبادکاری اوریت استروک کی بیٹی ہے، ایک ایسی خاتون جو فلسطینیوں کے خلاف اپنی شدید دشمنی اور انتہا پسندی کے لیے مشہور ہے نے انکشاف کیا کہ اُسے اپنے والدین نے جنسی تشدد کا نشانہ بنایا اور اس ظلم کی ویڈیو بھی بنائی گئی۔
اوریت استروک جو کہ انتہائی دائیں بازو کی مذہبی صہیونیت پارٹی سے تعلق رکھتی ہیں، جس کی قیادت وزیر خزانہ بیتسلئیل سموتریچ کرتے ہیں، ان کا دوسروں کو تکلیف پہنچانے کا رجحان صرف مذہبی یا سیاسی نظریات کا نتیجہ نہیں لگتا بلکہ یہ ایک نفسیاتی بیماری کا عکاس محسوس ہوتا ہے، جو صرف فلسطینیوں کے خلاف نہیں بلکہ اُن کی اپنی بیٹی تک کے خلاف بھی ظاہر ہوا۔
یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کیا ذہنی بیماری اور نظریاتی انتہا پسندی کے درمیان کوئی تعلق موجود ہے؟ اس میں کوئی شک نہیں کہ خاندانی، سماجی اور نفسیاتی حالات کسی فرد کو اس نہج پر لے جا سکتے ہیں کہ وہ ایسے گروہوں میں شامل ہوجائے جو انتہا پسند یا منفی نظریات کی ترویج کرتے ہیں۔ ایسے گروہ فرد کے رویے پر گہرے اثرات مرتب کرتے ہیں اور یہ اثرات بعض اوقات لاشعوری طور پر بھی ظاہر ہوتے ہیں، یعنی فرد اپنے نظریات کو عملی شکل دینے کی خواہش میں شدت اختیار کر لیتا ہے۔
اگرچہ یہ کہنا غلط اور خطرناک ہوگا کہ ہر انتہا پسند رویہ ذہنی بیماری کا نتیجہ ہے لیکن ایک غیرجانبدار اور مکمل جائزہ ہمیں یہ سوچنے پر ضرور مجبور کرتا ہے کہ کہیں نہ کہیں کچھ انتہا پسندی نفسیاتی سطح پر کسی بیماری یا پیچیدگی سے بھی جڑی ہو سکتی ہے۔ تاہم یہ بھی حقیقت ہے کہ ذہنی مریضوں کی اکثریت کا انتہا پسندی یا شدت پسند سیاسی تحریکوں سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔
اسرائیلی ریاست اپنے گرد مسلسل خطرات کا حصار قائم رکھتی ہے اور یہ احساس اسے ہر اُس قوم، ملت یا فرد کے خلاف وحشیانہ ردعمل پر اکساتا ہے جو اس کے بیانیے سے اختلاف رکھتا ہو۔ فلسطینیوں کے خلاف غیرمعمولی تشدد، بچوں اور عورتوں تک پر بمباری، بستیوں کی تعمیر، اور عالمی قوانین کی کھلی خلاف ورزیاں دراصل اس اجتماعی نفسیاتی عارضے کا مظہر ہیں جسے ریاستی تحفظ کا نام دے دیا گیا ہے۔ یہ رویہ "خوفزدہ جارح" (paranoid aggressor) کی نفسیاتی کیفیت سے مشابہ ہے، جہاں حملہ محض دفاع نہیں بلکہ تسلط اور استیصال کی نفسیاتی ضرورت بن چکا ہے۔
اسرائیل کی قیادت میں موجود کئی چہرے، جن کا مزاج مذہبی شدت پسندی، نسل پرستی اور تشدد سے لبریز ہے، اس بات کا ثبوت ہیں کہ یہ ریاست صرف ایک سیاسی اکائی نہیں بلکہ اجتماعی نفسیاتی بیماریوں جیسے احساسِ برتری، تعصب، اور pathological narcissism کا شاخسانہ ہے۔ یہ کہنا مبالغہ نہیں ہوگا کہ اسرائیلی ریاست ایک ایسا "ذہنی مریض" ہے جو اپنی نفسیاتی الجھنوں کو گولی، بم اور خونریزی کے ذریعے دور کرنے کی کوشش کر رہا ہے اور دنیا خاموش تماشائی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: اسرائیلی ریاست اسرائیلی شخصیت نہیں بلکہ ایک انتہا پسندی نہیں بلکہ ا کا نتیجہ کرتے ہیں کے خلاف ہیں کہ اس بات اور اس
پڑھیں:
برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
برطانیہ کے 70 سے زائد ارکانِ پارلیمنٹ نے نئے وزیراعظم اینڈی برنہم سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ غزہ میں اسرائیلی کارروائیوں کے حوالے سے اقوامِ متحدہ کے آزاد تحقیقاتی کمیشن کے نتائج کو باضابطہ طور پر تسلیم کریں اور اسرائیل کے خلاف فوری اور مؤثر اقدامات کریں۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق خط میں نشاندہی کی گئی ہے کہ گزشتہ ماہ جاری ہونے والی اقوامِ متحدہ کی آزاد تحقیقاتی رپورٹ میں یہ نتیجہ اخذ کیا گیا تھا کہ غزہ میں اسرائیلی فوج کی کارروائیاں نسل کشی کے زمرے میں آتی ہیں اور رپورٹ میں خاص طور پر اسرائیلی حملوں میں بچوں کو دانستہ طور پر نشانہ بنانے کی تصدیق بھی تھی۔
ارکان پارلیمان نے کھلے خط میں نو منتخب وزیراعظم سے مطالبہ کیا کہ وہ بین الاقوامی عدالتِ انصاف کی جولائی 2024 کی مشاورتی رائے پر بھی عمل درآمد کو یقینی بنانے کے لیے عملی اقدامات کریں۔
برطانوی ارکانِ پارلیمنٹ کے بقول عالمی عدالت نے اسرائیل پر زور دیا تھا کہ وہ فوری طور پر مقبوضہ فلسطینی علاقوں سے اپنی موجودگی ختم کرے، تمام اسرائیلی بستیاں ختم کرے، متاثرہ فلسطینیوں کو معاوضہ ادا کرے اور بے گھر ہونے والے فلسطینیوں کی واپسی میں تعاون کرے۔
عدالت نے اپنی رائے میں یہ بھی کہا تھا کہ دنیا کے تمام ممالک پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ ایسے اقدامات سے گریز کریں جو اسرائیلی قبضے کو برقرار رکھنے یا اس میں معاونت کا سبب بنیں۔
خط میں برطانوی حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ اسرائیل پر مکمل اسلحہ پابندی عائد کی جائے، اسرائیلی حکام کے خلاف پابندیاں لگائی جائیں اور ایسی ہر قسم کی تجارت پر پابندی عائد کی جائے جو مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں قائم اسرائیلی بستیوں کو فائدہ پہنچاتی ہو۔
ارکانِ پارلیمنٹ کا کہنا ہے کہ برطانیہ کو بین الاقوامی قوانین اور انسانی حقوق سے متعلق اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرتے ہوئے واضح اور مؤثر پالیسی اختیار کرنی چاہیے۔
I'm one of 80 MPs & Peers calling on the PM to:
- Recognise the UN’s findings on genocide & implement the ICJ ruling in full
- Impose sanctions including a full arms embargo
- Ban trade that supports Israel’s illegal settlements
End Britain’s complicity in genocide, now. pic.twitter.com/TjtJ0yj2Qq
فلسطین سالیڈیرٹی کمپین کے نائب ڈائریکٹر پیٹر لیری نے ارکانِ پارلیمنٹ کے خط کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا تھا کہ برطانوی حکومت نے طویل عرصے سے نسل کشی کنونشن اور بین الاقوامی عدالتِ انصاف کے مؤقف کو نظر انداز کیا ہے۔
انھوں نے الزام عائد کیا ہے کہ برطانیہ مسلسل ایسی پالیسیاں اپناتا رہا ہے جن سے فلسطینی عوام کے خلاف اسرائیلی کارروائیوں کو عملی یا سفارتی حمایت ملتی رہی۔
خیال رہے کہ اسرائیل غزہ میں نسل کشی کے الزامات کو مسترد کرتا ہے اور مؤقف اختیار کرتا آیا ہے کہ اس کی فوجی کارروائیاں حماس اور دیگر مسلح گروہوں کے خلاف ہیں جبکہ شہری ہلاکتوں سے بچنے کے لیے اقدامات کیے جاتے ہیں۔
واضح رہے کہ اقوامِ متحدہ اور متعدد بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیمیں اسرائیلی دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے غزہ میں بڑے پیمانے پر شہریوں، خصوصاً خواتین اور بچوں کے جانی نقصان پر مسلسل تشویش کا اظہار کر رہی ہیں۔