حافظ نعیم کا سفیرہنگری کو خط، نیتن یاہو کو دورہ کی دعوت پر احتجاج
اشاعت کی تاریخ: 16th, April 2025 GMT
اسلام آباد؍ لاہور (خصوصی نامہ نگار) امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ 20اپریل کو اہل فلسطین سے اظہارِ یکجہتی کے لیے اسلام آباد میں ملک کی تاریخ کا سب سے بڑا مارچ ہو گا۔ 22 اپریل کو پورے پاکستان میں ہڑتال کی جائے گی، دنیا بھر کی اسلامی اور انسانی حقوق کی تنظیموں سے رابطے میں ہیں، یقین ہے کہ اسی روز عالمی سطح پر بھی متفقہ احتجاج کیا جائے گا۔ 18اپریل کو ملتان میں غزہ مارچ کر رہے ہیں۔ امریکا اسرائیلی دہشت گردی کی سپورٹ بند کرے، غزہ میں جنگ بندی کرائے۔ قوم سے ان تمام مصنوعات کے بائیکاٹ کی اپیل کرتے ہیں جس سے اسرائیل کو فائدہ پہنچ رہا ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے اسلام آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ نائب امرا پروفیسر ابراہیم، میاں اسلم، امیر پنجاب شمالی ڈاکٹر طارق سلیم، امیر کے پی وسطی عبدالواسع، امیر ہزارہ عبدالرزاق عباسی، امیر اسلام آباد نصراللہ رندھاوا، امیر راولپنڈی عارف شیرازی، حلیم باچہ و دیگر رہنما بھی ان کے ہمراہ تھے۔ امیر جماعت نے کہا کہ 22 اپریل کو آب پارہ سے امریکی ایمبیسی کی طرف مارچ ہو گا۔ حکومت جماعت اسلامی کے پْرامن احتجاج کو روکنے کی کوشش نہ کرے، فیملیز اور بچوں کے ساتھ احتجاج کیا جائے گا۔ وائٹ ہاؤس کے سامنے احتجاج ہوسکتا ہے تو اسلام آباد میں امریکی سفارتخانے کے باہر احتجاج کیوں نہیں ہوسکتا؟ دریں اثنا حافظ نعیم الرحمان نے پاکستان میں تعینات ہنگری کے سفیر کو خط لکھ کر اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کو اپنے ملک میں مدعو کرنے پر احتجاج کیا اور ہنگری کے انٹرنیشنل کریمنل کورٹ سے علیحدگی پر مایوسی کا اظہار کیا۔
.ذریعہ: Nawaiwaqt
پڑھیں:
عالمی عدالت نے نیتن یاہو کو گرفتار کرنے کا حکم دیا، مگر اس فیصلے کا احترام امریکا سمیت کوئی نہیں کررہا، فضل الرحمان
سربراہ جے یو آئی کا کہنا تھا کہ نیتن یاہو دفاع کی بات کرتا ہے مگر کیا کوئی عام شہریوں پر دفاع میں بمباری کرتا ہے؟ کیا دفاع میں چھوٹے بچوں، خواتین، بوڑھوں اور غیر مسلح لوگوں پر بمباری کی جاتی ہے؟ اسلام ٹائمز۔ جمیعت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ موجودہ حکومت ناکام ہوچکی ہے اور عوام کو کوئی ریلیف نہیں دیا گیا، کے پی میں حکومت کی رٹ کہیں بھی نہیں ہے۔ اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جے یو آئی کی مرکزی مجلس عمومی کا اجلاس 19 اور 20 اپریل کو لاہور میں منعقد ہوا، جے یو آئی فلسطین کی جہدوجہد آزادی کی حمایت بھرپور انداز میں جاری رکھے گی، اسرائیل ناجائز ریاست اس کی حیثیت عرب سرزمینوں پر قابض جیسی ہے، نیتن یاہو دفاع کی بات کرتا ہے مگر کیا کوئی عام شہریوں پر دفاع میں بمباری کرتا ہے؟ کیا دفاع میں چھوٹے بچوں، خواتین، بوڑھوں اور غیر مسلح لوگوں پر بمباری کی جاتی ہے؟
انہوں ںے کہا کہ 50 ہزار سے زائد پُرامن شہریوں کو سفاکیت کا نشانہ بنایا گیا، نیتن یاہو جنگی مجرم ہے عالمی عدالت انصاف نے نیتن یاہو کو گرفتار کرنے کا حکم دیا مگر اس فیصلے کا احترام امریکا سمیت کوئی نہیں کررہا، حکومتیں اس جنگی جرائم کی پشت پناہی کررہی ہیں اقوام متحدہ کا ادارہ انسانی حقوق ہو، جنیوا ہو، یورپی یونین ہو سب جنگی جرائم کی پشت پناہی کررہے ہیں یہ سب ایک صف اور ایک ہی جرم کے مرتکب ہورہے ہیں۔ سربراہ جے یو آئی نے کہا کہ پاکستانی قوم، تاجروں سے اپیل ہے وہ مالی جہاد میں شریک ہوں، معصوم فلسطینیوں کو سفاک ملک کے حوالے نہیں کرسکتے۔
فضل الرحمان نے کہا کہ جے یو آئی کی جنرل کونسل نے مائنز اینڈ منرلز بل مسترد کردیا، بلوچستان اسمبلی میں ہمارے کچھ ممبران نے بل کی حمایت کی، حمایت کرنے والے اراکین سے وضاحت طلب کرلی گئی ہے وضاحت سے پارٹی مطمئن ہوئی تو ٹھیک ورنہ رکنیت معطل کردیں گے۔ مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ کے پی، بلوچستان، سندھ میں بدامنی کی صورتحال ناقابل بیان ہے، مسلح دہشت گرد دندناتے پھر رہے ہیں، کہیں بھی حکومت کی رٹ نہیں ہے، والدین بچوں کو اسکول نہیں بھیج سکتے کاروباری طبقہ پریشان ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ تاجروں سے منہ مانگے بھتے مانگے جارہے ہیں، حکومت اور سیکیورٹی ادارے عوام کے جان و مال کے تحفظ میں ناکام نظر آرہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دھاندلی کے نتیجے میں وفاقی و صوبائی حکومتیں ناکام ہوچکی ہیں، جے یو آئی نے 2018ء اور 2024ء کے انتخابات کو دھاندلی زدہ قرار دیا نتائج مسترد کئے، ان اسمبلیوں کو عوامی نمائندہ نہیں کہہ سکتے، ووٹ عوام کی امانت ہوتی ہے، عوام کے ووٹ اور رائے کو مسترد کرکے من مانے نتائج دے کر سیلکٹڈ حکومتیں مسلط کردی جاتی ہیں، جے یو آئی نے اپنے پلیٹ فارم سے سیاسی جدوجہد جاری رکھے گی۔