اسلام آباد پولیس نے شف شف سے بزرگ باباجی کا علاج کردیا، ویڈیو وائرل
اشاعت کی تاریخ: 16th, April 2025 GMT
سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو وائرل ہو رہی ہے جس میں اسلام آباد پولیس کے اہلکار کو مہروں کے مریض ایک بزرگ شہری کا شف شف کے ذریعے علاج کرتے دیکھا جا سکتا ہے جو مشکل سے چھڑی کے سہارے چل رہے تھے۔
وائرل ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ایک پولیس اہلکار بزرگ سے پوچھتا ہے کہ ان کو کیا تکلیف ہے جس پر بزرگ نے کہا کہ انہیں مہروں کا مسئلہ ہے ۔ پولیس اہلکار انہیں کہتا ہے کہ آپ چل کر دکھائیں۔ اہلکار کے کہنے پر بزرگ شہری چھڑی کے سہارے بمشکل چلتا دکھائی دیتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ’پولیس کا کام پیسے پکڑنا ہی رہ گیا؟‘، شادی پر پیسوں کا تھال پکڑے پنجاب پولیس کے اہلکار کی ویڈیو وائرل
پولیس اہلکار بزرگ شہری کے ہاتھ سے چھڑی لیتا ہے اور ان کی کمر پر ہاتھ رکھ کے بسم اللہ پڑھتے ہوئے شف کہہ کر دم کرتا ہے۔ ایسا کرنے پر بزرگ شہری سیدھا کھڑا ہو جاتا ہے اور ٹھیک سے چلنے لگتا ہے، حتیٰ کے دوڑ لگا کے بھی دکھاتا ہے۔ پولیس والا ان سے پوچھتا ہے کہ آپ کا علاج کیسا ہوا ہے جس پر بزرگ شہری کہتا ہے آپ نے بہت اچھا علاج کیا ہے اور مجھے نئی زندگی دے دی ہے۔
یہ ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی تو صارفین نے اس پر دلچسپ تبصرے کیے۔ صحافی ہرمیت سنگھ نے ویڈیو شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ اسلام آباد پولیس نے شف شف سے بزرگ باباجی کا علاج کردیا جو چلنے پھرنے سے قاصر تھے۔
سجاد احمد لکھتے ہیں کہ اسلام آباد پولیس کے ہاتھ میں شفا ہے ان سے سب کا علاج کرنے کی درخواست ہے۔ جبکہ ایک صارف نے کہا کہ بابا جی بھی معصوم ہیں۔
ہدایت اللہ لکھتے ہیں کہ پاکستان بھی ایسے ہی چل رہا ہے۔ ایک اور سوشل میڈیا صارف نے ویڈیو پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں جہالت ہی جہالت ہے۔
کئی صارفین کا کہنا تھا کہ پاکستان میں ایک سے بڑھ کر ایک فنکار ملے گا۔ ماہا لکھتی ہیں کہ پولیس میں بھی شف شف آ گئی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اسلام آباد پولیس شف شف مہروں کا علاج.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اسلام ا باد پولیس مہروں کا علاج کا علاج ہے کہ ا ہیں کہ
پڑھیں:
اٹلی میں چار پاکستانی زرعی مزدوروں کا قتل، دو پاکستانی شہری گرفتار
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 02 جون 2026ء) اخبار کے مطابق جلی ہوئی گاڑی امینڈولارا نامی گاؤں کے قریب ایک پٹرول پمپ پر ملی، جو کالابریا کے وسیع زرعی علاقے میں واقع ہے۔
اخبار کے مطابق پٹرول پمپ کے سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج میں دو افراد کو منی وین کے دروازے باہر سے بند کرتے اور اس کے اندر آتش گیر مائع پھینکتے ہوئے دیکھا گیا۔
رپورٹ کے مطابق اس کے بعد گاڑی میں آگ بھڑک اٹھی اور دونوں مشتبہ افراد موقع سے فرار ہو گئے۔
فائر بریگیڈ نے آگ بجھانے کے بعد گاڑی کے اندر سے چار لاشیں برآمد کیں۔
مقامی پولیس چیف نے اس اطالوی اخبار سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ’’یہ یقینی طور پر قتل کا واقعہ ہے، اب ہمیں صرف اس کی تفصیلات معلوم کرنا ہیں۔
(جاری ہے)
‘‘
اخبار نے مزید لکھا کہ گزشتہ چند مہینوں کے دوران اس علاقے میں پاکستانیوں کی گاڑیوں اور منی وینز کے نذر آتش کیے جانے کے 14 واقعات پیش آ چکے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق علاقے میں تارکین وطن کے مختلف گروہوں کے درمیان زرعی کام کی تقسیم، رہائشی دستاویزات (ریذیڈنسی پیپرز)، اور رہائش کے مسائل پر کشیدگی پائی جاتی ہے، جسے ممکنہ طور پر اس واقعے کے پس منظر سے جوڑا جا رہا ہے۔
اطالوی حکام اس واقعے کی تحقیقات جاری رکھے ہوئے ہیں تاکہ اکٹھے چار افراد کے اس قتل کے محرکات اور اس کے ذمہ دار افراد کے اس جرم میں کردار کی مکمل طور پر وضاحت ہو سکے۔
ادارت: مقبول ملک