بجٹ میں تنخواہ دار طبقے کے لیے کیا ریلیف ملے گا، مجوزہ تفصیلات سامنے آ گئیں
اشاعت کی تاریخ: 16th, April 2025 GMT
تنخواہ دار طبقے کو ریلیف دینے کے لیے تجاویز کی منظوری آئی ایم ایف سے مشروط ہو گی۔ دوسری جانب بھاری پنشن لینے والے پنشنرز پر بھی 5 فیصد سے 20 فیصد تک ٹیکس کی تجویز کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ آئندہ مالی سال کے وفاقی بجٹ میں تنخواہ دار طبقے کو کیا ریلیف ملے گا، اس حوالے سے مجوزہ تفصیلات سامے آ گئیں۔ وفاقی حکومت کی جانب سے آئندہ مالی سال 26-2025ء کے وفاقی بجٹ میں تنخواہ دار ملازمین کو ریلیف دینے کے لیے قابل ٹیکس آمدن کی حد 6 لاکھ روپے سالانہ سے بڑھانے کا امکان ہے جب کہ ٹیکس سلیبز بھی تبدیل کیے جانے کی توقع ہے۔ تنخواہ دار طبقے کو ریلیف دینے کے لیے تجاویز کی منظوری آئی ایم ایف سے مشروط ہو گی۔ دوسری جانب بھاری پنشن لینے والے پنشنرز پر بھی 5 فیصد سے 20 فیصد تک ٹیکس کی تجویز کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ ایف بی آر کے مطابق آئندہ بجٹ میں صرف نیچے والے سلیبز کو تبدیل کیا جائے گا۔ بجٹ میں زیادہ تنخواہ والے طبقے کے لیے فی الحال کوئی ریلیف کی تجویز نہیں ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ آئندہ مالی سال کے بجٹ میں تنخواہ دار طبقے کو ریلیف دینے کے لیے 3تجاویز زیر غور ہیں، جن میں پہلے سلیب میں ماہانہ 50 ہزار سے زائد تنخواہ والوں کے لیے سالانہ آمدن کی شرح بڑھائے جانے کا امکان ہے۔
قابل ٹیکس آمدنی کی حد 6 لاکھ سے بڑھا کر 8 لاکھ روپے سالانہ تک کیے جانے کی تجویز ہے البتہ حتمی فیصلہ مشاورت کے بعد ہو گا۔ اسی طرح انکم ٹیکس ریٹرن فارم سادہ و آسان بنایا جائے گا اور ٹیکس سلیبز میں تبدیلی کی جائے گی۔ بجٹ میں 6 لاکھ سے 12 لاکھ روپے سالانہ آمدن کے سلیب میں ریلیف بھی دیے جانے کا امکان ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ 8 لاکھ روپے سالانہ تک پنشن آمدنی پر 5 فیصد، 8 سے 15 لاکھ سالانہ آمدنی پر 10 فیصد، 15 سے 20 لاکھ روپے سالانہ آمدنی پر ساڑھے 12 فیصد، 20 سے 30 لاکھ روپے سالانہ آمدنی پر 15 فیصد اور 30 لاکھ روپے سالانہ سے زائد آمدنی پر 20 فیصد ٹیکس کی تجویز ہے۔ ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ ابھی ابتدائی تجاویز ہیں، تاہم اس بارے میں تفصیلی جائزہ اور مشاورت کے بعد تجاویز کو شامل کیا جائے گا۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: کو ریلیف دینے کے لیے تنخواہ دار طبقے کو بجٹ میں تنخواہ دار لاکھ روپے سالانہ کی تجویز
پڑھیں:
پٹرول کی قیمت میں 4 روپے اضافے پر شہری مایوس، فوری ریلیف کا مطالبہ
افشاں رضوان:پٹرول کی قیمت میں 4 روپے فی لیٹر اضافے کے بعد شہریوں نے شدید مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے حکومت سے فوری ریلیف دینے کا مطالبہ کیا ہے۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ مسلسل بڑھتی ہوئی مہنگائی اور ایندھن کی قیمتوں میں اضافے نے ان کی مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا ہے, آمدن میں کوئی اضافہ نہیں ہوا، جبکہ روزمرہ اخراجات دوگنا ہو چکے ہیں۔
شہریوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں پر نظرثانی کرتے ہوئے فوری ریلیف فراہم کیا جائے.
پاکستان کے ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس کی مثبت شرح میں کمی آگئی